’آپریشن مہادیو‘ کے تحت پاکستان کی دہشت گرد تنظیم لشکر طیبہ کے 3 دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا گیا۔ اس کارروائی نے نہ صرف پہلگام حملے کے متاثرین کو انصاف دلایا بلکہ 20 اکتوبر 2024 کو ہونے والے گگن گیر دہشت گردانہ حملے میں جان گنوانے والوں کو بھی انصاف فراہم کیا۔ پہلگام حملہ کی جانچ کے دوران قومی تحقیقاتی ایجنسی (این آئی اے) گگن گیر حملے سے اس کا تعلق ثابت کرنے میں کامیاب رہی، جس میں 7 افراد ہلاک ہوئے تھے۔
بیلسٹک جانچ سے معلوم ہوا کہ گگن گیر اور پہلگام سے برآمد کیے گئے کارتوس ایک ہی ’ایم-4 کاربائن‘ سے چلائے گئے تھے۔ یہ اسلحہ ان سیکورٹی فورسز نے برآمد کیا تھا جنہوں نے ’آپریشن مہادیو‘ انجام دیا تھا۔ 20 اکتوبر 2024 کو پاکستانی دہشت گردوں نے جموں و کشمیر کے گگن گیر میں اسٹریٹجک زیڈ-موڑ غار کے قریب اے پی سی او انفراٹیک کے مزدوروں کے کیمپ پر حملہ کیا۔ دہشت گردوں نے ڈائننگ میس کے اندر فائرنگ کی، جس میں ایک ڈاکٹر سمیت 7 افراد مارے گئے۔ تحقیقات سے پتہ چلا کہ دونوں حملے ایک ہی ماڈیول نے انجام دیے تھے۔ این آئی اے کو جانچ کے دوران معلوم ہوا کہ دونوں حملوں کی منصوبہ بندی اور انہیں ہدایت دینے والے لوگ (ہینڈلرز) ایک ہی گروپ سے تعلق رکھتے تھے۔
قابل ذکر ہے کہ لشکر طیبہ کی ذیلی تنظیم ’دی ریزسٹنس فرنٹ‘ نے پہلے پہلگام حملے کی ذمہ داری قبول کی، لیکن بعد میں اس سے انکار کرنے کا فیصلہ کیا۔ ایسا اس لیے کیا گیا کیونکہ تنظیم کو ہندوستان کی جانب سے سخت جوابی کارروائی کا خوف تھا۔ دعویٰ واپس لینے کے باوجود ہندوستان نے ’آپریشن سندور‘ انجام دیا، جس کے نتیجے میں دہشت گردی کے ڈھانچے کو مکمل طور پر تباہ کر دیا گیا۔ ایک افسر کے مطابق پاکستان کی براہ راست شمولیت پہلے ہی ثابت ہو چکی تھی اور اس مرتبہ دی گئی سزا بھی کافی سخت تھی۔
این آئی اے کو یہ بھی معلوم ہوا کہ گگن گیر حملے کا ملزم فیصل جٹ عرف سلیمان ہی پہلگام حملے میں بھی ملوث تھا۔ اسے اور اس کے 2 ساتھیوں حبیب طاہر عرف چھوٹو اور حمزہ افغانی کو 28 جولائی 2025 کو سیکورٹی ایجنسیوں کی جانب سے ’آپریشن مہادیو‘ کے دوران ہلاک کر دیا گیا۔ اس آپریشن کے بعد سیکورٹی فورسز نے دہشت گردوں کے قبضے سے 2 اے کے-47 رائفلز اور ایک ایم-4 کاربائن برآمد کی۔ این آئی اے کی تحقیقات میں ڈیجیٹل فارنسک شواہد، سی سی ٹی وی فوٹیج، بیلسٹک رپورٹس، آئی پی ٹریکنگ اور سوشل میڈیا ریکارڈز کی بنیاد پر ان دونوں حملوں میں پاکستان کے براہ راست کردار کو واضح طور پر سامنے لایا گیا۔
این آئی اے کی جانچ میں ایک ایسا نمونہ بھی سامنے آیا جو 2023 سے جموں و کشمیر میں دیکھا جا رہا تھا۔ یہ ’دی ریزسٹنس فرنٹ‘ کا وہی ماڈیول تھا جس نے وادی میں دیگر حملے بھی انجام دیے تھے۔ آپریشن مہادیو میں ہلاک کیے گئے تینوں پاکستانی دہشت گرد 2023 سے وادی میں سرگرم تھے۔ وہ حملے کرتے اور پھر اگلے حملے کی ہدایت ملنے تک گھنے جنگلات میں چھپ جاتے تھے۔ 21 دسمبر 2023 کو پونچھ ضلع میں فوجی قافلے پر ہونے والے حملے کے لیے بھی یہی ماڈیول ذمہ دار تھا، جس میں 5 فوجی ہلاک ہوئے تھے۔ 4 مئی 2024 کو پونچھ کے شاہ ستار-سنائی علاقے میں فضائیہ کے قافلے پر حملہ کیا گیا، جس میں ایک جوان جان سے ہاتھ دھو بیٹھا۔ 9 جون 2024 کو ریاسی ضلع میں شیو کھوڑی سے واپس آنے والے زائرین سے بھری ایک بس پر دہشت گردوں نے فائرنگ کی۔ ان تمام حملوں کی ذمہ داری لشکر طیبہ کے ’دی ریزسٹنس فرنٹ‘ نے قبول کی تھی۔
ایک افسر کے مطابق ان تمام حملوں کا طریقہ تقریباً ایک جیسا تھا۔ یہ تینوں دہشت گرد دراندازی کے ذریعے وادی میں داخل ہوئے اور مسلسل روپوش رہے۔ وہ وقفہ وقفہ سے حملے کرتے تھے اور سیکورٹی فورسز سے بچنے کے لیے گھنے جنگلات کا سہارا لیتے تھے۔ چونکہ وہ وادی کے ماحول میں پوری طرح گھل مل چکے تھے، اس لیے وہ گگن گیر اور پہلگام جیسے علاقوں میں حملے کرنے کے عادی ہو چکے تھے۔ آپریشن مہادیو کے دوران برآمد کیے گئے موبائل ڈاٹا سے ان تمام حملوں کے پس پردہ طریقۂ کار اور ان کے باہمی تعلقات کا بھی انکشاف ہوا۔
’دی ریزسٹنس فرنٹ‘ کے ان دہشت گردوں کو لشکر طیبہ کا ایک کارندہ ساجد جٹ عرف علی بھائی خفیہ اور انکرپٹڈ مواصلاتی ذرائع کے ذریعے ہدایت دے رہا تھا۔ جٹ ’لنگڑا‘ کے نام سے بھی جانا جاتا ہے اور اس کا نام انتہائی مطلوب دہشت گردوں کی فہرست میں شامل تھا۔ اسے جموں و کشمیر میں دہشت گردانہ سرگرمیوں کو دوبارہ فعال کرنے کی ذمہ داری سونپی گئی تھی۔ انٹیلی جنس بیورو (آئی بی) کے ایک افسر کے مطابق ’دی ریزسٹنس فرنٹ‘ کے لیے کارروائیوں کی منصوبہ بندی میں اس کا مرکزی کردار تھا اور اس نے وادی میں کئی کامیاب کارروائیوں کو انجام دینے میں بھی اہم کردار ادا کیا تھا۔
Follow us: WhatsApp, Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔




































