
ڈی ایم کے کے کارکنوں نے جمعرات، 16 اپریل کو تمل ناڈو کے چنئی میں واقع پارٹی دفتر میں مجوزہ حد بندی بل کی کاپیاں جلا کر احتجاجی مظاہرہ کیا۔ (تصویر: پی ٹی آئی/ آر سینتھل کمار)
نئی دہلی: دس سال پہلے کرنسی تبدیل کرنے کے لیے نوٹ بندی کا اچانک لیا گیا فیصلہ، جس کے اثرات پر بعد میں افسوس بھی دیکھنے کو ملا، کی طرح ہی اب نریندر مودی کی حکومت نے اچانک تین بل پیش کر دیے ہیں۔ نہ کوئی وسیع مشاورت، نہ مکمل معلومات-اور وہ بھی انتخابی ماحول کے درمیان۔ ان بلوں کے ذریعے خواتین ریزرویشن کو لوک سبھا کی توسیع اور نئی حد بندی سے جوڑا گیا ہے۔ ان تینوں بلوں کے پاس ہونے سے ہندوستان کی ساخت پر وسیع اثر پڑ سکتا ہے۔
دی وائر پچھلے کچھ دنوں میں پھیل رہے عام تصورات (متھ) کی تفتیش کر رہا ہے۔
اس خبر کی اشاعت کے بعد بھی اسٹوری کو اپڈیٹ کیا جا سکتا ہے، کیونکہ بے تکے اور بے بنیاد دعوے رکنے کا نام نہیں لے رہے ہیں۔
بے بنیاد دعویٰ نمبر 1: ان تین بلوں کی مخالفت کرنے والے خواتین ریزرویشن کے خلاف ہیں
یہ درست نہیں ہے۔
خواتین ریزرویشن نافذ کرنے کے لیے آئینی ترمیم 2023 میں متفقہ طور پر منظور ہوئی تھی۔ موجودہ بل اچانک لائے گئے ہیں۔
بے بنیاد دعویٰ نمبر 2: اگر یہ بل گر جاتے ہیں تو خواتین ریزرویشن بھی ختم ہو جائے گا
ایسا نہیں ہے۔
اگر یہ بل واپس لے لیے جاتے ہیں یا منظور نہیں ہوتے، تب بھی خواتین ریزرویشن پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔
خواتین ریزرویشن پہلے سے قانون ہے، جو 2026 کی مردم شماری کے اعداد و شمار آنے کے بعد نافذ ہوگا۔ ویسے، مردم شماری کا عمل شروع ہو چکا ہے۔
بے بنیاد دعویٰ نمبر 3: حد بندی (صرف آبادی کی بنیاد پر) کسی ریاست کو نقصان نہیں پہنچاتی
یہ غلط ہے۔ نقصان پہنچاتی ہے۔
اگر 2011 کی مردم شماری کو بنیاد بنا کر نئے انتخابی حلقے طے کیے جاتے ہیں، تو تمل ناڈو، کیرالا، آندھرا پردیش، تلنگانہ، اڑیسہ، پنجاب، ہماچل پردیش، مغربی بنگال اور شمال-مشرق کے تقریباً تمام صوبوں کو نقصان ہوگا۔ وہیں، اتر پردیش، بہار، راجستھان، چھتیس گڑھ، ہریانہ، اتراکھنڈ اور دہلی جیسے ہندی بیلٹ کو فائدہ ملے گا۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ چاہے ان کی نشستوں کی تعداد برائے نام بڑھ جائے، لیکن لوک سبھا میں ان کی آواز کا تناسب کم ہو جائے گا۔
ڈیٹا پروجیکشن اور تصویر: دی ہندو
اتر پردیش، بہار، مدھیہ پردیش، راجستھان، ہریانہ، چھتیس گڑھ، اتراکھنڈ اور دہلی کے پاس فی الحال 543 میں سے 207 نشستیں ہیں۔ یہ تعداد بڑھ کر 336 ہو سکتی ہے، یعنی تقریباً 77 فیصد کااضافہ۔ اس کے ساتھ ہی ان کا حصہ 38.1 فیصد سے بڑھ کر 43.1 فیصد ہو جائے گا۔
وہیں جنوبی ہندوستان کے صوبے-تمل ناڈو، کرناٹک، آندھرا پردیش، تلنگانہ، کیرالا اور پڈوچیری کے پاس فی الحال 132 نشستیں ہیں، جو بڑھ کر صرف 176 ہوں گی، یعنی 33 فیصد کا اضافہ۔
