شیوسینا (یو بی ٹی) لیڈر پرینکا چترویدی نے اتوار کو کہا کہ موثر نمائندگی اور ترقی کو یقینی بنانے کے لیے انتخابی حلقوں کی حد بندی ضروری ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے وارننگ دی کہ اس عمل کے نتیجے میں غیر منصفانہ سیاسی فائدہ نہیں ملنا چاہیے یا جانبدارانہ خیالات سے متاثر نہیں ہونا چاہیے۔ اس تعلق سے انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر ایک پوسٹ کی۔ سابق راجیہ سبھا رکن پرینکا چترویدی نے ارکین پارلیمنٹ پر بڑھتے ہوئے بوجھ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ’’حد بندی ایک ضرورت ہے۔ لوک سبھا مین اراکین پارلیمنٹ کو 6 بڑی آبادی والے اسمبلی حلقوں میں خود کو پھیلانا پڑتا ہے، جس کی وجہ سے ترقیاتی کاموں پر کافی اثر پڑتا ہے۔‘‘
پرینکا چترویدی نے کہا کہ حد بندی لانے کی تمام کوششیں سالوں سے ٹلتی رہی ہیں۔ جب تک ہر انتخابی حلقے کی منصفانہ طریقے سے حد بندی نہیں کی جاتی (جس سے حکمراں جماعت کو غیر متناسب فائدہ نہ پہنچے اور نہ ہی اس میں سیاسی مداخلت ہو)، تب تک اس عمل کو مکمل کرنا ضروری ہے۔ واضح رہے کہ لوک سبھا اور راجیہ سبھا سیٹوں کی حد بندی کا معاملہ ایک بار پھر سیاسی بحث کے مرکز میں آ گیا ہے۔ دراصل 1971 کی مردم شماری کی بنیاد پر نافذ کی گئی آئینی پابندی اب ختم ہونے والی ہے۔
واضح رہے کہ یکم اپریل 2026 سے مردم شماری کا عمل شروع ہو چکا ہے اور اس کے اپ ڈیٹ شدہ اعداد و شمار 2027 تک دستیاب ہونے کا امکان ہے۔ اس کے بعد قانون کے تحت حد بندی کا عمل، جس میں انتخابی حلقوں کی سرحدوں کا ازسر نو تعین اور ریاستوں کے درمیان سیٹوں کی دوبارہ تقسیم شامل ہے، ضروری ہو جائے گی۔ حد بندی پر جاری بحث کا براہ راست تعلق خواتین کے ریزرویشن قانون سے بھی ہے، جسے باضابطہ طور پر ’ناری شکتی وندن ایکٹ 2023‘ کہا جاتا ہے۔ یہ قانون لوک سبھا اور ریاستی اسمبلیوں میں خواتین کے لیے 33 فیصد ریزرویشن فراہم کرتا ہے، تاہم اس قانون کا نفاذ اگلی مردم شماری کے بعد ہونے والی حد بندی کے عمل پر منحصر ہے۔
قابل ذکر ہے کہ سابق راجیہ سبھا رکن پرینکا چترویدی نے اس قانون کی مسلسل حمایت کی ہے، لیکن ساتھ ہی اس بات پر زور دیا ہے کہ اسے محض ایک دور کے وعدے کے طور پر نہ رکھا جائے، بلکہ بروقت اور موثر طریقے سے نافذ کیا جائے۔ دوسری جانب حکومت کے اندر حالیہ مشاورت میں – جس میں ترامیم کی تجاویز اور پارلیمنٹ کا خصوصی اجلاس بلانے کا امکان بھی شامل ہے- اس عمل کے کچھ حصوں کو حد بندی سے الگ کرنے یا اسے تیز کرنے کے متبادل پر غور کیا گیا ہے۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔






































