کسانوں کے مسائل کو نئی شناخت فراہم کر رہا اروند شکلا کا ’نیوز پوٹلی‘

AhmadJunaidJ&K News urduMay 23, 2026358 Views


جس طرح کی رپورٹنگ اروند شکلا کرتے ہیں، وہ صحافی اور کسانوں کے درمیان بھروسہ کا مطالبہ کرتی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ کئی بار فیلڈ رپورٹنگ کے دوران خواتین اپنے مسائل ظاہر کرنے میں جھجک اور شرم محسوس کرتی ہیں۔

<div class="paragraphs"><p>’نیوز پوٹلی‘ کے بانی اروند شکلا</p></div><div class="paragraphs"><p>’نیوز پوٹلی‘ کے بانی اروند شکلا</p></div>

i

user

google_preferred_badge

انگریزی میں ایک کہاوت ہے ‘Actions speak louder than words’، یعنی ’آپ کا عمل، باتوں سے بڑھ کر بولتا ہے‘۔ دنیا میں ایسے لوگ تو بہت مل جاتے ہیں جو باتیں بڑی بڑی کرتے ہیں، لیکن جب عمل کی باری آتی ہے تو وہ راہِ فرار اختیار کر لیتے ہیں۔ قابل غور بات یہ ہے کہ زندگی میں کامیابی ’بڑی بڑی باتیں‘ کرنے والوں کو نہیں ملتی، بلکہ انھیں ملتی ہے جو خاموشی کے ساتھ عمل کو انجام دیتے ہیں۔ اروند شکلا ایک ایسی ہی شخصیت کا نام ہے۔ وہ کام کرنے پر یقین رکھتے ہیں، اور وہ بھی جوش و جنون کے ساتھ۔ کام بھی ایسا جو نہ صرف محنت کا مطالبہ کرتا ہے بلکہ صبر کا امتحان بھی لیتا ہے۔ وہ تقریباً 2 دہائیوں سے صحافت سے منسلک ہے۔ ان کا بیشتر کام ایسے ایشوز پر رہا جنھیں مین اسٹریم میڈیا ادارے نظر انداز کرتے ہیں، یعنی زراعت، کسان منڈی اور کسانوں سے جڑے اہم مسائل۔ یقیناً یہ ایسا شعبہ ہے جس پر ایمانداری سے چند صحافی ہی بات کرتے ہیں۔ کسانوں کی خودکشی کے بارے میں خبریں آتی رہتی ہیں، خرابیٔ موسم یا قدرتی آفات کی وجہ سے فصلیں برباد ہونے کی بھی جانکاری دی جاتی ہے، لیکن کسانوں کے بنیادی مسائل پر ثمر آور گفتگو محال ہی ہے۔ یہ ذمہ داری اروند شکلا نے اٹھائی اور ’نیوز پوٹلی‘ کے نام سے ویب سائٹ و یوٹیوب چینل شروع کر کسانوں کے مسائل کو نئی شناخت دینا شروع کیا۔

ہم ہیں کامیاب-10: کسانوں کے مسائل کو نئی شناخت فراہم کر رہا اروند شکلا کا ’نیوز پوٹلی‘ہم ہیں کامیاب-10: کسانوں کے مسائل کو نئی شناخت فراہم کر رہا اروند شکلا کا ’نیوز پوٹلی‘

فیلڈ رپورٹنگ کے دوران ایک کسان سے بات چیت کرتے ہوئے اروند شکلا

’نیوز پوٹلی‘ کی بنیاد اروند شکلا نے 2022 میں رکھی، اور تب سے لے کر اب تک ان کی زندگی محنت و مشقت کی ایک داستان ہے۔ اتر پردیش کے بارابنکی سے تعلق رکھنے والے اروند شکلا ایک کسان کے بیٹے ہیں، اس لیے کھیتی-کسانی کی پریشانیوں اور کسانوں کے حقیقی مسائل پر ان کی گہری نظر ہے۔ صحافت کے اس سفر میں انھوں نے ’ہندوستان‘، ’امر اجالا‘، ’نئی دنیا‘، ’ٹوٹل ٹی وی‘، ’سماچار پلس‘ جیسے اداروں میں کام کیا، لیکن دیہی ہندوستان کی کہانیاں سامنے لانے کا آغاز 2014 میں اُس وقت ہوا جب ’گاؤں کنکشن‘ کے ساتھ جڑے۔ یہاں کام کرتے ہوئے اروند شکلا نے کھیتی کسانی اور دیہی ایشوز پر لگاتار سنجیدہ رپورٹنگ کی۔ ایسی اسٹوریز پر انھیں تعریف بھی ملتی تھی اور حوصلہ افزائی بھی ہوتی تھی۔ پھر بھی وہ اکثر کسانوں کی زندگی، ان کے مسائل اور زراعت کو درپیش مشکلات کو سامنے لانے کے لیے ایک پلیٹ فارم کی ضرورت محسوس کرتے تھے۔ وہ چاہتے تھے کہ ایک پلیٹ فارم ہو جو پوری طرح اس شعبہ کے لیے وقف ہو۔ ’نیوز پوٹلی‘ اسی سوچ کا نتیجہ ہے۔ لیکن اس کے لیے اروند شکلا کو کئی قربانیاں دینی پڑیں۔

