نوئیڈا کی کئی کمپنیوں کے ملازمین اس وقت سراپا تحریک نظر آ رہے ہیں۔ اتر پردیش کی حکومت نے کم از کم تنخواہ میں 3 ہزار اضافہ کرنے کا اعلان ضرور کر دیا ہے، لیکن ملازمین کی ناراضگی ختم نہیں ہوئی ہے۔ اس معاملہ میں کانگریس لگاتار ملازمین کے مطالبات کی حمایت کر رہی ہے اور ان کی تحریک کو حق بہ جانب ٹھہرا رہی ہے۔ کانگریس کا یہ بھی کہنا ہے کہ پارٹی مزدوروں کا استحصال برداشت نہیں کرے گی۔
اس معاملہ میں کانگریس لیڈر اور سابق رکن پارلیمنٹ ادت راج نے ایک پریس کانفرنس کی، جس میں کچھ اہم حقائق سامنے رکھے۔ انھوں نے کہا کہ ’’نوئیڈا میں کل ملازمین کی تحریک ہوئی۔ کچھ دن قبل ہی ہریانہ کے مانیسر میں بھی مظاہرہ ہوا تھا۔ کانگریس نے مزدوروں کے مفاد کے لیے لیبر لاء بنائے، لیکن بی جے پی کی حکومت ان قوانین کو ختم کرتے ہوئے 4 لیبر کوڈ لے آئی۔‘‘ انھوں نے مزید کہا کہ ’’ایک دہائی قبل مزدور ٹریڈ یونینوں سے اپنی بات منوانے کے لیے ہڑتال کرتے تھے، جس سے ملک متاثر ہوتا تھا اور حکومتیں ان سے بات کرتی تھیں۔ لیکن اب ماحول بدل چکا ہے۔ آج ان 4 لیبر کوڈ کی آڑ میں مزدوروں کا استحصال ہو رہا ہے۔‘‘
مزدوروں کے موجودہ مشکل حالات کا ذکر کرتے ہوئے اُدت راج نے کہا کہ ’’نوئیڈا میں مزدوروں کو ہر ماہ تقریباً 12 ہزار روپے تنخواہ ملتی ہے، جس میں 6-5 ہزار روپے کرایہ میں خرچ ہو جاتے ہیں۔ بچے ہوئے پیسوں میں بچوں کی پڑھائی، کھانا اور باقی خرچ پورے کرنے ہوتے ہیں۔‘‘ کانگریس لیڈر نے ایک خاتون مزدور کی حالت زار کا ذکر بھی پریس کانفرنس میں کیا۔ وہ کہتے ہیں کہ ’’میں نے سوشل میڈیا پر ایک خاتون کی ویڈیو دیکھی، جو کہہ رہی تھی کہ وہ اپنے بیمار بچے کو 2 دن کے وقفہ میں دوا دیتی ہے، تاکہ دوا بچی رہے۔‘‘ یہ ذکر کرنے کے بعد انھوں نے سوال کیا کہ کیا یہی امرت کال ہے؟ ساتھ ہی وہ کہتے ہیں کہ ’’کل احتجاجی مظاہرہ کے بعد یوپی حکومت نے تنخواہ میں تھوڑا اضافہ کیا ہے، جس میں مہنگائی بھتہ شامل ہے، لیکن یہ ناکافی ہے۔‘‘
اُدت راج نے مزدوروں کو درپیش مسائل کے لیے مودی حکومت کو ذمہ دار ٹھہرایا اور کہا کہ منریگا کو کمزور بنائے جانے کے سبب مزدوروں کا انحصار ان ملازمتوں پر بڑھ گیا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ’’مزدوروں کا انحصار ان ملازمتوں پر کیوں بڑھا، کیونکہ منریگا نے دم توڑ دیا ہے۔ منریگا کے ہونے سے مزدور کی اتنی بے بسی نہیں ہوتی تھی۔‘‘ انھوں نے یہ بھی کہا کہ ’’بی جے پی حکومت نے وی بی-جی رام جی منصوبہ لانے سے قبل ہی منریگا کو کمزور کرنا شروع کر دیا تھا۔ منریگا کے ختم ہونے سے مزدوروں کا استحصال بڑھا ہے، ان کی تکلیف بڑھی ہے اور صنعت کاروں کا منافع بڑھا ہے۔‘‘
پریس کانفرنس میں اُدت راج نے مزدورں کے ساتھ مالکوں کے رویہ کی بھی تنقید کی۔ انھوں نے کہا کہ ’’ملازمین کی تنخواہ سے پی ایف کے نام پر پیسہ کاٹ لیا جاتا ہے، لیکن کمپنی مالکان کے ذریعہ جمع نہیں کیا جاتا۔‘‘ وہ آگے کہتے ہیں کہ ’’نوئیڈا میں افسران جس طرح ملازمین سے بات کر رہے تھے، صاف نظر آ رہا ہے کہ استحصال کی پوری تیاری ہے۔‘‘ اپنی باتیں رکھنے کے بعد کانگریس لیڈر نے سوال کیا کہ ’’کیا یہی ہے ’وِکست بھارت‘ اور ’سب کا ساتھ، سب کا وِکاس‘؟ ی ایک اخلاقی مسئلہ بھی ہے۔ آخر اتنی کم تنخواہ میں کسی مزدور کا گھر کیسے چل پائے گا؟‘‘
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔






































