
کہا جارہا ہے کہ یہ نظام ہریانہ کی ’فیملی شناختی کارڈ‘ اسکیم کی طرز پر تیار کیا گیا ہے، جہاں ایک ہی آئی ڈی کے ذریعے شہریوں کو متعدد خدمات فراہم کی جاتی ہیں۔ مجموعی طور پر’دیو بھومی فیملی ایکٹ‘ کو ریاست میں ڈیجیٹل گورننس کو مضبوط بنانے اور سرکاری اسکیموں کو مزید موثر بنانے کی سمت اہم قدم ثابت ہونے کا دعویٰ کیا جا رہا ہے۔






