
یہ واقعہ 11 اپریل کی رات پیش آیا، جب دونوں طلبہ ایک میوزک ایونٹ میں شریک ہوئے تھے۔ الزام ہے کہ اس تقریب میں کھلے عام شراب اور نشہ آور مادوں کا استعمال کیا جا رہا تھا، جس کے بعد دونوں طلبہ کی حالت بگڑ گئی اور بعد ازاں ان کی موت واقع ہو گئی۔ سپکال نے دعویٰ کیا کہ یہ تقریب گوریگاؤں کے نیسکو کمپلیکس میں منعقد ہوئی، جہاں ہزاروں نوجوان موجود تھے۔
سپکال نے سوال اٹھایا کہ ہزاروں افراد پر مشتمل اس ’ڈرگ پارٹی‘ کی خبر پولیس کو کیوں نہیں ہو سکی۔ ان کے مطابق یہ معاملہ صرف ایک حادثہ نہیں بلکہ ریاستی نظام کی ناکامی کی واضح مثال ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ پولیس اور دیگر سرکاری ادارے اس وقت تک خاموش رہے جب تک دو جانیں ضائع نہیں ہو گئیں، اور اب محض دکھاوے کی کارروائیاں کی جا رہی ہیں۔






