مغربی بنگال میں ایوان سے سڑک تک ہلچل… سوربھ سین

AhmadJunaidJ&K News urduJune 6, 2026358 Views


ترنمول کی بنیاد میں تقریباً 80 فیصد فلوٹنگ ووٹر تھے۔ ایسے ووٹ تیزی سے یکجا ہوتے ہیں، اور تیزی سے بکھر جاتے ہیں۔ بی جے پی-آر ایس ایس کی یہ سوچ غلط ہے کہ بنگال نے راتوں رات دایاں محاذ نظریہ کو اپنا لیا۔

<div class="paragraphs"><p>ممتا بنرجی اور سویندو ادھیکاری، تصویر سوشل میڈیا</p></div><div class="paragraphs"><p>ممتا بنرجی اور سویندو ادھیکاری، تصویر سوشل میڈیا</p></div>

i

user

google_preferred_badge

حال ہی میں ہوئے مغربی بنگال اسمبلی انتخاب میں بی جے پی-الیکشن کمیشن کے ہاتھوں شرمناک شکست کے بعد، 15 سال تک مغربی بنگال پر حکومت کرنے والی ممتا بنرجی کی ترنمول کانگریس کو آج خستہ حالی کا سامنا ہے۔ حالت یہ ہے کہ بیشتر سیاسی مبصرین اس سوچ میں پڑ گئے ہیں کہ یہ ترنمول کانگریس اگلا انتخاب لڑنے کے قابل بھی بچ پائے گی یا نہیں؟ پارٹی نے خود کو ختم کرنا شروع کر دیا ہے، اگرچہ اس میں دولت اور ’جانچ ایجنسیوں کی طاقت‘ سے لیس بی جے پی نے بھی مدد کی ہے۔ پارٹی کے ایک بڑے منحرف گروہ کو، جس کی قیادت ایک معزول لیڈر کر رہے ہیں، ریاستی اسمبلی میں ’اصلی ٹی ایم سی‘ قرار دے دیا گیا ہے، اور ایسا لگتا ہے کہ برسراقتدار بی جے پی کو ایوان میں کسی حقیقی چیلنج کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔ تاہم سڑکوں پر منظر کچھ اور ہی دکھائی دے رہا ہے۔ کمزور پڑ چکا بایاں محاذ پھر سے متحرک ہونے لگا ہے، اور کانگریس میں بھی نئی جان آتی دکھائی دے رہی ہے، جو آخری بار 5 دہائیاں قبل 1972 اور 1977 کے درمیان اقتدار میں تھی۔ مغربی بنگال میں اپوزیشن کے درمیان جاری موجودہ کھینچ تان ایک کلاسیکی کیس اسٹڈی کی مانند ہے۔

ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے بنگال پر کوئی ’ای-بم‘ گرا دیا گیا ہو۔ نئی اسمبلی میں نشستوں کی تقسیم دیکھ کر لگتا ہے جیسے ٹی ایم سی کی زمین کھسک گئی ہو (بی جے پی: 207، ٹی ایم سی: 80)۔ لیکن یہ یاد رکھنا ضروری ہے کہ ٹی ایم سی کو تب بھی 41 فیصد ووٹ ملے تھے (جبکہ بی جے پی کو 46 فیصد)۔ شکست کے نفسیاتی اثرات اور اس کے بعد ہونے والی انتقامی کارروائیوں کے اثرات کہیں زیادہ گہرے ہیں۔ کولکاتا کی مشہور ’اڈّا‘ ثقافت میں اب یہ بحث نہیں ہو رہی کہ ٹی ایم سی واپسی کر پائے گی یا نہیں، بلکہ یہ سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ کیا وہ باقی بھی رہ پائے گی؟

