فیوچر رائٹ – کیا مظفر نگر کے حوالے سے جوئی سیکو کی کتاب کا عنوان ہی حکومت کی بے چینی کی وجہ ہے؟

AhmadJunaidJ&K News urduJune 14, 2026361 Views


جوئی سیکو کی کتاب ’دی ونس اینڈ فیوچر رائٹ‘ پہلے فرانسیسی میں شائع ہو چکی ہے، اور ہندوستان میں امید کی جا رہی تھی کہ اس کا ہندوستانی  ایڈیشن – انگریزی میں، جلد ہی قارئین کے ہاتھوں میں ہوگا۔ تاہم، اب ایک طرح سے یہ طے ہوگیا ہے کہ اس کے ہندوستانی ایڈیشن  سے قارئین محروم رہ جائیں گے۔

سیکو کی کتاب کا ایک صفحہ

بالآخر، یہ اس آرٹسٹ کا کارنامہ ہے جس نے اپنے فن میں کمال حاصل کیا ہے۔ پیئنگ دی لینڈ، فلسطین اور سیف ایریا گورازدے جیسی اپنی مشہور زمانہ تخلیقات میں انہوں نے دنیا کے تنازعات سے متاثرہ علاقوں کو اس دیانت داری اور حساسیت کے ساتھ  پیش کیا  ہےکہ  یہ  ان کے فن کی تفریدی شناخت بن گئی ہے۔ ان کی ژرف نگاہی، جزئیات نگاری پر عبور اور غیر معمولی مصوری (اسکیچ)ہر کتاب کو فن پارے کا پیرہن عطا کرتی ہے،ایک ایسے فن پارے کا جو لطف  بھی دیتاہے اورفہم و فراست بھی پیدا کرتا ہے۔

اگر جوئی سیکو نے اُن فسادات اور تشدد کے ایک سال بعد، جنہوں نے ہندوستان کی سب سے بڑے صوبے کوجھنجھوڑ کر رکھ دیاتھا، مظفر نگر جانے کی زحمت گوارہ کرتے، تو کیا ہم ان کی تخلیقات کو دیکھنے کے آرزو مند نہ ہوتے؟ ہم دیکھیں گے؟

دہلی کے کتب فروشوں نے اس کتاب کی پیشگی بکنگ لے رکھی تھی اور پینگوئن رینڈم ہاؤس انڈیا نے انہیں یقین دہانی کرائی تھی کہ کتاب گزشتہ سال ’اکتوبر تک‘پہنچ جائے گی۔ پھر جون 2026 آ گیا۔ اب پینگوئن رینڈم ہاؤس انڈیا کے ایک ترجمان سے پتہ چلا ہے کہ کتاب میں ایک ’قابل اعتراض نقشہ‘ہے۔

پہلےکی حکومتیں، کشمیر سے متعلق اپنے اعتراضات کے باوجود، ایسے نقشوں پر مہر لگا دیتی تھیں، ان پر سیاہ اسٹیکر چسپاں کر دیتی تھیں یا متعلقہ حصے کو چھپا دیتی تھیں۔ لیکن اس ناشر کے لیے 2×2 کا ایک نقشہ  ہی پوری کتاب کو خارج کر دینے کی وجہ بن گیا۔ اعتراض کی واحد وجہ یہ تھی کہ اس میں لائن آف کنٹرول (ایل او سی) کی سرحد کو جس انداز میں دکھایا گیا ، وہ قابل قبول نہیں سمجھا گیا۔

یہ صورتحال اس وقت اور بھی عجیب  و غریب محسوس ہوئی، جب جوئی سیکو نے دی وائر کے سدھارتھ بھاٹیہ سے بات چیت  میں بتایا کہ معاملہ صرف ایک نقشے تک محدود نہیں تھا۔ ناشر کتاب کے پانچ صفحات میں تبدیلیاں کرناچاہتے تھے۔ سیکو کے مطابق، وہ اس طرح  کے مطالبات سے ’تنگ آ چکے تھے‘اس لیے انہوں نے کسی بھی طرح کی تبدیلی سے انکار کر دیا۔

