اقلیتوں کی بہبود کے لیے تلنگانہ کے وزیر اعلیٰ اے ریونت ریڈی نے کئی بڑے اعلانات کیے ہیں۔ حکومت ریاست کے 10 ضلعی ہیڈ کوارٹرز میں اقلیتوں کے لیے خصوصی ڈگری کالج قائم کرے گی۔ ان کالجز میں طلبہ کو صرف روایتی تعلیم نہیں دی جائے گی بلکہ یہاں انہیں اسکل ڈیولپمنٹ اور آرٹیفیشل انٹیلی جنس کی تربیت بھی دی جائے گی۔ وزیر اعلیٰ نے جمعہ (8 مئی) کو محکمہ اقلیتی بہبود کے ساتھ ہوئی میٹنگ میں یہ معلومات فراہم کیں۔
وزیراعلیٰ ریونت ریڈی نے زور دیا کہ ان اداروں میں طلبہ کو پریکٹیکل ٹریننگ ملنی چاہیے۔ اس کا مقصد یہ ہے کہ تعلیم مکمل کرنے کے بعد طلبہ کو براہ راست ملازمت مل سکے۔ انہوں نے افسران کو ایک خصوصی پروگرام تیار کرنے کی تجویز دی۔ اس کے تحت اقلیتی طلبہ کو بھی بی سی، ایس سی اور ایس ٹی برادریوں کے ہونہار طلبہ کی طرح حوصلہ افزائی کی رقم دی جائے گی۔ اس کے لیے محکمہ ایک الگ منصوبہ تیار کرے گا۔
تلنگانہ کی کانگریس حکومت نے گروپ-1، گروپ-2 اور گروپ-3 سروسز کے لیے منتخب اقلیتی امیدواروں کو بھی بڑی ذمہ داری دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ ان افسران کو محکمہ اقلیتی بہبود میں تعینات کیا جائے گا۔ یہاں انہیں محکمہ کے پروگراموں کو سمجھنے اور سیکھنے کا موقع ملے گا۔ اس کے علاوہ، وزیر اعلیٰ نے اماموں اور مؤذنوں کو وقت پر اعزازیہ دینے کی ہدایت دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس میں کسی بھی طرح کی تاخیر نہیں ہونی چاہیے۔
تلنگانہ کے وزیر اعلیٰ ریونت ریڈی نے ان علاقوں میں قبرستان کے لیے زمین الاٹ کرنے کا حکم دیا ہے جہاں زمین دستیاب ہے۔ دریائے موسیٰ کی بحالی کے منصوبے کے حوالے سے بھی اہم ہدایات جاری کر دی گئی ہیں۔ اس منصوبہ کے تحت مندر کے ساتھ ساتھ مسجد، چرچ اور گوردوارے کی تعمیر بھی کی جائے گی۔ ریونت ریڈی نے کہا کہ ان مذہبی ڈھانچوں کا ڈیزائن ایسا ہونا چاہیے جس سے لوگ متعلقہ مذاہب کی ثقافت کے بارے میں جان سکیں۔ یہ تعمیر ہندوستان کے اتحاد اور تلنگانہ کی گنگا جمنی تہذیب کی جھلک پیش کرے گی۔ حکومت کا مقصد ریاست کی مشترکہ ثقافت کو دنیا کے سامنے لانا ہے۔ ان فیصلوں سے اقلیتی طبقے کے نوجوانوں کو تعلیم اور روزگار کے بہتر مواقع میسر آئیں گے۔
Follow us: WhatsApp, Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔





































