ترنمول کانگریس (ٹی ایم سی) کی قومی صدر ممتا بنرجی نے رابندر ناتھ ٹیگور کی جینتی کے موقع پر ’سیاسی و اخلاقی جنگ‘ کا اعلان کرتے ہوئے بی جے پی کے خلاف تمام اپوزیشن پارٹیوں سے متحد ہونے کی اپیل کی ہے۔ ممتا بنرجی نے الزام عائد کیا کہ مغربی بنگال میں ’دہشت کا راج‘ شروع ہو چکا ہے اور اس کے خلاف ان کی سیاسی اور اخلاقی لڑائی شروع ہو گئی ہے۔ ممتا نے کہا کہ ’’میں این جی اوز اور دیگر سماجی تنظیموں سے بھی اپیل کرتی ہوں کہ وہ اس تحریک میں شامل ہوں۔‘‘
ممتا بنرجی نے الزام عائد کیا کہ انہوں نے کالی گھاٹ موڑ، مکت دل اور فائر بریگیڈ اسٹیشن کے سامنے رابندر ناتھ ٹیگور کی جینتی منانے کی اجازت مانگی تھی، لیکن تینوں مقامات کے لیے اجازت نہیں دی گئی۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ آخر اس بار انہیں اجازت کیوں نہیں دی گئی۔ اجازت نہ ملنے کے سبب انہوں نے پارٹی دفتر کے باہر رابندر ناتھ ٹیگور جینتی منانے کا فیصلہ کیا۔
ممتا بنرجی نے کہا کہ یہ پوری طرح آمریت ہے اور ٹی ایم سی کو خاموش کرانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ ’’میرا ماننا ہے کہ جو لوگ بے خوف ہیں، جو واقعی اپنے وطن سے محبت کرتے ہیں، وہ خود بخود متحد ہو جائیں گے۔ میں خود ایک وکیل ہوں اور کھل کر بی جے پی کے خلاف لڑائی لڑوں گی۔‘‘
ٹی ایم سی کی قومی صدر نے یہ بھی الزام لگایا کہ مغربی بنگال میں ان کے کارکنوں پر ظلم کیا جا رہا ہے۔ دلت برادری کی ایک 92 سالہ خاتون ان کے ساتھ رہتی ہیں، لیکن اب انہیں اپنا گھر چھوڑ کر کہیں اور پناہ لینی پڑی۔ اس خاندان کی ایک نئی نویلی دلہن کو بھی بی جے پی نے دھمکایا ہے اور اس سے بھی گھر خالی کرا دیا گیا ہے۔ ممتا بنرجی نے کہا کہ پارٹی کے کئی دیگر کارکنوں اور رہنماؤں کے گھروں کے باہر غنڈہ گردی کی جا رہی ہے اور پولیس پوری طرح خاموش ہے۔
ممتا بنرجی کا کہنا ہے کہ جب 2011 میں وہ مغربی بنگال میں برسر اقتدار ہوئیں تو انہوں نے کسی قسم کا تشدد نہیں ہونے دیا اور نہ ہی کسی کو ہراساں یا پریشان کیا گیا۔ میں نے اس وقت کے سبکدوش ہونے والے وزیر اعلیٰ بدھ دیب بھٹاچاریہ کی سیکورٹی اور حفاظت یقینی بنانے کے لیے اپنی ذاتی بُلیٹ پروف کار اُن کے پاس بھیجی تھی۔ انہوں نے مزید کہا کہ بدھ دیب بھٹاچاریہ کو ’زیڈ پلس سیکورٹی‘ بھی فراہم کی گئی تھی، لیکن بی جے پی نے اقتدار میں آتے ہی ان کی سیکورٹی فوراً ہٹا دی اور انہیں دی جانے والی کئی سہولیات بھی بند کر دی گئیں۔
ممتا بنرجی نے کہا کہ اپوزیشن کے تمام قومی لیڈران نے اُن سے رابطہ کیا ہے۔ سونیا گاندھی، راہل گاندھی، ملکارجن کھڑگے، ادھو ٹھاکرے اور تیجسوی یادو سے اُن کی بات ہوئی ہے۔ اکھلیش یادو خود ان سے ملنے آئے تھے۔ ہیمنت سورین اور اروند کیجریوال سے بھی اُن کی بات چیت ہوئی ہے۔ کپل سبل اور ابھشیک منو سنگھوی نے بھی انہیں فون کیا ہے۔ پرشانت بھوشن اور مینکا گروسوامی بھی اس لڑائی میں ان کے ساتھ ہیں۔ انہوں نے واضح لفظوں میں کہا کہ ’’میں خود ایک وکیل ہوں۔ ہمارے پاس کلیان بنرجی جیسے کئی اور لیڈران ہیں جو یہ لڑائی لڑیں گے۔ ہمیں معلوم ہے کہ لڑائی کیسے لڑی جاتی ہے۔‘‘
Follow us: WhatsApp, Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔




































