
تصویر: پی ٹی آئی۔ السٹریشن: دی وائر۔
نئی دہلی: نریندر مودی حکومت کو حد بندی کے لیے نئے قواعد طے کرنے اور لوک سبھا کی نشستوں کو بڑھا کر 850 کرنے سے متعلق آئینی ترمیم کے تین بلوں کے پیکج پر ملی شکست سے کئی اہم سیاسی اشارے سامنے آئے ہیں۔ نئی ترمیم میں ان ریاستوں کے لیے کوئی حفاظتی بندوبست نہیں تھا، جنہوں نے آبادیاتی تبدیلیاں حاصل کر لی ہیں۔
اس پیش رفت سے کم از کم 9 اہم سیاسی نتائج برآمد ہوتے ہیں؛
لوک سبھا میں شکست بی جے پی کے لیے بڑا دھچکا: 2014میں 282 نشستوں کے ساتھ دہلی کی اقتدار میں بے مثال عروج کے بعد سے بی جے پی کے لیے لوک سبھا میں شکست تقریباً ناقابل تصور رہا ہے۔ راجیہ سبھا میں مخالفت اور رکاوٹیں پہلے بھی دیکھی گئی ہیں، یہاں تک کہ مارچ 2015 میں صدر کے خطاب پر اپوزیشن کی ایک ترمیم بھی منظور ہوئی تھی۔ جانچ سے بچنے کے لیے بی جے پی نے کئی بار بلوں کو ’منی بل‘قرار دینے کا راستہ اپنایا۔ لیکن لوک سبھا میں اس طرح کسی سرکاری بل کا گرنا اس صدی میں 2002 کے بعد دوسری بار ہے۔
مودی حکومت کی’ ناقابل تسخیر‘امیج کو دھچکا:مودی حکومت عدالتوں اور دیگر فورمز پر یہ دلیل دیتی رہی ہے کہ صرف پارلیامنٹ ہی ’عوام کی خواہش‘کی نمائندگی کرتی ہے اور اسے’آئینی اقدار‘سے بھی اوپر سمجھا جانا چاہیے۔ یہ دلیل لوک سبھا میں اس کی اکثریت سے پیدا ہونے والے’ناقابل تسخیر‘ہونے کے احساس پر مبنی رہی ہے۔ 2024 میں لوک سبھا میں جھٹکا لگنے کے بعد بھی مودی نے اسی کابینہ کے ساتھ حلف لے کر اور اداروں پر گرفت مضبوط کر کے اس شبیہ کو برقرار رکھنے کی کوشش کی، لیکن گزشتہ ہفتے کے واقعات نے اس احتیاط سے بنائی گئی شبیہ کو کمزور کر دیا ہے۔
اپوزیشن کی اہمیت برقرار ہے:یہ تاثر بن گیا تھا کہ 240 نشستوں تک محدود ہونے کے باوجود بی جے پی کے سامنے اپوزیشن غیر اہم ہے۔ یہ بھی سمجھا جا رہا تھا کہ متعصب پریزائیڈنگ افسران کے توسط سے یا مختلف جماعتوں سے بات چیت کے ذریعے اپوزیشن کو ’مینج‘کیا جا سکتا ہے، آل پارٹی میٹنگ بلائے بغیر۔ لیکن یہ تاثر ٹوٹ گیا، کیونکہ اپوزیشن، حتی کی وہ جماعتیں بھی جنہیں مجوزہ لوک سبھا توسیع سے فائدہ ہو سکتا تھا،مضبوطی سے کھڑے رہے۔
اس واقعہ نے امت شاہ کی ’چانکیہ گیری‘کو دھچکا دیا:
اس پیش رفت نے مودی حکومت کے کلیدی اورچیف اسٹریٹجسٹ کے طور پر امت شاہ کی شبیہ کو نقصان پہنچایا ہے۔ شاہ کی حکمت عملیاں عام طور پر لوک سبھا کو چکمہ دینے میں کامیاب رہی ہیں۔ اس کی ایک بڑی مثال 5 اگست 2019 کو دیکھنے کو ملی تھی، جب ’قومی سلامتی‘کے نام پر بغیر بحث اور محدود معلومات کے ایک ریاست کو تقسیم کر کے اسے دو مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں تبدیل کرنے کا فیصلہ منظور کرا لیا گیا تھا۔