کسی کتاب کا ہندوستانی ایڈیشن نہ ہونا اس کی رسائی کو شدید طور پر محدود کر دیتا ہے۔ غیر ملکی ایڈیشن کی قیمت (برطانیہ میں اس کی قیمت 20 پاؤنڈ ہے) بذات خود اس کے قارئین کا دائرہ محدود کر دیتی ہے، اگرچہ بڑے شہروں میں کتاب کی کچھ دکانوں نے اس کی چند کاپیاں منگوائی ہیں اور وہ محدود تعداد میں دستیاب ہیں۔

لیکن سوال یہ ہے کہ آخر ایسی کتاب سےہندوستانی حکومت کو کیا مسئلہ ہو سکتا ہے؟ اور اس سے بھی بڑا سوال یہ ہے کہ پینگوئن رینڈم ہاؤس انڈیا نے حکومت کے ممکنہ اعتراض کا اندازہ لگاتے ہوئے دنیا کے اتنے معروف  اور نامور مصنف کی کتاب شائع نہ کرنے کا فیصلہ کیوں کیا؟

دنیا کی سب سے زندہ جمہوریت کو تو اس بات کا استقبال کرنا چاہیے کہ لوگ اسکیل پیل اور اسکیچ پین کے ساتھ ہندوستان کی کہانی پر روشنی ڈالیں اور اس کے مختلف پہلوؤں کو درج کریں۔ لیکن جیسا کہ فرانسسکا اورسینی ، نتاشا کول اور فلپ اوسیلا جیسے متعدد محققین، جن کے پاس قانونی طور پر ویزا ہونے کے باوجود ہوائی اڈوں پر لمبی اور معاندانہ پوچھ گچھ کے بعد ہندوستان میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دی گئی، نےتجربہ کیا ہے کہ ہندوستان پر ہونے والی اُس تحقیق اوراکیڈمک کام کے حوالے سے ایک خاص طرح کی عدم برداشت موجود ہے جو بی جے پی حکومت کے نظریے سے ہم آہنگی نہیں رکھتی، خصوصی طور پر اس وقت جب محقق ہندوستانی نہ ہو۔

آپ کی ہمت بھی کیسے ہوئی ہندوستان پر تحقیق کرنے کی، اور وہ بھی صرف وہی دہرانے کے بجائے جو پی آئی بی آپ کو بتاتا ہے؟ آپ کی تو قسمت ہی خراب ہے!

تاریخ کو اپنے مطابق تشکیل دینے کی سرکاری کوشش صرف نصابی کتابوں کو گمراہ کن معلومات سے بھرے ہوئے پروپیگنڈہ کتابچوں میں تبدیل کرنے تک محدود نہیں ہے۔ یہ ان تمام کاموں اور مطالعات کے خلاف بھی مزاحمت ہے جو ہندوتوا کی من گھڑت تاریخی داستانوں کو چیلنج کرتے ہیں۔ اور سچائی تو یہ ہے کہ سنجیدہ اور دیانت دار تحقیق کا بیشتر حصہ ایسا کرتا  بھی ہے۔

اس لیے سیکو کے کام پر پہلے اعتراض کی وجہ شاید وہی ہے، جس کا سامنا دوسرے دانشوروں کو امیگریشن کاؤنٹروں پر یا آن لائن نفرت انگیز مہم کی صورت میں کرنا پڑتا ہے۔ سیکو کو اس داستان کی جانب ہماری توجہ مبذول کرنے سے باز رکھا جانا چاہیے، ایک ایسے فساد کی داستان، جس کے زخم اور اس سے وابستہ جذبات کو بی جے پی مقامی سطح پر اپنے سیاسی مفادات کے لیے زندہ رکھنا چاہتی ہے،اوریہ بھی چاہتی ہے کہ اس کا چرچہ عالمی سطح پر نہ ہو۔

مقامی سطح پر اس کا استعمال کرو، لیکن دنیا کے سامنے اس کا ذکر نہ ہونے دو۔

سیکو محض کسی ’بیانیے‘کو جوڑنے یا تشکیل دینے کا کام نہیں کرتے۔ ان کا کام مظفر نگر کے لوگوں کی زندگی میں اس طرح خلا میں  نہیں پہنچا، جیسے بعض اوقات بڑے شہروں کے کچھ معروف صحافیوں کی رپورٹنگ ’پیراشوٹ‘سے پہنچ جاتی ہے۔ سیکو وہاں دھیرے دھیرےپہنچے، قیام کیا، اور دنگے کے ایک سال بعد اس کے نشانوں کو تلاش کرنے اور اُن کے اپنے لفظوں میں،’دنگے کو پکڑنے‘کی کوشش کی۔