31 مئی کو حزب اختلاف کے قائد کے طور پر منتخب ہونے والے شوبھن دیب چٹوپادھیائے کی بلائی گئی میٹنگ میں ٹی ایم سی کے 80 نو منتخب اراکین اسمبلی میں سے صرف 20 کی شرکت نے عدم اعتماد اور مایوسی کو واضح کر دیا۔ 3 جون کو پارٹی میں باضابطہ طور پر پھوٹ پڑ گئی، جب 58 باغی اراکین اسمبلی نے پارٹی قانون ساز کونسل پر قبضہ کر لیا اور پارٹی سے نکالے گئے رتبرت بنرجی کو اپنا لیڈر منتخب کر لیا۔ عین اسی وقت اسپیکر رتھیندر بوس نے اس گروہ کو اصلی ٹی ایم سی کے طور پر تسلیم کر لیا، جس سے اس شبہ کو تقویت ملی کہ انہیں بی جے پی کی حمایت حاصل تھی۔ ظاہر ہے بی جے پی ایسی اپوزیشن چاہتی ہے جو اس کے سامنے سر تسلیم خم کرے۔

اسی دوران ریاستی سی آئی ڈی ابھشیک بنرجی کے خلاف لگائے گئے دھوکہ دہی کے الزامات کی تحقیقات کر رہی ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق پارٹی جنرل سکریٹری کی حیثیت سے ابھشیک نے مغربی بنگال اسمبلی کے اسپیکر کو ایک کورنگ میمو لکھا تھا۔ اس میں انہوں نے ٹی ایم سی کے 2 اراکین اسمبلی (رتبرت بنرجی اور سندیپن ساہا) کے دستخطوں کی توثیق کی تھی۔ یہ دونوں اراکین اس گروہ کا حصہ تھے جس نے شوبھن دیب چٹوپادھیائے کو قائد حزب اختلاف منتخب کیا تھا۔ پارٹی سے نکالے گئے اراکین اسمبلی نے اپنی باضابطہ شکایت میں دعویٰ کیا کہ انہوں نے 9 مئی کو پارٹی کے مقننہ اجلاس میں ایک قرارداد پر دستخط کیے تھے، جبکہ 6 مئی کی قرارداد من گھڑت ہے اور اصلی ٹی ایم سی وہی ہیں۔

تاہم یہ بات واضح ہے کہ ٹی ایم سی کا ٹوٹنا خود بخود بی جے پی کے حق میں عوامی حمایت میں تبدیل نہیں ہو سکتا۔ دیہی مغربی بنگال میں کئی دہائیوں تک کام کرنے والی ایک نمایاں این جی او کے ڈائریکٹر کا کہنا ہے کہ ’’ٹی ایم سی کا مسئلہ یہ ہے کہ اس کے حمایتی طبقے میں تقریباً 80 فیصد ’فلوٹنگ ووٹر‘ تھے۔ یعنی ایسے ووٹر جو کسی ایک پارٹی سے مستقل طور پر وابستہ نہیں ہوتے۔ یہ وہ لوگ تھے جو نظریاتی یا تنظیمی سطح پر پارٹی سے جڑے ہوئے نہیں تھے۔ ایسے ووٹ جتنی تیزی سے متحد ہوتے ہیں، اتنی ہی تیزی سے بکھر بھی جاتے ہیں۔ لیکن بی جے پی-آر ایس ایس کی یہ سوچ غلط ہے کہ بنگال نے راتوں رات اپنی بائیں بازو کی روایت ترک کر دی ہے اور مکمل طور پر دائیں بازو کی نظریات کو اپنا لیا ہے۔‘‘

کولکاتا میں ایک خاندان کے لیے کام کرنے والے جنوبی 24 پرگنہ کے پوترا منڈل نے کہا کہ ’’ہم نے ٹی ایم سی کو سبق سکھانے کی امید میں بی جے پی کو ووٹ دیا تھا۔ اب ہمیں احساس ہوا ہے کہ ہم سے غلطی ہوئی۔ میرے گاؤں کے اسکولوں میں اساتذہ نہیں ہیں۔ نوجوانوں کے پاس کوئی روزگار نہیں ہے۔ حکومت کو ان مسائل پر توجہ دینی چاہیے۔ اس کے بجائے وہ فٹ پاتھ فروشوں کو ہٹا رہی ہے، لوگوں کا روزگار چھین رہی ہے اور اس بات پر وقت ضائع کر رہی ہے کہ انّاپورنا امداد کس کو ملے گی۔ ہم خیرات پر زندہ نہیں رہے! ہم راشن کی دکانوں سے ضروری سامان خریدنے کے عادی تھے۔‘‘ منڈل کی باتیں اس دلیل کو تقویت دیتی ہیں کہ انتخابی نتائج بی جے پی کے حق میں ہونے سے زیادہ ممتا حکومت کے خلاف تھے۔ یہ نتائج اپوزیشن قوتوں کے لیے آگے بڑھنے کا ایک نیا موقع بھی فراہم کرتے ہیں۔ مارکسی کمیونسٹ پارٹی اور دیگر بائیں بازو کی پارٹیاں اس بات کو سمجھتی ہیں اور سڑکوں پر نکل آئی ہیں۔ وہ اس وقت فٹ پاتھ فروشوں کی بے دخلی، مویشی پالنے والوں کی بدحالی اور سرکاری ملازمین پر عائد پابندیوں جیسے مسائل پر احتجاج کر رہی ہیں۔

