نریندر مودی نفسیاتی طور پر ختم ہو چکے ہیں: راہل گاندھی

AhmadJunaidJ&K News urduMarch 13, 2026361 Views


راہل گاندھی نے کہا کہ اگر کانشی رام جی پنڈت جواہر لعل نہرو کے دور میں ہوتے تو وہ کانگریس پارٹی سے وزیر اعلیٰ ہوتے۔ اب وقت آ گیا ہے جب ہندوستان میں سیاست کو بدلنے کی ضرورت ہے۔

<div class="paragraphs"><p>راہل گاندھی، تصویر ’ایکس‘ <a href="https://x.com/INCIndia">@INCIndia</a></p></div><div class="paragraphs"><p>راہل گاندھی، تصویر ’ایکس‘ <a href="https://x.com/INCIndia">@INCIndia</a></p></div>

i

user

’’اگر کانشی رام جی پنڈت جواہر لعل نہرو کے دور میں ہوتے تو وہ کانگریس پارٹی سے وزیر اعلیٰ ہوتے۔ وقت آ گیا ہے ہندوستان میں سیاست کو بدلنے کا۔ یعنی سب کی حصہ داری کی سیاست، بہوجنوں کے حقوق کی سیاست، ہندوستانی آئین کی دکھائی ہوئی سیاست۔‘‘ یہ بیان لوک سبھا میں حزب اختلاف کے قائد اور کانگریس کے سابق صدر راہل گاندھی نے آج اتر پردیش کے لکھنؤ میں ’سنویدھان سمیلن‘ سے خطاب کرتے ہوئے دیا۔ اس موقع پر انھوں نے بی جے پی اور آر ایس ایس کے نظریات کو ملک مخالف اور عوام مخالف ٹھہرایا، ساتھ ہی کہا کہ ’’مہاتما گاندھی جی، بابا صاحب امبیڈکر جی، کانشی رام جی نے کبھی اپنے نظریات سے کمپرومائز نہیں کیا۔ لیکن ساورکر ہو یا نریندر مودی، کمپرومائز کرنا ان کی پرانی عادت رہی ہے۔‘‘

اپنے خطاب میں راہل گاندھی نے ملک کے موجودہ حالات کے لیے وزیر اعظم نریندر مودی کو ذمہ دار ٹھہرایا۔ خاص طور سے امریکی صدر ٹرمپ کے بیانات کا حوالہ دیتے ہوئے پی ایم مودی کو ’کمپرومائزڈ‘ قرار دیا اور کہا کہ نفسیاتی طور پر نریندر مودی شکست کھا چکے ہیں۔ اپنی تقریر میں کانگریس رکن پارلیمنٹ نے کہا کہ ’’میں آپ کو اسٹیج سے کہہ رہا ہوں، ’سائیکولوجیکلی‘ نریندر مودی ختم ہو گئے ہیں۔ سیاست میں ہار پہلے دماغ میں ہوتی ہے، اس کے بعد ہار ہونی ہی ہونی ہے۔‘‘

کانشی رام کو یاد کرتے ہوئے راہل گاندھی نے کہا کہ ’’آج ہم کانشی رام جی کی جدوجہد، ان کے ویژن اور ہندوستان کی سیاست پر ان کے اثرات کو یاد کرتے ہیں اور دل سے ان کا شکریہ ادا کرتے ہیں۔‘‘ وہ آگے کہتے ہیں کہ ’’ہمیں ہندوستان میں تبدیلی لانے والی سیاست کرنی ہے۔ ایسی سیاست کرنی ہے جس سے ہندوستان کے غریبوں، دلتوں، پسماندوں اور قبائلیوں کو ملک کے پاور سیکٹر میں شامل کیا جا سکے۔‘‘

مرکز کی مودی حکومت کو نشانے پر لیتے ہوئے راہل گاندھی نے کہا کہ ’’ملک کے اداروں کے بارے میں پتہ لگائیں گے تو سمجھ آئے گا کہ اس میں 85 فیصد والوں کی شراکت داری ہے ہی نہیں۔ 500 سب سے بڑی کمپنیوں کے مالکان اور مینجمنٹ میں دلت، قبائلی اور پسماندہ طبقہ کے لوگ نہیں ملیں گے۔‘‘ وہ مزید کہتے ہیں کہ ’’یہی حال ملک کے پرائیویٹ اسپتالوں، عدلیہ، بیوروکریسی، ایجوکیشن سسٹم کا بھی ہے۔ لیکن اگر آپ منریگا کی لسٹ نکالیں گے تو وہاں ملک کی 85 فیصد آبادی بھری ملے گی۔‘‘

اس معاملے میں راہل گاندھی نے آر ایس ایس کا بھی ذکر کیا۔ انھوں نے کہا کہ ’’آر ایس ایس تنظیم کی لسٹ نکالیے، ان کے پرچارک اور تنظیم کے بڑے عہدوں پر دلت، قبائلی یا پسماندہ طبقہ کا شخص نہیں ملے گا۔‘‘ انھوں نے اپنی بات کو آگے بڑھاتے ہوئے کہا کہ ’’پہلے پبلک ہاسپیٹل، یونیورسٹی جیسے اداروں کے مینجمنٹ میں ہر طبقہ کے لوگ چلے جاتے تھے، لیکن اب ایسا ممکن نہیں رہا۔ انٹرویو میں ذات دیکھ کر لوگوں کو باہر کر دیا جاتا ہے۔ یعنی ملک کے 85 فیصد لوگوں سے کہا جا رہا ہے کہ یہ ملک آپ کا نہیں ہے۔ یہ بات آئین کے بالکل منافی ہے۔‘‘ وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ ’’آئین میں ہندوستان کی ہزاروں سال کی آواز موجود ہے، لیکن اس آئین میں ساورکر اور گوڈسے کی آواز نہیں ہے۔ ایسا اس لیے کیونکہ یہ سب آئین کے خلاف تھے۔‘‘ ساتھ ہی انھوں نے یہ بھی کہا کہ ’’نریندر مودی کچھ بھی کہہ لیں، وہ آئین اور اس کے نظریات کو نہیں مانتے۔‘‘

راہل گاندھی نے بی جے پی کو امیر پارٹی قرار دیتے ہوئے کہا کہ جو پارٹی امیر ہوتی ہے، وہ عوام کے حق میں کام کر ہی نہیں سکتی۔ وہ کہتے ہیں کہ ’’کانگریس پارٹی امیر ہونا ہی نہیں چاہتی۔ کانگریس پارٹی کا یہ ڈیزائن گاندھی جی کے وقت سے ہی ہے۔ جس دن ہم امیر پارٹی بن جائیں گے، اس دن ہم بی جے پی ہو جائیں گے۔‘‘ انھوں نے اس بارے میں وضاحت پیش کرتے ہوئے کہا کہ ’’لوک سبھا انتخاب کے وقت ہمیں سمجھ آ گیا کہ انتخاب لڑنے کے لیے امیر پارٹی ہونا ضروری نہیں ہے۔ جب ہمارے سبھی اکاؤنٹس فریز کر دیے گئے تھے، اس وقت بھی ہمیں کوئی فرق نہیں پڑا۔ ایسا اس لیے، کیونکہ یہ نظریات کی پارٹی ہے، جسے کوئی روک نہیں سکتا۔‘‘

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔




0 Votes: 0 Upvotes, 0 Downvotes (0 Points)

Leave a reply

Loading Next Post...
Search Trending
Popular Now
Loading

Signing-in 3 seconds...

Signing-up 3 seconds...