ڈیجیٹل دنیا: خواتین کی سیلف سنسرشپ

AhmadJunaidJ&K News urduMay 3, 2026359 Views


مصنوعی ذہانت (اے آئی)کے جدید دور میں خواتین صحافیوں اور سماجی کارکنوں کے خلاف آن لائن تشدد میں خطرناک حد تک اضافہ ہوا ہے اور اس نے ایک سنگین بحران کی شکل اختیار کر لی ہے۔ ٹیکنالوجی کے غلط استعمال نے ڈیپ فیکس اور نجی تصاویر کے غیر قانونی پھیلاؤ کو آسان بنا دیا ہے، جس کا مقصد خواتین کی آواز کو دبانا اور ان کی پیشہ ورانہ ساکھ کو نقصان پہنچانا ہے۔

اس ہراساں کیے جانے کے عمل سے خواتین میں ذہنی امراض، جیسے کہ ڈپریشن اور بے چینی کی شرح بڑھی ہے اور بہت سی خواتین خود کو محفوظ رکھنے کے لیے خود ساختہ سنسرشپ یا خاموشی اختیار کرنے پر مجبور ہیں۔ یہ بات باعث تشویش ہے کہ موجودہ قانونی تحفظ ناکافی ہے، جس کی وجہ سے خواتین کو کام کی جگہوں اور سوشل میڈیا پر شدید غیر یقینی صورتحال کا سامنا ہے۔ عالمی سطح پر حقوق کی پامالی کا یہ سلسلہ نہ صرف انفرادی زندگیوں بلکہ جمہوریت اور اظہارِ رائے کی آزادی کے لیے بھی ایک بڑا خطرہ بن چکا ہے۔

0 Votes: 0 Upvotes, 0 Downvotes (0 Points)

Leave a reply

Loading Next Post...
Search Trending
Popular Now
Loading

Signing-in 3 seconds...

Signing-up 3 seconds...