
ایک طرف ملکی نظام کی یہ تلخ حقیقت ہے اور دوسری طرف ہم ہیں کہ عالمی قائد بن جانے کے دعوے کرتے نہیں تھکتے۔ ہم بڑے فخر کے ساتھ کہتے ہیں کہ ہم تیزی سے ترقی کرنے والی معیشت ہیں۔ ہم بہت جلد دنیا کی تیسری بڑی معیشت بن جائیں گے۔ ہم یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ دنیا کا کوئی ملک اس ملک کی طرح اچھا نہیں ہے۔ اصولی طور پر ایک محب وطن شہری یہی کہے گا کہ اس کا ملک دنیا کا سب سے خوبصورت اور اچھا ملک ہے۔ لیکن کڑوی سچائیوں پر بھی نظر ڈالنی چاہیے اور یہ دیکھنا چاہیے کہ کیا واقعی ہم وہ ہیں جس کا دعویٰ کرتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ ملک کا نظام دن بدن سڑتا جا رہا ہے۔ لیکن ارباب اختیار ایک ایسی خوش فہمی میں مبتلا ہیں اور عوام کو اس میں مبتلا رکھنا چاہتے ہیں جس کا حقیقت سے دور کا بھی واسطہ نہیں۔
ملک زادہ منظور احمد نے سچ کہا تھا:
دیکھو گے تو ہر موڑ پہ مل جائیں گی لاشیں
ڈھونڈوگے تو اس شہر میں قاتل نہ ملے گا۔






