گوگل کے شریک بانی سرگئی برن نے غصے میں عطیہ کر دیے 4.77 کروڑ روپے!

AhmadJunaidJ&K News urduMay 23, 2026358 Views


’اوورپیڈ سی ای او ٹیکس‘ کو لے کر سان فرانسسکو میں بڑی سیاسی کشمکش جاری ہے۔ آئندہ 2 جون کو وہاں کے ووٹر 2 مختلف ٹیکس تجاویز ’میژر سی‘ اور ’میژر ڈی‘ پر ووٹ ڈالیں گے۔

<div class="paragraphs"><p>گوگل، تصویر آئی اے این ایس</p></div><div class="paragraphs"><p>گوگل، تصویر آئی اے این ایس</p></div>

i

user

google_preferred_badge

گوگل کے شریک بانی سرگئی برن نے امریکہ میں جاری ٹیکس بحث کے درمیان ایک بڑا اور حیران کرنے والا قدم اٹھایا ہے۔ رپورٹس کے مطابق برن نے سان فرانسسکو میں مجوزہ نئے کاروباری ٹیکس قانون کی مخالفت میں تقریباً 5 لاکھ ڈالر یعنی 4.77 کروڑ روپے کا عطیہ دیا ہے۔ یہ رقم اس سیاسی کمیٹی کو دی گئی ہے جو ’اوورپیڈ سی ای او ٹیکس‘ نامی تجویز کی مخالفت کر رہی ہے۔ اس ٹیکس تجویز کو لے کر سان فرانسسکو میں بڑی سیاسی کشمکش جاری ہے۔ آئندہ 2 جون کو وہاں کے ووٹر 2 مختلف ٹیکس تجاویز ’میژر سی‘ اور ’میژر ڈی‘ پر ووٹ ڈالیں گے۔

’میژر سی‘ کو کاروباری تنظیموں اور بزنس گروپس کی حمایت حاصل ہے۔ اس کے تحت چھوٹے تاجروں کو ٹیکس میں راحت دینے کی بات کہی گئی ہے۔ اس تجویز میں چھوٹے کاروباروں کے لیے ٹیکس چھوٹ کی حد 50 لاکھ ڈالر سے بڑھا کر 75 لاکھ ڈالر کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ اس کے بدلے بڑی کمپنیوں پر ٹیکس کا بوجھ بڑھ جائے گا۔

دوسری جانب ’میژر ڈی کافی‘ تنازعات کا شکار ہے۔ اسے ’اوورپیڈ سی ای او ٹیکس‘ کہا جا رہا ہے۔ اس تجویز میں کمپنیوں کے سی ای او اور ملازمین کی تنخواہوں کے فرق کی بنیاد پر ٹیکس مقرر کرنے کی بات کی گئی ہے۔ خاص بات یہ ہے کہ اس میں صرف سان فرانسسکو ہی نہیں بلکہ کمپنی کے عالمی سطح پر موجود ملازمین کی تنخواہیں بھی شامل کی جائیں گی۔

مزدور تنظیموں اور ترقی پسند گروپوں کا کہنا ہے کہ بڑی اور امیر کمپنیوں کو زیادہ ٹیکس ادا کرنا چاہیے تاکہ شہر کی معاشی حالت مضبوط ہو سکے۔ تاہم کاروباری گروپس کا دعویٰ ہے کہ اس سے کمپنیاں سان فرانسسکو چھوڑ سکتی ہیں اور ملازمتوں پر منفی اثر پڑ سکتا ہے۔

سرگئی برن اسی معاملے پر ناراض بتائے جا رہے ہیں۔ رپورٹس کے مطابق انہوں نے صرف مخالفت کے لیے ہی نہیں بلکہ ایک متبادل کاروبار دوست تجویز کے لیے بھی مالی مدد فراہم کی ہے۔ برن کی مجموعی دولت تقریباً 260 ارب ڈالر بتائی جاتی ہے۔ کچھ عرصہ قبل انہوں نے اپنی رہائش کیلیفورنیا سے منتقل کر کے نیواڈا میں لیک ٹاہو کے قریب بنا لی تھی۔ خیال کیا جاتا ہے کہ نیواڈا میں ریاستی ٹیکس نہ ہونے کی وجہ سے یہ فیصلہ معاشی اعتبار سے فائدہ مند ثابت ہوا۔

برن نے حال ہی میں ایک عوامی بیان میں کہا تھا کہ وہ سوشلزم کے مخالف ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کا خاندان 1979 میں سوویت یونین سے فرار ہو کر امریکہ آیا تھا اور انہوں نے سوشلزم کے نقصانات کو قریب سے دیکھا ہے۔ برن کے مطابق وہ نہیں چاہتے کہ کیلیفورنیا بھی اسی راستے پر چلے۔ اب اس پورے معاملے نے امریکہ کے ٹیک سیکٹر میں ایک نئی بحث شروع کر دی ہے۔ بہت سے لوگوں کا ماننا ہے کہ سلیکان ویلی کے ارب پتی اب کھل کر سیاست میں مداخلت کر رہے ہیں، خاص طور پر اس وقت جب نئی پالیسیاں ان کے کاروبار اور دولت کو متاثر کرتی ہوں۔

واضح رہے کہ سان فرانسسکو پہلے ہی خالی دفاتر، کمپنیوں کی نقل مکانی اور معاشی چیلنجوں سے نبرد آزما ہے۔ ایسے میں آنے والی یہ ووٹنگ صرف مقامی سیاست کے لیے نہیں بلکہ پوری امریکی ٹیک صنعت کے لیے بھی انتہائی اہم سمجھی جا رہی ہے۔

Follow us: WhatsAppFacebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔




0 Votes: 0 Upvotes, 0 Downvotes (0 Points)

Leave a reply

Loading Next Post...
Search Trending
Popular Now
Loading

Signing-in 3 seconds...

Signing-up 3 seconds...