10 مئی 1857۔ یہی وہ تاریخ تھی، جب ہم نے گوری ایسٹ انڈیا کمپنی کی غلامی کے خلاف اپنی پہلی جنگ آزادی کا آغاز کر کے ایسٹ انڈیا کمپنی کے آقاؤں کے ہوش اڑا دیے تھے۔ اس کی شروعات میرٹھ کینٹ میں کمپنی کے دیسی سپاہیوں نے کی تھی۔ وہ محسوس کرنے لگے تھے کہ کمپنی کے ہمہ جہت استحصال نے سبھی ملکی باشندوں کا سکھ چین حرام کر دیا ہے۔
وہ 10 مئی اتوار کا دن تھا۔ چھٹی کا دن۔ انگریز افسر چھٹی کے موڈ میں تھے۔ تبھی دیسی سپاہیوں نے میرٹھ کی جیل پر حملہ کر دیا اور وہاں قید اپنے 85 ساتھیوں کو چھڑا لیا۔ ان 85 ساتھیوں نے کچھ دن پہلے گائے اور سور کی چربی والے نئے کارتوس (جن کا خول بندوق میں بھرنے سے پہلے دانتوں سے اتارنا پڑتا تھا) استعمال کرنے سے انکار کر دیا تھا۔ اس کے بعد انہیں جیل بھیج دیا گیا تھا۔
اس کے بعد جو بھی فوجی یا غیر فوجی انگریز سامنے آیا، باغی سپاہیوں نے انہیں موت کے گھاٹ اتار دیا۔ سارے بنگلوں کو آگ کے حوالے کر دیا، جن میں انگریز افسر رہتے تھے۔ اگلے دن اپنی جیت کا پرچم لہراتے ہوئے راجدھانی دہلی جا پہنچے۔ وہاں انہوں نے انگریزوں کے ذریعے زبردستی معزول کیے گئے آخری مغل بادشاہ بہادر شاہ ظفر کو پھر سے تخت نشین کر کے بادشاہ قرار دے دیا۔ ان سے کہا ’’آپ بس ہمیں حکم دے دیں، ہم ایسٹ انڈیا کمپنی کے ذریعے لوٹا گیا آپ کا سارا خزانہ لا کر پھر آپ کے قدموں میں ڈال دیں گے۔‘‘
ہندی کی ممتاز شاعرہ سبھدرا کماری چوہان کے الفاظ میں کہیں تو اس کے بعد بوڑھے ہندوستان میں پھر سے نئی جوانی آ گئی تھی اور یہ بغاوت جنگ آزادی میں بدل کر ملک کے بڑے حصے میں پھیل گئی تھی۔
سب کے سب لڑے
یہ سب ایک دو دن میں ہی ممکن نہیں ہو گیا تھا۔ آزادی کے دیوانے ایسٹ انڈیا کمپنی کی فوجوں کو اگلے 2 برس تک مغرب میں پنجاب، سندھ اور بلوچستان سے لے کر مشرق میں اروناچل اور منی پور، اور شمال میں کشمیر سے لے کر جنوب میں کیرالہ اور کرناٹک تک چھکاتے رہے تھے۔ میدانی علاقوں میں دوسرے لوگ اپنی اپنی طرح سے انگریزوں کی ناک میں دم کیے ہوئے تھے۔ 20 دن بعد 30 مئی کو شعلہ اودھ کی راجدھانی لکھنؤ پہنچا۔ باغیوں نے وہاں ایسٹ انڈیا کمپنی کی حکومت کو ریزیڈنسی تک محدود کر دیا۔ انگریزوں کو اسی میں قید کر دیا اور معزول و جلا وطن نواب واجد علی شاہ کے نابالغ بیٹے برجیس قدر کو نواب بنا کر تخت نشین کر دیا۔ مورخ، صحافی اور مجاہد آزادی پنڈت سندرلال نے اپنی مشہور کتاب ’بھارت میں انگریزی راج‘ میں لکھا ہے کہ اس جنگ آزادی کی جتنی اچھی تیاری اودھ میں کی گئی، ملک میں کہیں اور نہیں کی گئی تھی۔ انہی تیاریوں کی بدولت برجیس کی سرپرست بنیں ان کی والدہ بیگم حضرت محل اودھ کو پھر سے ہتھیانے کی تاک میں لگی کمپنی کی فوجوں کو دہلی پر ان کے دوبارہ قبضہ ہو جانے کے کئی مہینوں بعد تک مزہ چکھاتی رہیں۔
ایودھیا میں سادھو فقیر
اب ایودھیا اور اس کے آس پاس کی جنگ آزادی کا حال سنیے۔ 1858 کی سردیاں آتے آتے انگریزوں نے اودھ کے بیشتر حصوں پر پھر سے کنٹرول قائم کر لیا تھا، لیکن ایودھیا کے سریو پار کے پڑوسی گونڈا ضلع میں جنگ کی آگ اب بھی دھو دھو کر کے جل رہی تھی۔ وہاں کے مہاراجہ دیوی بخش سنگھ کی ہندو-مسلم اتحاد کی طاقت سے مزین عظیم فوج جواں مردی میں اپنی مثال نہیں رکھتی تھی اور انگریزوں کے کسی بھی حملے کو ناکام بنا دیتی تھی۔
