
اس طرزِ عمل کی سب سے نمایاں خصوصیت وہ احساسِ استحقاق ہے جو دنیا میں ہندوستان کی بڑھتی ہوئی حیثیت اور مودی کے عالمی قد و قامت کے بارے میں کیے جانے والے مبالغہ آمیز دعووں سے جنم لیتا ہے۔ مودی حکومت کے قوم پرستانہ پروپیگنڈے کے مسلسل اثر میں رہنے کے باعث اس ہنگامہ پسند طبقے کو یہ گمان ہو گیا ہے کہ ہندوستان پہلے ہی ایک عالمی طاقت بن چکا ہے، مودی دنیا کے سب سے مقبول رہنما ہیں، ’ہندوستانی ثقافت‘ کو ہر جگہ غیر معمولی احترام حاصل ہے اور ہندوستانیوں کو دنیا کے ہر کونے میں خصوصی عزت ملنی چاہیے۔ جب یہ تصور زمینی حقیقت سے ٹکراتا ہے تو ایسا رویہ پیدا ہوتا ہے جسے مقامی لوگ برداشت نہیں کر پاتے۔
اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ نسل پرستی کو کسی بھی صورت میں جائز قرار دیا جا سکتا ہے۔ ایسا کبھی نہیں ہو سکتا۔ نسل پرستانہ رویوں کی مکمل ذمہ داری ہمیشہ ظلم کرنے والے پر ہی عائد ہوتی ہے۔ تاہم ان منفی تصورات کے پھیلاؤ کی وجوہات کو سمجھنے کے لیے صرف مذمت کافی نہیں۔ اس کے لیے اس سماجی اور سیاسی پس منظر کو بھی گہرائی سے سمجھنا ضروری ہے جس میں یہ تصورات جنم لے رہے ہیں۔
ایک اور ناخوشگوار حقیقت خود ہندوستانی برادری کے اندر موجود تعصبات اور نسل پرستانہ رویوں سے متعلق ہے۔ مسلمانوں کے خلاف تعصب، سیاہ فام افراد کے بارے میں منفی تصورات، پناہ گزینوں سے دشمنی اور تقسیم پیدا کرنے والی قوم پرستانہ سیاست کی حمایت اب بیرونِ ملک ہندوستانیوں کی شناخت کا حصہ بنتی جا رہی ہے۔ اس میں ایک حیران کن تضاد موجود ہے: ہندوستانیوں کے خلاف نسل پرستی کے سب سے بلند آواز ناقدین وہی لوگ ہیں جو ہندوستان اور دنیا کے دیگر حصوں میں تارکینِ وطن، مسلمانوں اور دیگر اقلیتوں کو نشانہ بنانے والی سیاسی تحریکوں کی حمایت کرتے ہیں۔