انہوں نے اس تشدد کے مستقل اثرات کو قلمبند کیا اور اس کی سیاست کو ان واضح اشاروں کے توسط سے جوڑا، جنہیں نظرانداز کرنا مشکل تھا، مثلاً وہ لوگ جو ایک سال بعد بھی امدادی کیمپوں میں رہنے کو مجبور تھے، اور ان کی کہانیاں اور گواہیاں۔

سیکو کے اندر بکواس اور بے بنیاد باتوں کو پہچاننے کی غیرمعمولی صلاحیت ہے۔ وہ متاثرہ مسلمانوں کے بعض دعوے کے بارے میں اپنے خدشات اور تذبذب کو چھپانے کی کوشش نہیں کرتے، اور نہ ہی جاٹ فریق کے بعض بیانوں کو بغیر سوال کے قبول کرتے ہیں۔ یہ وہی دو کمیونٹی تھی، جو 2013 میں ایک دوسرے کے مقابل آن کھڑی ہوئی تھی، حالانکہ اس سے پہلے وہ برسوں بلکہ دہائیوں تک ساتھ رہتی آئی تھی اور ان کے درمیان ہم آہنگی موجود تھی۔

سیکو کی خوبی یہ ہے کہ وہ واقعات کو بیان کرتے ہوئے ژرف نگاہی کے ساتھ حقائق پر مبنی تفصیلات پیش کرتے ہیں، جس کو ایسے قارئین بھی سمجھ سکتے ہیں جو ہندوستان کے سماجی و سیاسی تناظر سے زیادہ واقفیت  نہ رکھتے  ہوں۔ اور یہی بات اس حکومت کے لیے اضطراب کا باعث ہو سکتی ہے، جو مظفر نگر میں پیش آنے والے واقعات کی تصویر کو دھندلا  کردینا چاہتی ہو۔

بی جے پی حکومت یقینی طور پر ماضی کو یاد رکھنا چاہتی ہے، اور 2013 بھی اس کے حافظے میں محفوظ ہوگا۔ لیکن اس ماضی کو یاد کرنے کا طریقہ وہی ہونا چاہیے جو وہ خود طے کرے، نہ کہ وہ جو سیکو اپنی کتاب میں قلمبند کرتے ہیں۔

لنک

اس کتاب کے لیے سیکو نے ہندوتوا کے متنازعہ پیروکار اورحامی یتی نرسنہانند سے بھی ملاقات کی تھی۔ سیکو کے مطابق، نرسنہانند کھلے عام مسلمانوں کے خاتمے کی وکالت کرتے نظر آتے ہیں، جو کہیں نہ کہیں نسل کشی کے عزائم کی طرف اشارہ کرتا ہے۔

گزشتہ چھ برسوں کے دوران سوشل میڈیا اور عوامی جلسوں میں دیے گئے ان کے بیانوں کی وجہ سے، علاقے سے باہر کے لوگ بھی ان کے نام اور خیالات سے واقف  ہوتے جارہے ہیں۔ سیکو کی یہ پیشکش اس مقصد کو تقویت دے سکتی تھی، جس کے تحت مودی حکومت، خاص طور پر انتخابی لحاظ سے انتہائی اہم اتر پردیش میں، رائے دہندگان کے درمیان مذہبی بنیادوں پر پوری طرح سے تفرقہ انگیز سیاست کو فروغ دیتی رہی ہے۔

لیکن افسوس، یہ سب ملکی ناظرین کے لیے ہے۔ بین الاقوامی پلیٹ فارموں پر حکومت اب بھی خود کو ایک ’زندہ جمہوریت‘کے طور پر پیش کرنے اور یہ پیغام دینے میں مصروف ہے کہ’سب چنگا سی‘۔ بیرون ملک دوروں کے دوران، مثلاً ناروے میں وزیر اعظم کی تقریروں میں استعمال کی جانے والی زبان کئی بار تقریباً نہرویائی رجائیت پسندی کی یاد دلاتی ہے۔

