ہندوستان کی اقتصادی راجدھانی ممبئی میں ایران کے قونصل جنرل سعید رضا مصیب موتلغ نے مغربی ایشیائی تنازعات پر کسی بھی بات چیت میں شامل ہونے کے لیے اپنی شرائط واضح کردی ہیں۔ خبر رساں ایجنسی اے این آئی سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ تمام نقصانات اور جنگ کی تلافی ہونا چاہئے۔ اس سلسلے میں انہوں نے کہا کہ قابل اعتماد گارنٹی دی جانی چاہئے۔ یہ گارنٹی کسی قابل اعتماد تیسرے ملک سے آنا چاہئے، امریکہ سے نہیں۔ تاکہ ایسے واقعات دوبارہ نہ ہوں۔ فطری طور پر ہم سفارت کاری اور بات چیت کے لیے تیار ہیں۔
ایران کی آبنائے ہرمز کو بند کرنے کی دھمکی کے بارے میں پوچھے جانے پر موتلغ نے کہا کہ ایران نے یہ کام صرف دشمن ممالک کے لیے کیا ہے۔ ایران کی طرف سے ان ممالک کو کیا گارنٹی دی جاسکتی ہے جو توانائی کے سب سے بڑے درآمد کنندہ ہیں، جیسے ہندوستان؟۔ اس پر قونصل جنرل نے کہا کہ ہم ہندوستان اور دنیا کے لوگوں کی مدد کے لیے تیار ہیں، سوائے ان لوگوں کے جو دشمن ممالک اور ان کے اسٹیک ہولڈر ہیں۔ ایسے ممالک جیسے ہندوستان جن کا اس دشمنی میں کوئی حصہ نہیں ہے، انہیں اپنے جہازوں کی آمدورفت اور نقل و حمل کی اجازت دی گئی ہے۔
موتلغ نے تمام ممالک سے مطالبہ کیا کہ وہ جارح کو اقوام متحدہ کے چارٹر اور بین الاقوامی قانون کے مطابق کارروائی کرنے کی ترغیب دیں۔ انہوں نے کہا کہ انہیں اس فریق کے ساتھ بات چیت کرکے سرگرم کردار ادا کرنا چاہئے جس نے جنگ شروع کی ہے اور اسے عالمی سطح پر ایسے کام بند کرنےکے لیے مجبور کرنا چاہئے۔ یہ مسئلہ صرف ایران تک محدود نہیں ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ ایسا بارہا ہوا ہے… ماضی میں انہوں نے سفاکانہ اقدامات کے ذریعے جس بھی ملک کا انتخاب کیا اسے تباہ کردیا… خالانکہ آج ان کا سامنا ایک ایسی قوم سے جو سختتی سے مزاحمت کرتی ہے۔ اس لئے ہم تمام ممالک پر زور دیتے ہیں کہ وہ انہیں جواب دہ ٹھہرائیں،انہیں ردعمل کے لیے مجبور کریں اور یہ یقینی بنائیں کہ وہ پھر سے کبھی ایسے کسی بھی ملک کے خلاف اس طرح کی ایک طرفہ کارروائی نہ کریں۔
اس سے پہلے گزشتہ شب ایران نے جاری جنگ کے خاتمے کے لیے 6 اہم اسٹریٹجک شرائط پیش کی تھیں جنہیں ایک نئے قانونی اور سکیورٹی فریم ورک کا حصہ قرار دیا جا رہا ہے۔ ایرانی میڈیا کے مطابق ایک سینیئر اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ مختلف علاقائی ممالک اور ثالثوں نے ایران کو جنگ بندی کے حوالے سے تجاویز دی ہیں، جس کے جواب میں ایران نے اپنی شرائط سامنے رکھ دی ہیں۔
اہلکار کے مطابق سب سے پہلی شرط یہ ہے کہ جنگ دوبارہ شروع نہ ہونے کی واضح اور قابلِ عمل ضمانت دی جائے۔ دوسری شرط خطے میں موجود امریکی فوجی اڈوں کی بندش ہے، جبکہ تیسری شرط میں جارح قوتوں کو پیچھے ہٹانے اور ایران کو جنگی نقصانات کا ہرجانہ ادا کرنے کا مطالبہ شامل ہے۔ چوتھی شرط کے تحت ایران نے مطالبہ کیا ہے کہ تمام علاقائی محاذوں پر جنگ کا مکمل خاتمہ کیا جائے۔ پانچویں شرط آبنائے ہرمز کے لیے ایک نیا قانونی نظام نافذ کرنا ہے، جبکہ چھٹی شرط ایران مخالف میڈیا سرگرمیوں کے خلاف قانونی کارروائی اور ان عناصر کو ملک بدر کرنا ہے۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔


