گھاگھرا اور سریو ندیوں کے سنگم پر واقع تلسی پور کے مانجھا میں ایک تصادم کے دوران اس فوج نے اپنے دلیری بھرے کارناموں کے لیے مشہور انگریز جنرل ہوپ گرانٹ تک کو منہ لٹکائے واپس لوٹ جانے پر مجبور کر دیا، تو اس نے جھنجھلا کر بریگیڈیئر روکرافٹ کے ساتھ گونڈا پر دو طرفہ حملے کی منصوبہ بندی کی۔ اس کے تحت روکرافٹ تو جلد ہی گھاگھرا پار کر کے ٹیڑھی ندی کے شمالی کنارے پر واقع لمتی-لول پور کے تاریخی میدان میں جا پہنچا، لیکن نہایت سخت مزاحمت نے ایودھیا کی طرف سے ہوپ گرانٹ کا سریو پار کرنا دشوار کر دیا۔ ہوپ گرانٹ نے دیکھا کہ فوجی طاقت سے کام نہیں چل رہا تو دھوکہ فریب سے ایودھیا کے راجہ مان سنگھ کو اپنی طرف ملا لیا۔
جون 1857 میں باغیوں نے ایودھیا کو انگریزوں سے آزاد کرایا تو اس کا انتظام انہی مان سنگھ کو سونپا تھا۔ تب مان سنگھ بیگم حضرت محل کے سپہ سالاروں میں سے ایک تھے اور گونڈا کی فوج کو اب بھی ان سے وفاداری کی امید تھی۔ لیکن انہوں نے غداری کرتے ہوئے ہوپ گرانٹ کے بیشتر سپاہیوں کو سریو کے مختلف گھاٹوں سے سادھوؤں، فقیروں اور دودھیوں کی شکل میں اُس پار اتار دیا۔ اس ہدایت کے ساتھ کہ مقابلے کے وقت تک اپنے ہتھیار چھپائے رکھیں۔ مان سنگھ جانتے تھے کہ ان گھاٹوں پر سادھوؤں، فقیروں اور دودھیوں کی آمد و رفت اتنی عام ہے کہ ان کی تعداد کچھ زیادہ ہو جانے پر بھی کوئی شبہ نہیں کرے گا۔ گونڈا کی فوج تو ان پر اس لیے بھی گولیاں نہیں چلانے والی تھی کہ وہ اس کے لیے انگریزوں کی فوجی سرگرمیوں کے اہم خبر رساں ذرائع تھے۔
خیر، لمتی-لول پور میں گھمسان شروع ہوا تو گونڈا کے سپاہیوں کو ایک بار تو سمجھ میں ہی نہیں آیا کہ یہ سادھو، فقیر اور دودھیے اچانک ان پر حملہ آور کیوں ہو اٹھے ہیں؟ جب تک وہ ماجرا سمجھ پاتے، گھیرے میں آ چکے تھے۔ ان کی ایک طرف روکرافٹ تھا، دوسری طرف ہوپ گرانٹ اور تیسری طرف مان سنگھ۔ اس کے باوجود وہ انہیں ایک ہفتہ تک چھکاتے رہے، حالانکہ ان کے مخالفین کے پاس کہیں زیادہ جدید ہتھیار اور ساز و سامان تھے۔
مان سنگھ کی غداری اس حد تک پہنچ گئی کہ گونڈا کے توپچیوں کو بارود کی جگہ ریت بھرے گولے پہنچا دیے گئے، جو وقت پر داغے ہی نہیں جا سکے۔ تب بھی ان سپاہیوں نے ہار نہیں مانی اور لاٹھیوں، بھالوں، برچھیوں اور تلواروں جیسے روایتی ہتھیاروں سے جنگ جاری رکھی۔ گولوں کے فقدان میں بھی توپچی کالے خاں، حسین خاں اور مشیت خاں نے میدان چھوڑنا گوارا نہیں کیا اور آمنے سامنے لڑتے ہوئے شہید ہو گئے۔ یہ اس وقت تھا، جب شام کو جنگ رکنے پر خادم اور چوبدار لاشیں اٹھاتے اٹھاتے تھک جاتے تھے۔
ہفتہ بھر کی غیر فیصلہ کن تصادموں کے بعد 6 دسمبر 1858 کی صبح گنتی ہوئی تو 21 ہزار میں صرف 800 سپاہی بچے تھے۔ مجبور سپہ سالار نے انہیں میدان چھوڑنے کا حکم دیا تو انگریزوں نے مہاراجہ دیوی بخش کو زندہ یا مردہ پکڑنے میں اپنی پوری طاقت جھونک دی۔ ان 800 نے جان کی بازی لگا کر مہاراجہ کو بچایا اور انہیں بنکسیا کے قلعہ میں لے گئے تو انگریز وہاں بھی جا پہنچے۔ مورخین کہتے ہیں کہ وہاں ان میں سے نصف یعنی 400 نے اپنی لاشیں بچھا دیں، لیکن مہاراجہ کو خراش تک نہیں آنے دی۔ مہاراجہ نے بھی ان کی قربانی کی لاج رکھی۔ سب کچھ گنوا دینے کے باوجود خود سپردگی کر کے معافی پانے کی ملکہ وکٹوریہ کی پیشکش قبول نہیں کی۔ آخرکار شیوالک کی پہاڑیوں میں ملیریا نے ان سے آخری سانس بھی چھین لی۔ ان دنوں جس گھاٹ سے سب سے زیادہ انگریز سپاہی سریو پار گئے تھے، لوگ اسے آج بھی نفرت سے ’چور گھٹوا‘ یعنی چوروں کا گھاٹ کہتے ہیں۔
Follow us: WhatsApp, Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔





