لوک سبھا میں اقلیت میں آنے کے بعد حکومت نے ایک اور بل لانے کی کوشش کی، جس میں ’ بدعنوانی‘کے الزامات کی بنیاد پر وزرائے اعلیٰ کو ہٹانے اور گرفتار کرنے کا اہتمام شامل کیا جا سکے، لیکن یہ کوشش کامیاب نہ ہو سکی اور بل کو کمیٹی کے حوالے کرنا پڑا۔ تاہم، اس بار کی کوشش مکمل طور پر ناکام رہی اور بل کو واضح طور پر مسترد کر دیا گیا۔
ملک کے دو سب سے طاقتور رہنماؤں کی سیاسی ساکھ پر اثر:
نریندر مودی اور امت شاہ دونوں نے ایوان کو یقین دہانی کرائی کہ ریاستوں کے مفادات متاثر نہیں ہوں گے، لیکن ان باتوں کا خاص اثر نہیں پڑا۔ پہلے مفاہمت کی کوشش کے بعد، جب بی جے پی کی بات نہ بنی، تو مودی دوبارہ جارحانہ انداز میں آ گئے اور اپنے 30 منٹ کے خطاب میں کانگریس کا 59 بار ذکر کیا۔
وزیر اعظم کے قوم کے نام خطاب کا ٹرانسکرپٹ۔
قواعد و ضوابط کو موڑنا ہمیشہ ممکن نہیں ہوتا: اس واقعہ نے اس تصور کو توڑ دیا ہے کہ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) اپنی مرضی کے مطابق پارلیامانی طریقۂ کار میں تبدیلی کر سکتی ہے اور اس سے بچ نکل سکتی ہے۔ پارلیامنٹ کو ایگزیکٹو کا توسیعی حصہ بنانے کی کوشش بھی واضح ہے، 2019 سے لوک سبھا میں نائب اسپیکر کا عہدہ خالی ہے، جو ہندوستانی تاریخ میں پہلی بار ہے۔
سال2020 کے تین زرعی قوانین کے معاملے میں پارلیامانی طریقۂ کار اور معیارات کی خلاف ورزی کے الزامات پہلے ہی سامنے آ چکے ہیں۔ حال ہی میں سی اے پی ایف بلوں کو جلدی منظور کرانے کی کوشش میں رول 116، جو خاطر خواہ وقت اور بحث و مباحثہ کا تقاضہ کرتا ہے، کو نظرانداز کرنے کی کوشش بھی کامیاب نہیں ہو سکی، کیونکہ ایوان کی سیاسی قوت ارادی ایک دیوار کی طرح سامنے کھڑی ہو گئی۔
نظریاتی جھٹکا: ان بلوں کا مقصد بی جے پی کو نشستوں میں فوری توسیع دے کر اس کا سیاسی غلبہ مضبوط کرنا تھا، بغیر اس پر بحث کیے کہ اس سے دوسرے علاقوں کو نقصان ہوگا۔ لیکن ’خواتین ریزرویشن‘کے نام کا سہارا بھی کام نہ آیا اور بی جے پی کی منشا ظاہر ہو گئی۔
اس کے ساتھ ہی ہندوستانی سیاست کو ازسر نو تشکیل دینے اور ریاستوں کے کردار کو کمزور کرنے کی اس کی طویل مدتی منصوبہ بندی کو بھی بڑا دھچکا لگا ہے۔
