شہریت، تاریخ پیدائش سے انکار — تو آخر کس چیز کا ثبوت ہے آدھار؟

AhmadJunaidJ&K News urduApril 29, 2026358 Views


آج کل ملک میں کم وبیش ہر سروس کے لیے آدھار کارڈ مانگا جاتا ہے، لیکن حکومت اور یو آئی ڈی اے آئی بار بار یہ واضح کرتے رہے ہیں کہ یہ تاریخ پیدائش، شہریت یا کئی معاملوں میں پتے کا حتمی ثبوت نہیں ہے۔ ایسے میں سوال پیدا ہوتا ہے کہ آخر آدھار کی قانونی اور عملی حیثیت کیا ہے؟

ریاست شہری سے کہتی ہے کہ اسکیموں، خدمات اور مالی لین دین کے لیے آدھار دیں؛ لیکن جب حقوق، عمر، شہریت یا قانونی حیثیت کا سوال آتا ہے تو کہا جاتا ہے کہ آدھار خاطر خواہ ثبوت نہیں ہے۔ (فوٹو بہ شکریہ: بی ایم این نیٹ ورک / فلکر، سی سی بی وائی – 2.0)

نئی دہلی: ہندوستان میں ’آدھار‘نمبر آج تقریباً ہر شہری کی زندگی کا حصہ بن چکا ہے۔ بینک اکاؤنٹ کھلوانے سے لے کر موبائل سم لینے، راشن حاصل کرنے، ٹیکس ریٹرن بھرنے، پنشن لینے، اسکالرشپ حاصل کرنے اور سرکاری اسکیموں کا فائدہ اٹھانے تک آدھار کی مانگ عام بات ہے۔ لیکن دوسری طرف، وقتاً فوقتاً حکومت، عدالتیں، سرکاری ایجنسیاں اور خودیونیک آئیڈینٹی فکیشن اتھارٹی آف انڈیا(یو آئی ڈی اے آئی)یہ واضح کرتے رہے ہیں کہ آدھار کئی اہم چیزوں کا قانونی ثبوت نہیں ہے۔

تازہ معاملہ اس وقت سامنے آیا جب یو آئی ڈی اے آئی نے پھر واضح کیا کہ آدھار تاریخ پیدائش کا قانونی ثبوت نہیں ہے۔ اگر کسی شخص کی تاریخ پیدائش پر تنازعہ ہو تو اسے الگ دستاویز پیش کرنا ہوگا۔

یو آئی ڈی اے آئی نے کہا کہ آدھار ایکٹ 2016 شناخت قائم کرنے کی بات کرتا ہے، لیکن تاریخ پیدائش کے ثبوت کے طور پر اس کی منظوری کا واضح ذکر نہیں کرتا۔

یعنی جس دستاویز میں کسی شخص کی تاریخ پیدائش درج ہوتی ہے، وہی دستاویز اس تاریخ پیدائش کا حتمی ثبوت نہیں مانا جا رہا۔

یہ پہلا موقع نہیں ہے۔ اس سے پہلے جنوری 2024 میں ایمپلائیز پروویڈنٹ فنڈ آرگنائزیشن (ای پی ایف او) نے آدھار کو تاریخ پیدائش کے ثبوت کی فہرست سے ہٹا دیا تھا۔ ای پی ایف او نے کہا تھا کہ یہ قدم یو آئی ڈی اے آئی کی ہدایات کے بعد اٹھایا گیا ہے۔

اتر پردیش حکومت نے بھی محکموں کو ہدایت دی تھی کہ آدھار کارڈ کو تاریخ پیدائش کے ثبوت کے طور پر قبول نہ کیا جائے۔

سال2025میں یو آئی ڈی اے آئی کے چیف نے لکھنؤ کے ایک پروگرام میں کہا تھا کہ آدھار شہریت، پتے یا تاریخ پیدائش کا ثبوت نہیں ہے۔

