
محمد باقر قالیباف نے یہ بات ایک ورچوئل پارلیمانی اجلاس کے دوران کہی، جہاں انہوں نے دوبارہ منتخب ہونے کے بعد اسپیکر کے طور پر اپنے عہدے کا حلف بھی لیا۔ خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایران کے لیے اصل معیار یہ ہے کہ کسی بھی فریق کی جانب سے وعدوں کی تکمیل سے پہلے اس کے عملی نتائج سامنے آئیں۔ انہوں نے زور دیا کہ دشمن کے بیانات اور وعدوں پر اعتماد نہیں کیا جا سکتا۔
ان کا یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب امریکہ اور ایران کے درمیان جاری مذاکرات کے حوالے سے مختلف دعوے اور بیانات سامنے آ رہے ہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حال ہی میں کہا تھا کہ دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات اپنے آخری مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں۔ انہوں نے یہ دعویٰ بھی کیا تھا کہ امریکہ ایران میں موجود افزودہ یورینیم کو اپنے قبضے میں لے گا، تاہم ایران نے اس دعوے کو مکمل طور پر مسترد کر دیا ہے۔






