ریٹائرڈ لیفٹیننٹ جنرل سید عطا حسنین نے ہفتہ (14 مارچ) کو بہار کے 43ویں گورنر کے طور پر حلف لیا۔ پٹنہ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس سنگم کمار ساہو نے انہیں لوک بھون میں اس عہدے کا حلف دلایا۔ ان سے قبل عارف محمد خان بہار کے گورنر تھے۔ حلف برداری کے موقع پر بہار کے وزیر اعلیٰ نتیش کمار، نائب وزرائے اعلیٰ سمراٹ چودھری اور وجے سنہا، وزیر وجے کمار چودھری اور بجیندر پرساد یادو سمیت ان کی کابینہ کے کئی ارکان، سینئر پولیس افسران اور کئی معززین موجود رہے۔
بہار کے نومنتخب گورنر سید عطا حسنین نے ہندی زبان میں حلف لیا۔ اس کے بعد چیف سکریٹری پرتئے امرت نے گورنر کی تقرری سے متعلق صدر جمہوریہ دروپدی مرمو کا خط پڑھ کر سنایا۔ فوج میں سید عطا حسنین کی تعیناتی ملٹری سکریٹری کے طور پر تھی، جو سینئر سطح کے پرسنل مینجمنٹ کے لیے ذمہ دار ایک اہم عہدہ ہے۔ اس سے قبل انہوں نے جموں و کشمیر میں فوج کی 15 کور کی کمان سنبھالی تھی۔ ریٹائرمنٹ کے بعد بھی حسنین قومی اور تعلیمی کرداروں میں سرگرم رہے۔ انہیں 2018 میں سنٹرل یونیورسٹی آف کشمیر کا چانسلر مقرر کیا گیا تھا۔ وہ 2020 میں نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) کے رکن کے طور پر شامل ہوئے تھے۔
واضح رہے کہ لیفٹیننٹ جنرل سید عطا حسنین ہندوستانی فوج کی سرینگر میں واقع ’چنار کور‘ کے سابق کمانڈنگ اِن چیف بھی رہ چکے ہیں۔ وہ سنٹرل یونیورسٹی آف کشمیر کے چانسلر تھے۔ انہوں نے فوج میں رہتے ہوئے بھی کئی سماجی مہمات چلائیں، جن میں انہوں نے نوجوانوں کی تعلیم، روزگار اور کھیلوں کے حوالے سے کئی پروگرام منعقد کیے تاکہ وہ ایک اچھا شہری بننے کے لیے لوگوں کو راغب کر سکیں۔ ریٹائرمنٹ کے بعد بھی وہ اپنی عوامی زندگی میں سرگرم رہے اور قومی سلامتی اور روزگار سے جوڑنے کے لیے کئی مہمات چلائیں، جن میں خاص طور پر کشمیر کے نوجوانوں کو شامل کرنے کی کوشش کی۔ اسی وجہ سے انہیں ایک فوجی افسر کے ساتھ ساتھ ایک اسٹریٹجک مفکر کے طور پر بھی دیکھا جاتا ہے۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

