یعنی اب تک مختلف سطحوں پر یہ کہا جا چکا ہے کہ آدھار؛

شہریت کا ثبوت نہیں ہے

تاریخ پیدائش کا ثبوت نہیں ہے

کئی معاملوں میں پتے کا حتمی ثبوت نہیں ہے

ڈومیسائل کا ثبوت نہیں ہے

تو پھر سوال اٹھتا ہے کہ آدھار کس چیز کا ثبوت ہے؟

یو آئی ڈی اے آئی کا سرکاری موقف یہ ہے کہ آدھار بنیادی طور پر شناخت کی تصدیق کا ذریعہ ہے۔وہ بھی تب، جب اس کی توثیق کی جائے، جیسے او ٹی پی، بایومیٹرک یا کیو آر کوڈ کے ذریعے۔

دوسرے لفظوں میں، آدھار یہ کہتا ہے کہ یہ شخص وہی ہے جو خود کو ظاہر کر رہا ہے۔ لیکن یہ ضروری نہیں کہ اس کی تاریخ پیدائش، شہریت، مستقل پتہ یا دیگر تفصیلات قانونی طور پر حتمی طور پر ثابت ہو جائیں۔

یہیں سب سے بڑا تضاد نظر آتا ہے۔

کیونکہ عملی طور پر آدھار کو ملک کا سب سے مؤثر شناختی نظام بنا دیا گیا ہے۔ مرکزی حکومت اور مختلف اداروں نے کئی شعبوں میں آدھار کو لازمی یا تقریباً لازمی بنا رکھا ہے، مثلاً؛

پین کارڈ سے آدھار لنک کرنا

انکم ٹیکس ریٹرن جمع کرانا

ایل پی جی سبسڈی

منریگا ادائیگی

راشن نظام (پی ڈی ایس)

اسکالرشپس

پنشن ادائیگی

بینک کے وائی سی

موبائل سم کی تصدیق (کئی معاملوں میں)

ڈی بی ٹی اسکیمیں

سرکاری بھرتی اور مستفیدین کی تصدیق


ریاست گویا شہری سے کہتی ہے کہ اسکیموں، خدمات اور مالی لین دین کے لیے آدھار فراہم کریں؛ لیکن جب حقق، عمر، شہریت یا قانونی حیثیت کا سوال آتا ہے تو کہا جاتا ہے کہ آدھار خاطر خواہ ثبوت نہیں ہے۔


بہار کے ایس آئی آرجیسے اقدامات کے دوران بھی آدھار کے بارے میں سوال اٹھے تھے کہ اگر یہ ملک کا سب سے وسیع شناختی دستاویز ہے تو پھر ووٹر کی تصدیق یا شہریت سے متعلق معاملوں میں اس کی حیثیت غیر واضح کیوں ہے۔

قانونی طور پر دیکھا جائے تو اس کی وجہ آدھار کی بنیادی ساخت میں پوشیدہ ہے۔ آدھار شہریت کا رجسٹر نہیں ہے۔ یہ قومیت کا تعین نہیں کرتا۔ یہ پیدائش کے اندراج کا نظام بھی نہیں ہے۔ یہ بنیادی طور پر ایک ڈیجیٹل شناختی نمبر ہے جسے فلاحی منصوبوں اور شناخت کی تصدیق کے لیے تیار کیا گیا تھا۔

لیکن برسوں میں اسے انتظامی سہولت کے نام پر اتنے شعبوں میں پھیلا دیا گیا کہ عام شہری کے لیے ’آدھار سب کچھ‘بن گیا۔ اب جب محکمے کہتے ہیں کہ یہ فلاں چیز کا ثبوت نہیں ہے تو بھرم پیدا ہوتا ہے۔

تصویر بہ شکریہ:یو آئی ڈی اے آئی ڈاٹ جی او وی ڈاٹ ان

اسی لیے ماہرین کافی عرصے سے کہہ رہے ہیں کہ حکومت کو آدھار کی حدود اور اس کے استعمال دونوں کو واضح طور پر بیان کرنا چاہیے۔ اگر یہ صرف شناخت کا ذریعہ ہے تو اسے شہریت، تاریخ پیدائش یا رہائش کے متبادل کے طور پر پیش نہیں کیا جانا چاہیے۔ اور اگر اسے تقریباً ہر خدمت کے لیے لازمی بنایا جا رہا ہے تو پھر اس کی قانونی حیثیت کے بارے میں وضاحت بھی اتنی ہی ضروری ہے۔

