ایران کے سابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای 9 جولائی کو سپرد خاک ہوں گے، تعزیتی پروگراموں کا شیڈول جاری

AhmadJunaidJ&K News urduJune 14, 2026362 Views


آیت اللہ علی خامنہ ای کی موت 28 فروری کو ایران پر ہوئے اسرائیلی اور امریکی فضائی حملوں کے پہلے ہی دن ہو گئی تھی۔ اس وقت ان کی عمر 86 برس تھی۔

<div class="paragraphs"><p>تصویر/آئی اے این ایس</p></div><div class="paragraphs"><p>تصویر/آئی اے این ایس</p></div>

i

user
google_preferred_badge

ایران کے مرحوم سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی یاد میں منعقد ہونے والے پروگراموں کا آغاز 4 جولائی سے ہوگا۔ ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق یہ اطلاع ان کی یاد میں قائم کردہ ہیڈکوارٹر کی جانب سے جاری ایک بیان میں دی گئی ہے۔ بیان کے مطابق 4 اور 5 جولائی کو تہران کے ’امام خمینی مصلیٰ‘ میں تعزیتی تقاریب منعقد کی جائیں گی۔ اس کے بعد 6 اور 7 جولائی کو راجدھانی تہران اور وسطی ایران کے شہر قم میں آخری سفر (جنازے کا جلوس) نکالا جائے گا۔ اس کے بعد 9 جولائی کو شمال مشرقی شہر مشہد میں آخری تدفینی تقریب ہوگی۔ اسی روز مرحوم رہنما کو شیعہ مسلمانوں کے آٹھویں امام، امام رضا کے مقدس روضے کے احاطے میں سپرد خاک کیا جائے گا۔

واضح رہے کہ آیت اللہ علی خامنہ ای کی موت 28 فروری کو ایران پر ہوئے اسرائیلی اور امریکی فضائی حملوں کے پہلے ہی دن ہو گئی تھی۔ اس وقت ان کی عمر 86 برس تھی۔ وہ تقریباً 36 سالوں تک اسلامی جمہوریہ ایران کے سپریم لیڈر رہے اور ملک کے سیاسی و مذہبی نظام کا سب سے بااثر چہرہ مانے جاتے تھے۔ جس فضائی حملے میں ان کی موت ہوئی، اس میں تہران میں واقع ان کا مرکزی احاطہ پوری طرح تباہ ہو گیا تھا۔ حملے میں علی خامنہ ای کے 56 سالہ صاحبزادے مجتبیٰ خامنہ ای بھی زخمی ہوئے تھے، جبکہ ان کی اہلیہ اسی حملے میں ہلاک ہو گئی تھیں۔ بعد میں مجتبیٰ خامنہ ای کو ملک کا نیا سپریم لیڈر مقرر کیا گیا اور انہوں نے اپنے والد کی جگہ سنبھالی۔

اپنے طویل دورِ اقتدار کے دوران آیت اللہ علی خامنہ ای نے ایران کو مشرق وسطیٰ میں ایک مضبوط امریکہ مخالف طاقت کے طور پر قائم کیا۔ انہوں نے لبنان کی حزب اللہ جیسی اتحادی تنظیموں کے ذریعے خطے میں ایران کا اثر و رسوخ بڑھایا۔ ملکی سطح پر بھی انہوں نے سخت موقف اپنایا اور حکومت مخالف تحریکوں اور بدامنی کے واقعات پر سخت کنٹرول برقرار رکھا۔ 1989 میں ایران کے سپریم لیڈر بننے والے آیت اللہ علی خامنہ ای اپنے پورے دورِ اقتدار میں امریکہ کے سخت ناقد رہے۔ دوسری طرف کئی امریکی حکومتیں ایران کے جوہری پروگرام پر جاری تنازعہ کا حل نکالنے کی کوشش کرتی رہیں، لیکن کوئی مستقل کامیابی حاصل نہ ہو سکی۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔


0 Votes: 0 Upvotes, 0 Downvotes (0 Points)

Leave a reply

Loading Next Post...
Search Trending
Popular Now
Loading

Signing-in 3 seconds...

Signing-up 3 seconds...