خطے اور زبان کا ایک تیسرا محور فعال: سیاست اب تک زیادہ تر مذہب اور ذات پات کے مسابقتی محوروں کے گرد گھومتی رہی ہے، اگرچہ بی جے پی نے ذات کو اپنے اندر سمیٹنے کی کوشش کی ہے۔ لیکن اس بحث کے ذریعے زبان، خطہ اور تنوع سے سے متعلق ایک تیسرا محور فعال ہوتا نظر آ رہا ہے، جو آئندہ تمام سیاسی مباحث کو متاثر کر سکتا ہے، خصوصی طور پر جب بی جے پی نئے علاقوں میں اپنے پھیلاؤ کی کوشش کر رہی ہے۔
تضاد یہ ہے کہ 2014 سے 2023 کے درمیان ’کاؤ بیلٹ‘میں مضبوط گرفت کے باوجود، 2024 بی جے پی کے لیے ایک دھچکا ثابت ہوا۔ اتر پردیش، راجستھان، ہماچل پردیش اور پنجاب میں اسے شدید نقصان اٹھانا پڑا۔ ان علاقوں سے باہر، خاص طور پر جنوب اور مشرق میں سیاسی پھیلاؤ کی کوششیں بھی اس بحث سے پیدا ہونے والے جذباتی اثر کے باعث متاثر ہو سکتی ہیں۔ ریاست میں بی جے پی کو چیلنج دیتی بیجو جنتا دل (بی جے ڈی) کی واپسی اس کی ایک مثال ہے۔
سال 1950کی دہائی میں زبان کی بنیاد پر ریاستوں کی تشکیل سے پہلے ہونے والے فسادات اور تقسیم بھلے آج دور کی بات لگیں، لیکن اگر ان مسائل کو ہوا دی گئی تو یہ دراڑیں دوبارہ ابھر سکتی ہیں۔
بیانیے پر کنٹرول/تسلط قائم رکھنے میں ناکامی: ’نیرٹیو وار‘کے حوالے سے بی جے پی عام طور پر پُراعتماد رہتی ہے کہ وہ اسے جیت لے گی، لیکن بی جے پی کی خواتین کارکنان، حتیٰ کہ پارٹی کی واحد خاتون وزیر اعلیٰ ریکھا گپتا کو راہل گاندھی کے گھر بھیجنے کا قدم الٹا ان کے قد کو بڑھانے کا باعث بن گیا۔ جیسے پہلے’وشو گرو‘اور دیگر خارجہ پالیسی سے متعلق معاملات پر مودی کا مذاق اڑانے والے آن لائن میم، لطیفوں اور کارٹونز کو دبانے کے لیے بی جے پی کو سخت اقدامات اٹھانے پڑے تھے، ویسے ہی اس بار بھی بیانیہ کواپنے حق میں موڑنے کے لیے سخت اقدامات کیے جا سکتے ہیں۔
ابھی تک اس کے کوئی ٹھوس اعداد و شمار دستیاب نہیں ہیں، لیکن سنیچر کی رات نریندر مودی کی تقریر کے دوران آنے والے لائیو کمنٹس این ڈی اے کے لیے ایک بڑی وارننگ سمجھے جا سکتے ہیں۔ کچھ بنیادی سوالات ہیں جن کا بی جے پی اب تک جواب نہیں دے پائی ہے۔ 2024 سے پہلے خواتین ریزرویشن نافذ کیوں نہیں کیا گیا؟ پارٹی میں خواتین ارکانِ پارلیمنٹ کا تناسب سب سے کم کیوں ہے؟ اور پارلیمنٹ میں وزیرِ اعظم اور وزیرِ داخلہ کے بیانات بل کے متن سے میل کیوں نہیں کھاتے؟
حقائق کے ساتھ لچکدار رویہ اختیار کرتے ہوئے اپنی بات منوانے کی عادی پارٹی کے لیے، بڑے میڈیا (ٹی وی اور زیادہ تر اخبارات) پر گرفت ہونے کے باوجود ان سوالات کو دبانے میں ناکامی ایک دھچکا ہے۔ اس کے ساتھ ہی مودی حکومت کی ’ناقابل تسخیر‘شبیہ کو بھی نقصان پہنچا ہے۔