مشرقی ریاستوں کا حصہ 14.4 فیصد سے کم ہو کر 13.7 فیصد رہ جائے گا، جبکہ شمال-مشرق کا حصہ 4.4 فیصد سے کم ہو کر 3.8 فیصد رہ جائے گا۔ مغربی اور غیر ہندی بیلٹ والے علاقوں کی حالت تقریباً پہلے جیسی ہی رہے گی، ایسا دی ہندو اخبار کا تجزیہ ہے۔
باقیوں نے بھی اس طرح کااندازلگایا ہے۔
ڈیٹا پروجیکشن: یوگیندر یادو
بے بنیاد دعویٰ نمبر 4: حکومت کہہ رہی ہے-تمام ریاستوں کی نشستیں 50 فیصد بڑھیں گی
یہ گمراہ کن ہے۔
یہ بات بلوں میں کہیں نہیں لکھی گئی ہے۔ صرف ’ذرائع‘کے حوالے سے کہی جا رہی ہے۔ اوپر سے یہ تمام ریاستوں کے لیے 50 فیصد اضافے جیسا مساوی قدم لگتا ہے، لیکن حقیقت میں ایسا نہیں ہے۔ چاہے ہر ریاست کی نشستیں 50 فیصد بڑھا دی جائیں، مجموعی طور پر اس کا جھکاؤ جنوبی ریاستوں کے خلاف ہی رہے گا۔
بے بنیاد دعویٰ نمبر 5: مردم شماری سے حد بندی کو الگ کرنے میں کیا غلط ہے؟
سب کچھ غلط ہے۔
اب تک حد بندی کو مردم شماری سے جوڑ کر ہی کیا جاتا رہا ہے اور اس کے لیے ایک حد بندی کمیشن طے شدہ عوامی اعداد و شمار کی بنیاد پر کام کرتا ہے۔ اسی عمل نے لوگوں میں اعتماد قائم کیا ہے، اور یہی آئینی نظام بھی ہے۔
آئین میں ’آبادی‘کی تعریف کے تحت نشستوں کی تقسیم کے لیے 1971 کی مردم شماری اور حدود کے تعین کے لیے 2001 کی مردم شماری کو بنیاد مانا گیا تھا۔ اب یہ کہا جا رہا ہے کہ آبادی کی بنیاد وہ مردم شماری ہوگی جسے پارلیامنٹ قانون بنا کر طے کرے گی۔

اس کا مطلب یہ ہوا کہ کس مردم شماری کے اعداد و شمار کو بنیاد بنایا جائے، یہ پارلیامنٹ طے کرے گی۔ اس سے یہ پورا عمل ایگزیکٹو یا اکثریت کی خواہش پر منحصر ہو سکتا ہے اور اس اہم عمل پر وسیع عوامی اعتماد اور قبولیت کم ہو سکتی ہے۔
بے بنیاد دعویٰ نمبر 6: ہر انتخابی حلقے کا حجم برابر کرنے میں کیا مسئلہ ہے؟
ہندوستان ایک وفاقی ڈھانچے والا ملک ہے، جہاں ریاستوں کے درمیان توازن برقرار رکھنا جمہوریت کا ایک اہم وعدہ ہے۔
صرف ہر علاقے کی آبادی برابر کرنے کی بنیاد پر نشستیں طے کرنا ان ریاستوں کو فائدہ دے گا جو اپنی آبادی کو مستحکم نہیں کر پائے ہیں۔ اس سے کچھ خاص علاقوں (جو اتفاق سے کم ترقی یافتہ ہیں، جہاں سماجی و معاشی ترقی محدود رہی ہے اور جہاں بی جے پی کو زیادہ حمایت ملتی ہے) کو زیادہ نشستیں ملیں گی۔ اس سے ان کے پاس طویل مدت تک یہ طے کرنے کی قوت آ سکتی ہے کہ ملک میں حکومت کس کی بنے گی۔
ہندوستان میں اس طرح کے فیصلے لینے کا ایک تسلیم شدہ طریقہ کار ہے، جس کا مقصد وفاقی توازن کو برقرار رکھنا اور ان ریاستوں کو نقصان نہ پہنچانا ہے جنہوں نے آبادی کو قابو میں رکھنے میں کامیابی حاصل کی ہے۔ مثال کے طور پر، مالیاتی کمیشن ریاستوں کو ٹیکس کی تقسیم طے کرتے وقت آبادی کو ایک عامل مانتا ہے، لیکن ساتھ ہی ایسے بندوبست بھی رکھے جاتے ہیں جو آبادی کے کنٹرول اور معاشی ترقی کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔
