سعودی عرب 22 ہزار روہنگیا کے لیے بنا مسیحا، دلائی بنگلہ دیش کی شہریت

AhmadJunaidJ&K News urduApril 21, 2026360 Views


سعودی حکومت کا کہنا ہے کہ اب بھی بنگلہ دیش سے گئے 69 ہزار روہنگیا پناہ گزیں ان کے یہاں بغیر پاسپورٹ کے مقیم ہیں۔ بنگلہ دیش میں سعودی عرب کے سفیر نے ان سبھی کے لیے فوراً پاسپورٹ بنانے کا مطالبہ کیا ہے۔

<div class="paragraphs"><p>فائل تصویر، ’انسٹا گرام‘</p></div><div class="paragraphs"><p>فائل تصویر، ’انسٹا گرام‘</p></div>

i

user

میانمار سے نکالے گئے 22 ہزار روہنگیا مسلمانوں کے لیے سعودی عرب مسیحا بن کر سامنے آیا ہے۔ سعودی عرب کے کہنے پر بنگلہ دیش نے 22 ہزار روہنگیا پناہ گزینوں کو بنگلہ دیشی پاسپورٹ جاری کیے ہیں۔ اس کی جانکاری خود بنگلہ دیش کے وزیر داخلہ صلاح الدین احمد نے دی ہے۔ صلاح الدین احمد کے مطابق جو لوگ بنگلہ دیش سے قانونی طریقے سے سعودی عرب روزگار کے لیے گئے ہیں، انہیں ہم نے پاسپورٹ دیا ہے تاکہ وہ وہاں بہتر طریقے سے رہ سکیں۔

دوسری جانب سعودی حکومت کا کہنا ہے کہ اب بھی بنگلہ دیش سے گئے 69 ہزار روہنگیا پناہ گزیں ان کے یہاں بغیر پاسپورٹ کے مقیم ہیں۔ بنگلہ دیش میں سعودی عرب کے سفیر نے ان سب کے لیے فوری طور پر پاسپورٹ کا انتظام کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

قابل ذکر ہے کہ سعودی عرب میں تقریباً ایک لاکھ روہنگیا شہری بنگلہ دیش کے ذریعے گئے تھے۔ بغیر پاسپورٹ ان سب کی نگرانی سعودی عرب کے لیے آسان نہیں ہے۔ سعودی عرب چاہتا ہے کہ ان سب کے پاس قانونی دستاویزات ہوں تاکہ انہیں پورے ملک میں آسانی سے ٹریس کیا جا سکے اور وہ بھی بہتر طریقے سے کام کر سکیں۔

سعودی عرب کو یہ خدشہ بھی ہے کہ اگر ابھی بنگلہ دیش انہیں پاسپورٹ نہیں دیتا تو مستقبل میں انہیں واپس بھیجنا مشکل ہو سکتا ہے۔ بنگلہ دیش کسی بھی قیمت پر انہیں قبول نہیں کرے گا، جس سے سعودی عرب کے مسائل بڑھ سکتے ہیں۔ اسی لیے سعودی عرب دباؤ ڈال کر ان سب کے پاسپورٹ بنوانا چاہتا ہے۔ غور کرنے والی بات یہ بھی ہے کہ سعودی عرب ’وژن 2030‘ پر کام کر رہا ہے، جس کے تحت غیر قانونی طور پر مقیم افراد کو ملک سے باہر نکالا جا رہا ہے۔ سعودی حکومت کا کہنا ہے کہ امیگریشن کے حوالے سے سخت قوانین نافذ کیے جائیں گے، ایسے میں تقریباً ایک لاکھ روہنگیا سعودی عرب کے لیے تشویش کا باعث ہیں۔

واضح رہے کہ بنگلہ دیش میں پہلے ہی 10 لاکھ سے زیادہ روہنگیا پناہ گزین موجود ہیں، جن کی وجہ سے خوراک کا بحران بڑھ گیا ہے۔ روہنگیا پناہ گزینوں کے باعث کئی علاقوں میں جرائم میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ بنگلہ دیش کے پاس اتنے وسائل نہیں ہیں کہ وہ ان سب کو مناسب طریقے سے سنبھال سکے، اس لیے وہ نہیں چاہتا کہ مزید پناہ گزین واپس آئیں۔ اس کے علاوہ بنگلہ دیش کو سعودی عرب سے سرمایہ کاری کی ضرورت بھی ہے۔ 2022 میں سعودی عرب نے بنگلہ دیش میں 10 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کا اعلان کیا تھا، لیکن حکومتی عدم استحکام کے باعث یہ ممکن نہ ہو سکا۔ دونوں ممالک کے درمیان تجارتی تعلقات بھی مضبوط ہیں۔

2025 میں بنگلہ دیش نے سعودی عرب سے تقریباً 4 ارب ڈالر کا سامان خریدا، جبکہ باضابطہ طور پر بنگلہ دیش کے 3.5 لاکھ مزدور سعودی عرب میں کام کرتے ہیں۔ اگر بنگلہ دیش سعودی عرب کی بات نہ مانے تو سعودی عرب اس کے خلاف کارروائی کر سکتا ہے، جس سے بنگلہ دیش کی معیشت کو شدید نقصان پہنچ سکتا ہے۔ اس وقت بنگلہ دیش معاشی خطرات کے نازک مرحلے سے گزر رہا ہے۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔




0 Votes: 0 Upvotes, 0 Downvotes (0 Points)

Leave a reply

Loading Next Post...
Search Trending
Popular Now
Loading

Signing-in 3 seconds...

Signing-up 3 seconds...