آج صورتحال یہ ہے کہ آدھار سب سے زیادہ استعمال ہونے والا دستاویز ہے، لیکن شاید سب سے زیادہ غلط سمجھا جانے والا بھی۔ شہری کے ہاتھ میں کارڈ ہے، مگر اس پر اب بھی دھند چھائی ہوئی ہے۔

آدھار کے حوالے سے انتباہ

دسمبر 2025 میں آدھار کے بارے میں 200 سے زیادہ ممتاز شہریوں اور 54 حقوق کی تنظیموں نے ایک مشترکہ بیان جاری کرتے ہوئے دنیا کے ممالک سے اپیل کی تھی کہ وہ ہندوستان کے آدھار ماڈل سے محتاط رہیں۔ یہ بیان انسانی حقوق کے دن سے عین پہلے جاری کیا گیا تھا۔

دستخط کنندگان نے کہا کہ عالمی بینک کی آئی ڈی 4 ڈی پہل آدھار کو کینیا، نائجیریا اور یوگنڈا جیسے ممالک کے لیے ایک کامیاب ماڈل کے طور پر پیش کر رہی ہے، جبکہ برطانیہ کے وزیر اعظم کیئر اسٹارمر نے ہندوستان کے دورے کے دوران آدھار کو’بڑی کامیابی ‘قرار دیا تھا۔

بیان میں کہا گیا کہ آدھار ابتدا میں رضاکارانہ بتایا گیا تھا، لیکن آہستہ آہستہ یہ عملی طور پر لازمی بنتا گیا۔ سماجی بہبود کی اسکیموں، راشن، پنشن اور دیگر فوائد تک رسائی کئی جگہوں پر آدھار پر منحصر کر دی گئی۔

دستخط کنندگان نے الزام لگایا کہ آدھار کا مرکزی ڈیٹا بیس شہریوں کی نگرانی، پروفائلنگ اور سماجی کنٹرول کا ذریعہ بن سکتا ہے، خاص طور پر آمرانہ اقتدار کے ہاتھوں میں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ متعدد سرکاری اور نجی ڈیٹا بیس کو آدھار سے جوڑنے سے رازداری اور ڈیٹا سکیورٹی کے خطرات بڑھ گئے ہیں۔

بیان میں یہ بھی کہا گیا کہ آدھار میں درج نام، تاریخ پیدائش، پتے جیسی معلومات میں بڑی تعداد میں غلطیاں موجود ہیں، لیکن انہیں درست کرنے کا عمل مشکل ہے۔ اس کا سب سے زیادہ اثر غریبوں، بزرگوں، معذور افراد اور حاشیے پر موجود برادریوں پر پڑا ہے، جنہیں فلاحی اسکیموں سے باہر ہونے کا خطرہ رہتا ہے۔

ناقدین نے بایومیٹرک تصدیق کی ناکامیوں کو بھی ایک بڑا مسئلہ قرار دیا۔ ان کے مطابق فنگر پرنٹ یا آئرس کی تصدیق نہ ہونے کی صورت میں لوگوں کو راشن، پنشن یا دیگر خدمات سے محروم ہونا پڑا۔

مشترکہ بیان میں یہ بھی کہا گیا تھا کہ آدھار بدعنوانی ختم کرنے کے دعوے پر پورا نہیں اتر سکا، بلکہ نئے نئےمسائل پیدا ہوئے، جیسے شناخت کی دھوکہ دہی، بینکنگ خطرات، لمبی قطاریں، اپڈیٹ کی مشکلات اور شکایات کے ازالے کا کمزور نظام۔

دستخط کنندگان نے یہ الزام بھی لگایا کہ آدھار منصوبے کی شروعات مناسب قانونی ڈھانچے کے بغیر ہوئی اور بعد میں بننے والے قانون میں پارلیامانی نگرانی کے انتظامات کو کمزور کر دیا گیا۔



0 Votes: 0 Upvotes, 0 Downvotes (0 Points)

Leave a reply

Loading Next Post...
Search Trending
Popular Now
Loading

Signing-in 3 seconds...

Signing-up 3 seconds...