ملازمت چھوڑ کر اروند شکلا نے جب خود مختار ’نیوز پوٹلی‘ کی بنیاد ڈالی تو ان کے رفقائے کار اور دوستوں نے روکا، ان سے کہا کہ یہ پاگل پن ہے، بہت جوکھم والا کام ہے۔ یہ بھی سمجھایا گیا کہ بیوی اور 2 بچوں کی پرورش پر منفی اثر پڑے گا۔ ایسے میں حوصلہ بڑھایا اروند شکلا کی شریک حیات سادھنا شکلا نے، جو ان کے اٹھائے گئے قدم کی اہمیت سے بہت اچھی طرح واقف تھیں۔ انھوں نے حوصلہ بڑھانے کے ساتھ ساتھ ’نیوز پوٹلی‘ کا سفر تنہا شروع کرنے والے اپنے شوہر کو ہر ممکن مدد بھی پہنچائی۔ مثلاً مالی مشکلات کا جب سامنا ہوا تو سادھنا نے ملازمت اختیار کی تاکہ بچوں کی تعلیم اثر انداز نہ ہو۔ اروند بتاتے ہیں کہ جب انھوں نے ’نیوز پوٹلی‘ شروع کی تو ان کے پاس 21 دن کی تنخواہ اور 72 ہزار روپے بونس کے علاوہ کچھ بھی نہیں تھا۔ وہ سوچ رہے تھے کہ فری لانس جرنلزم کے ذریعہ حاصل پیسوں سے وہ اپنا خواب پورا کر لیں گے، لیکن ایک وقت ایسا آیا جب بچوں کی فیس جمع نہ ہونے کے سبب اسکول سے نام کٹ گیا۔ پھر بھی انھوں نے قدم پیچھے نہیں کھینچے، کیونکہ سادھنا کی ہمت افزائی اور ان کی ملازمت و قربانیوں نے ارادہ کو کبھی کمزور نہیں پڑنے دیا۔

ہم ہیں کامیاب-10: کسانوں کے مسائل کو نئی شناخت فراہم کر رہا اروند شکلا کا ’نیوز پوٹلی‘ہم ہیں کامیاب-10: کسانوں کے مسائل کو نئی شناخت فراہم کر رہا اروند شکلا کا ’نیوز پوٹلی‘

مشہور اداکار عامر خان کے ساتھ اروند شکلا اور ان کی شریک حیات سادھنا

اروند شکلا نے ’نیوز پوٹلی‘ کا یوٹیوب چینل شروع کیا، تو اس کی وجہ یہ تھی کہ ویڈیوز کے ذریعہ لوگوں تک اپنی بات بہ آسانی پہنچا سکتے تھے۔ خاص طور سے ناخواندہ کسانوں کو ان کے مسائل کا حل بتانے، ماحولیاتی اثرات کی جانکاری دینے یا سرکاری پالیسیوں سے انھیں واقف کرانے کے لیے ویڈیو اسٹوریز بہت اہم تھیں۔ لیکن مالی مسائل ہر قدم پر پیچھا کر رہے تھے۔ انھوں نے تو ایک وقت اپنے والد سے یہاں تک کہہ دیا تھا کہ اگر ’نیوز پوٹلی‘ کو چلانے کے لیے ان کے حصے کی زمین فروخت کرنی پڑے، تو بھی پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ کیونکہ وہ جانتے تھے کہ اگر یہ پلیٹ فارم کسانوں تک پہنچ گیا، تو انھیں کئی طرح کے مسائل سے چھٹکارا مل سکتا ہے۔ پھر انھیں ایک بہت بڑی راحت تب ملی، جب 2022 کے نصف آخر میں ’پلتزر سنٹر‘ سے گرانٹ حاصل ہوا۔ خاص طور سے گنا کسانوں پر کی گئی اروند کی اسٹوریز نے عام لوگوں کو بہت متاثر کیا۔ ’پلتزر سنٹر‘ کی ویب سائٹ پر ان کی گراؤنڈ رپورٹس موجود ہیں، جن میں بڑی کمپنیوں کے ذریعہ گنا کسانوں کو موسمیاتی شدتوں کے رحم و کرم پر چھوڑے جانے، ہندوستان کی خواتین گنا کسانوں کی بچہ دانی نکالے جانے اور گنے کی کھیتی سے منسلک تارکِ وطن مزدوروں کے استحصال کی داستانیں پیش کی گئی ہیں۔ یہ اسٹوریز آبدیدہ کر دینے والے ایسے زمینی حقائق کو سامنے لاتے ہیں، جن کے بارے میں کم ہی لوگوں کو معلوم ہے۔