بےبنیاد دعویٰ نمبر 7: بہت بڑی لوک سبھا— کیا یہ اچھی بات ہے؟
ضروری نہیں کہ بڑا ہونا ہمیشہ بہتر ہو۔
اگر لوک سبھا کی نشستیں بڑھ کر 850 ہو جاتی ہیں، تو یہ راجیہ سبھا کے مقابلے میں تقریباً 3.3 گنا بڑی ہو جائے گی، جبکہ ابھی یہ تناسب 2.2 گنا ہے۔
راجیہ سبھا، جو ریاستوں کی کونسل بھی ہے، اس سے کافی کمزور ہو جائے گی۔ یہ وفاقی توازن کے لیے دوہری چوٹ ہوگی۔ راجیہ سبھا کو اسی لیے بنایا گیا تھا تاکہ ایک متنوع اور بڑے ملک میں غور و فکر کی ایک اضافی سطح اور توازن برقرار رہے۔
مشترکہ اجلاس کی صورت میں بھی لوک سبھا میں اکثریت رکھنے والی پارٹی اپنے بل آسانی سے منظور کروا سکے گی۔
اس کے علاوہ، وزراء کی کونسل کا حجم بھی بڑھے گا۔ 2003 کی آئینی ترمیم کے مطابق وزراء کی کونسل لوک سبھا کی کل تعداد کا 15فیصد ہو سکتی ہے۔ ایسے میں وزراء کی تعداد 81 سے بڑھ کر 122 تک جا سکتی ہے۔
ملک کے نامورصحافی سدھارتھ وردراجن کے مطابق، ’شہنشاہ اور شاہ‘ ممکنہ طور پر خواتین کو ملنے والے 33فیصد ریزرویشن کے حقیقی اثر کو کم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق، 543 نشستوں والی لوک سبھا میں خواتین کو ایک تہائی نشستیں دینے کا مطلب ہوتا کہ پارٹیوں کو بااثر مرد رہنماؤں سے اقتدار کا حصہ خواتین کو دینا پڑتا۔ لیکن نشستوں کی تعداد بڑھا کر یہ یقینی بنایا جا رہا ہے کہ باہوبلی رہنما، جن کے پاس بے پناہ دولت اور سنگین مجرمانہ الزامات ہیں، نہ صرف اپنی جگہ برقرار رکھیں بلکہ ان جیسے مزید لوگ بھی ایوان میں آ سکیں۔ یہ خواتین کو حقیقی شراکت دینے کے بجائے بڑی تعداد میں خواتین کی آمد سے غیر مطمئن طاقتور مردوں کو متوازن کرنے کی کوشش جیسا ہے، کچھ ویسا ہی جیسے ہندوؤں کی جانب سے دلتوں کو مندروں میں داخلہ دینے کے بعد بھی کنٹرول برقرار رکھنے کی کوششیں۔‘
بے بیناد دعویٰ نمبر 8: جب وزیر اعظم’آبادی کے اضافے‘پر تشویش ظاہر کر چکے ہیں، تو زیادہ آبادی والے ریاستوں کو ہی فائدہ کیوں؟
یہ سمجھنا مشکل ہے۔
وزیر اعظم نریندر مودی نے 2019 میں یوم آزادی کے موقع پر’آبادی میں اضافے ‘کو تشویش کا موضوع قرار دیا تھا اور کہا تھا کہ اسے قابو میں رکھنے کے لیے منصوبوں کی ضرورت ہے۔ اس کے اگلے سال، 2020 میں انہوں نے کہا تھا کہ’آبادی کنٹرول حب الوطنی کی ایک شکل ہے‘ اور چھوٹے خاندانوں کی تعریف کی تھی۔
سال 2024کی انتخابی تقریروں میں، بانسواڑہ میں بھی انہوں نے یہ کہا تھا (حالانکہ اس دعوے کو غلط بتایا گیا) کہ پچھلی حکومت زیادہ وسائل’زیادہ بچے پیدا کرنے والوں‘کو دینا چاہتی تھی۔
ہوسکتاہے کہ’آبادی میں اضافے‘کے نعرے صرف کچھ خاص برادریوں کے لیے ہی تھے۔
موجودہ تجویز کو دیکھیں تو واضح ہے کہ اس سے انہی ریاستوں کو زیادہ فائدہ مل رہا ہے جہاں آبادی میں اضافہ زیادہ رہا ہے، جیسے اتر پردیش، بہار، راجستھان اور گجرات۔






