ٹوٹے خوابوں کی کہانی ہے نیٹ پرچہ لیک سانحہ…رشمی سہگل

AhmadJunaidJ&K News urduMay 31, 2026362 Views


وہ این ٹی اے کی طلبہ کے تئیں دوراندیشی کی کمی اور تحقیقی صلاحیتوں کے فقدان پر بھی تنقید کرتی ہیں۔ ان کے مطابق، ’’این ٹی اے کو ایک قانونی اور خودمختار ادارہ بنایا جانا چاہیے جو پارلیمنٹ کے سامنے جواب دہ ہو۔ اگر اسے آئینی حیثیت دی جائے تو اسے ان منسلک اسکولوں اور مراکز کے خلاف براہِ راست کارروائی کا اختیار مل سکے گا جو امتحانات کے انعقاد میں بے ضابطگیوں یا غلط سرگرمیوں میں ملوث پائے جائیں۔ فی الحال وہ این ٹی اے کے سامنے جواب دہ نہیں ہیں۔‘‘

نلسر (این اے ایل ایس اے آر) یونیورسٹی آف لا کے سابق وائس چانسلر فیضان مصطفیٰ کا کہنا ہے، ’’ہمارے جیسے بڑے ملک میں کم از کم تین، چار یا پانچ امتحانات ہونے چاہئیں، تاکہ اگر کوئی طالب علم ایک امتحان میں اچھی کارکردگی نہ دکھا سکے تو اسے دوسرے امتحان میں بیٹھنے کا موقع ملے اور اس کا ایک سال ضائع نہ ہو۔‘‘

اس پورے امتحانی نظام میں جرائم پیشہ عناصر کی دراندازی کا خطرہ مسلسل موجود ہے۔ ماہرین تعلیم کا کہنا ہے کہ اس شعبے میں بے حد بڑی رقم شامل ہے۔ سالانہ 60 ہزار کروڑ روپے کے کاروبار سے بڑھ کر کوچنگ صنعت کا حجم اب تقریباً 1.5 لاکھ کروڑ روپے تک پہنچ چکا ہے۔ اس سے غیر اخلاقی اور مجرمانہ سرگرمیوں کی حوصلہ افزائی کا خدشہ بڑھ جاتا ہے، جس کے باعث یہ بحران مزید گہرا ہوتا جا رہا ہے اور فی الحال اس کا کوئی آسان حل دکھائی نہیں دیتا۔

0 Votes: 0 Upvotes, 0 Downvotes (0 Points)

Leave a reply

Loading Next Post...
Search Trending
Popular Now
Loading

Signing-in 3 seconds...

Signing-up 3 seconds...