ہم ہیں کامیاب-10: کسانوں کے مسائل کو نئی شناخت فراہم کر رہا اروند شکلا کا ’نیوز پوٹلی‘ہم ہیں کامیاب-10: کسانوں کے مسائل کو نئی شناخت فراہم کر رہا اروند شکلا کا ’نیوز پوٹلی‘

فیلڈ رپورٹنگ کے دوران فرصت کے لمحات گزارتے اروند شکلا (درمیان میں)

دراصل جس طرح کی رپورٹنگ اروند شکلا کرتے ہیں، وہ صحافی اور کسان یا زرعی مزدور کے درمیان بھروسہ کا مطالبہ کرتی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ کئی بار فیلڈ رپورٹنگ کے دوران لوگ کھل کر اپنی بات نہیں رکھ پاتے۔ خاص طور سے خواتین اپنے مسائل ظاہر کرنے میں جھجک اور شرم محسوس کرتی ہیں۔ مثلاً مہاراشٹر کی ایک 15 سالہ گنا مزدور سے جب انھوں نے بات کی، تو وہ اپنے مسائل کھل کر کیسے بتا سکتی تھی۔ وہ 6 ماہ کی حاملہ تھی اور گاؤں میں کام نہ ہونے کے سبب ملحق ریاست کرناٹک میں گنا کٹائی کرنے جانا چاہتی تھی۔ وہاں اسے ایک جھونپڑی میں بچے کی ولادت کا سامنا کرنا ہوتا، جہاں کوئی طبی سہولت بھی نہیں ہوتی۔ ایسی باتیں ہر کسی سے نہیں بتائی جا سکتی ہیں، خصوصاً صحافیوں سے تو بالکل بھی نہیں۔ اسی طرح خاتون گنا کسانوں کی بچہ دانی نکالے جانے کی اسٹوری بھی ’بھروسہ‘ پر ہی مرکوز تھی۔ اروند شکلا کی خصوصیت یہ ہے کہ وہ زمین سے جڑے ہوئے شخص ہیں اور ان کے اندر اپنائیت کا جذبہ کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب وہ زرعی مزدوروں سے بات کرتے ہیں تو ایک الگ اپناپن نظر آتا ہے۔ اروند بھی اس بھروسے کو قائم رکھتے ہوئے رپورٹنگ کے وقت خاص خیال رکھتے ہیں کہ انھیں کسی طرح کا نقصان نہ پہنچنے پائے۔

خوش آئند بات یہ ہے کہ اروند شکلا کے یوٹیوب چینل ’نیوز پوٹلی‘ (جو اپنے 4 سال مکمل کر چکا ہے) پر اس وقت 2.88 لاکھ سبسکرائبرس ہو چکے ہیں اور تقریباً 2000 ویڈیو اسٹوریز اس پر ڈالی جا چکی ہیں، جن پر 8.5 کروڑ ویوز حاصل ہوئے ہیں۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ جو قربانیاں اروند شکلا اور ان کے اہل خانہ نے دی ہیں، اس کا ثمر ملنا شروع ہو چکا ہے۔ اروند اب ملک کی تقریباً 15 ریاستوں میں پورے شد و مد کے ساتھ فیلڈ رپورٹنگ کر رہے ہیں۔ ان کی ایک ٹیم بھی تیار ہو چکی ہے جس میں تقریباً ایک درجن لوگ شامل ہیں۔ اروند شکلا خود کو خوش نصیب مانتے ہیں، کیونکہ ٹیم کے جو بھی رکن ان کے ساتھ جڑے، وہ اپنے حصہ کا کام انتہائی ذمہ داری اور محنت کے ساتھ کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ’نیوز پوٹلی‘ کا شمار ہندوستان کے بھروسہ مند میڈیا اداروں میں ہونے لگا ہے۔ وہ یہ کہتے بھی ہیں کہ ’’صحافت ایک ذمہ داری ہے، ان لوگوں کی آواز بننے کی جو اپنی بات خود نہیں کہہ سکتے۔‘‘ یقیناً یہاں اروند شکلا کسانوں کی بات کر رہے ہیں۔ وہ کسان جو سبھی کا پیٹ بھرتے ہیں، لیکن کئی مواقع پر خود بھوکے سونے کو مجبور ہوتے ہیں۔

Follow us: WhatsAppFacebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔




0 Votes: 0 Upvotes, 0 Downvotes (0 Points)

Leave a reply

Loading Next Post...
Search Trending
Popular Now
Loading

Signing-in 3 seconds...

Signing-up 3 seconds...