سی پی آئی ایم کے ریاستی سکریٹریٹ کے رکن پلاس داس نے کہا کہ ’’ہم ان مسائل کو مزید بڑے پیمانے پر اٹھائیں گے اور بائیں بازو کی قوتوں کو متحد کرنے کی سمت میں کام کریں گے تاکہ ہماری تنظیم مضبوط ہو سکے۔‘‘ داس نے اپوزیشن کی ’سیاسی جگہ‘ کانگریس کے ساتھ بانٹنے میں کوئی جھجک ظاہر نہیں کی۔ کانگریس ان ٹی ایم سی کارکنوں اور اراکین اسمبلی کے بارے میں تذبذب کا شکار ہے جنہوں نے مبینہ طور پر پارٹی سے رابطہ کیا ہے۔ کانگریس کے سینئر لیڈر عبدالمنان نے ’سنڈے نوجیون‘ سے گفتگو میں کہا کہ ’’اگر پی سی سی نے ٹی ایم سی سے نکالے گئے لوگوں کو پارٹی میں شامل کرنے کا فیصلہ کیا تو وہ ماضی کی غلطیوں کو ہی دہرائے گی۔‘‘

اسے اصلی ٹی ایم سی کہیں یا باقی ماندہ ٹی ایم سی، لیکن ممتا بنرجی کی قیادت والا گروپ بھی سڑکوں پر آ چکا ہے۔ 2 جون کو ممتا نے ایک ریلی سے خطاب کیا، جس میں ٹی ایم سی کے پرانے لیڈران بھی ان کے ساتھ موجود تھے۔ ان میں سے کئی لیڈران کو ابھشیک کے قریبی گروپ نے پارٹی سے باہر کا راستہ دکھا دیا تھا۔ پارٹی نے ’گہرے خود احتساب، کارکردگی کے جائزے اور تنظیمی جانچ‘ کے لیے بلاک سے لے کر ریاستی سطح تک اپنی تمام تنظیمی کمیٹیوں کو تحلیل کر دیا ہے۔ انتخابات سے عین قبل ٹی ایم سی میں شامل ہونے والے معروف سی پی آئی ایم لیڈر عتیق الرحمٰن کہتے ہیں کہ ’’بی جے پی کو اقتدار میں آئے ابھی بمشکل ایک مہینہ ہوا ہے اور ریاست پر فسطائیت کا سایہ چھا گیا ہے۔ اس کا جواب صرف ٹی ایم سی، کانگریس اور لیفٹ کے مشترکہ محاذ کی صورت میں دیا جا سکتا ہے۔‘‘

سی پی آئی (ایم ایل) کے جنرل سکریٹری دیپانکر بھٹاچاریہ کہتے ہیں کہ ’’نئی شکل میں سامنے آ رہی ٹی ایم سی اور کانگریس کے قریب آنے کا امکان موجود ہے۔ لیفٹ زمینی سطح پر تحریکوں کی قیادت کر کے اپوزیشن میں اپنی اہم حیثیت برقرار رکھے گا۔ اگر بنگال کی سول سوسائٹی اپنی سرگرمیوں میں اضافہ کرے تو وہ ایک تیسری قوت کے طور پر ابھر سکتی ہے۔‘‘

(ان پٹ: کنال چٹرجی اور گوتم بھٹاچاریہ)

Follow us: WhatsAppFacebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔




0 Votes: 0 Upvotes, 0 Downvotes (0 Points)

Leave a reply

Loading Next Post...
Search Trending
Popular Now
Loading

Signing-in 3 seconds...

Signing-up 3 seconds...