وہاں یوگا، صفر کی دریافت، اور یہ حقیقت کہ یہودیوں اور مسلمانوں کی ہندوستان آمد صدیوں پہلے ہوئی تھی، جیسے حوالے بار بار پیش کیے جاتے ہیں۔ لیکن سیکو کی تیز اور واضح لکیریں ان الگ الگ خانوں کو توڑ دیتی ہیں اور پوری تصویر سامنے لے آتی ہے۔

اپنی کتاب میں سیکو اس کے عنوان کا ذکر کرتے ہوئے بتاتے ہیں کہ مظفر نگر کوئی واحدواقعہ نہیں ہے، بلکہ ایک ایسے سلسلے کی کڑی ہے جس میں تقسیم ہند، ایودھیا اور گجرات جیسے تشدد کے واقعات بھی شامل ہیں۔

سیکو ان واقعات کو اس منصوبے میں پیدا ہونے والی رکاوٹوں کے طور پر دیکھتے ہیں، جسے جدید ہندوستان 1950  سے آگے بڑھانے کی کوشش کرتا رہا ہے؛ ایک ایسے ملک کے طور پر ابھرنے کا منصوبہ، جو برصغیر میں اکثریتی سیاست کے دلدل میں پوری طرح  نہ پھنس کر جمہوری اقدار کی ایک مثال بن سکے۔

مظفر نگر، ایودھیا اور گجرات کے درمیان قائم کیا گیا یہ براہ راست تعلق ہی شاید وہ بات تھی، جس نے پینگوئن رینڈم ہاؤس انڈیا کو سب سے زیادہ ڈرا   دیا۔

مغربی اتر پردیش کے دورے کے بعد جوئی سیکو ایک سوال پر سنجیدگی سے غور کرتے نظرآتے ہیں- کیا کچھ سیاسی جماعتیں اپنے سماجی بنیاد کو زیادہ مستقل بنانے کے لیے جمہوریت اور تشدد کو دانستہ طور پر ملا دیتی ہیں؟

سیکو لکھتے ہیں کہ کس طرح 2002 میں گجرات کے وزیر اعلیٰ کے طور پر نریندر مودی کے دور میں فروغ پانے والےسیاست کا ایک ماڈل 2014 کے بعد پورے ہندوستان میں نظر آنے لگا۔ ممکن ہے کہ یہ ان ’پانچ صفحات‘میں شامل رہا ہو، جن میں تبدیلی کا مطالبہ ناشر نے کیا تھا۔

آخر 2023 میں گجرات تشدد پر بنی بی بی سی کی دستاویزی فلم کے ساتھ کیا ہوا تھا، اور اس کے بعد خود بی بی سی کے ساتھ کیا ہوا، یہ یاد  ہی ہے۔

سیکو کے مطابق، مظفر نگر محض ماضی کا ایک واقعہ نہیں ہے۔ بعض انتہائی بااثر سیاسی قوتوں کے لیے یہ ایک طرح کا مینوئل ہے-معاشرے کو ایک مخصوص انداز میں تقسیم کرنے اور جمہوریت کو مکمل طور پر اکثریتی سمت میں موڑنے کا خاکہ۔

ممکن ہے کہ یہی اصل وجہ ہو جس کے باعث ناشر پیچھے ہٹ گئے اور سیکو سے ان کی کتاب میں تبدیلیاں کرنے کی درخواست کی۔

مظفر نگر کو سمجھنے اور اس کا سنجیدہ مطالعہ کرنے کی ضرورت پر سیکو اس لیے زور دیتے ہیں، تاکہ وہ مستقبل کے لیے ایک اور قابل تقلید نمونہ نہ بن جائے۔ وہ خبردار کرتے ہیں کہ یہ ظاہر کرتا ہے کہ کس طرح انتہائی دائیں بازو کی قوتیں جمہوری نظام پر قبضہ کرنے کا راستہ ہموار کر سکتی ہیں۔

شاید سیکو جس تصویر  کو ہمارے سامنے کھول کر رکھتے ہیں، وہی موجودہ حکومت کے حامیوں کو سب سے زیادہ بے چین کرتی ہے۔

انگریزی میں پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں۔



0 Votes: 0 Upvotes, 0 Downvotes (0 Points)

Leave a reply

Loading Next Post...
Search Trending
Popular Now
Loading

Signing-in 3 seconds...

Signing-up 3 seconds...