’تیسری عالمی جنگ شروع ہو چکی ہے‘، مشرق وسطیٰ کی صورت حال پر پاکستانی ماہر کا دعویٰ

AhmadJunaidJ&K News urduMarch 9, 2026363 Views


پاکستانی ماہر ساجد ترار کے مطابق واشنگٹن ڈی سی کے اندر ایسی باتیں ہو رہی ہیں کہ چین اور روس دونوں ایران کو ٹیکنالوجی کے حوالے سے سپورٹ کر رہے ہیں۔

<div class="paragraphs"><p>ایران-اسرائیل جنگ، تصویر اے آئی</p></div><div class="paragraphs"><p>ایران-اسرائیل جنگ، تصویر اے آئی</p></div>

i

user

مشرق وسطیٰ کی صورت حال پر پاکستانی ماہر ساجد ترار نے دعویٰ کیا ہے کہ تیسری عالمی جنگ شروع ہو چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب کسی جنگ میں 2، 3 یا 4 سے زائد ممالک شامل ہوں تو اسے عالمی جنگ کہیں گے۔ ساجد ترار نے یہ بھی کہا ہے کہ ایران کو روس اور چین مدد کر رہے ہیں اور ایران خلیجی ممالک پر جو حملے کر رہا ہے، اس کا براہ راست فائدہ روس کو ہوگا۔ ایران خلیجی ممالک کے ریفائنریوں پر حملہ کرنے کا منصوبہ بنا رہا ہے اور یہ سارا تیل روس کے پاس جائے گا۔ جب دنیا میں تیل کی قلت ہوگی تو وہ اس تیل کو مہنگی قیمتوں پر فروخت کرے گا۔

ایران اور اسرائیل-امریکہ کے درمیان جاری جنگ دوسرے ہفتے میں داخل ہو چکی ہے۔ ایران نے اسرائیلی-امریکی حملوں کے بدلے خلیجی ممالک میں موجود امریکی سفارت خانے پر تابڑ توڑ حملے کیے ہیں، جس کی وجہ سے پورے مشرق وسطیٰ میں اس وقت حالات انتہائی خراب ہیں۔ پاکستانی ماہر ساجد ترار نے کہا کہ اگر کسی جنگ میں 2، 3 یا 4 سے زائد ممالک زد میں ہوں تو وہ عالمی جنگ ہی ہوتا ہے۔ ساجد ترار نے مشرق وسطیٰ کے حالات کو تیسری عالمی جنگ قرار دیا ہے۔

ساجد ترار نے کہا کہ اسرائیل اس وقت لبنان کے خلاف مکمل جنگ لڑ رہا ہے۔ اس دور کے اندر سب سے زیادہ خبریں اسرائیل سے سینسر ہو رہی ہیں، اسرائیل سے اس وقت کوئی خبر نہیں آ رہی ہے۔ وہاں مکمل طور پر پابندی ہے، مغربی پروپیگنڈا صرف تہران کی خبریں بتا رہا ہے یا خلیجی ممالک کی عمارتوں کو جلتے ہوئے یا بندرگاہ کے اوپر ڈرون یا میزائل حملے ہوتے ہوئے دکھا رہا ہے۔

ساجد ترار نے کہا کہ اب نئی بات سامنے آ رہی ہے کہ ایران اب خلیجی تعاون کونسل (جی سی سی) ممالک کے واٹر فلٹریشن پلانٹس اور ریفائنریوں پر حملے کرے گا۔ ان کا کہنا ہے کہ ’’ایران کی ریفائنری پر جو حملہ کیا گیا ہے، اس کے بعد ایران کہہ رہا ہے کہ ہم پانی کے اوپر بھی حملہ کریں گے۔ جی سی سی ممالک کے واٹر فلٹریشن پلانٹس پر بھی حملہ کریں گے اور اس کے بعد ریفائنریوں کے اوپر حملہ کریں گے۔ اگر یہ دونوں چیزیں ہوتی ہیں تو جدید جنگ میں ایک نیا موڑ آئے گا۔ کروڑوں کی تعداد میں جی سی سی ممالک واٹر فلٹریشن پلانٹس پر انحصار کر رہے ہیں تو کیا جنگیں اب تیل کے بجائے پانی پر ہوں گی؟‘‘

ساجد ترار نے کہا کہ اگر آبنائے ہرمز بند ہوتی ہے، اور سعودی عرب و خلیجی ممالک کی ریفائنریوں پر حملے ہوتے ہیں تو اس کا فائدہ کس کو ہوگا؟ اس کے مستفید کون ہوں گے؟ تو ایک نئی بات سامنے آئی ہے کہ اس کا سب سے بڑا فائدہ روس کو ہوگا۔ اب جب روس کے پاس تیل کا پیسہ آئے گا تو خطرہ کس کو ہوگا؟ یورپ کو ہوگا۔ پاکستانی ماہر ساجد ترار کے مطابق واشنگٹن ڈی سی کے اندر ایسی باتیں ہو رہی ہیں کہ چین اور روس دونوں ایران کو ٹیکنالوجی کے حوالے سے سپورٹ کر رہے ہیں۔ جب تیل کی کمی ہوگی تو ایک تو روس پیسہ بنائے گا اور پھر یوکرین تو اس کے سامنے بہت چھوٹا نظر آئے گا۔

ساجد ترار کا یہ بھی کہنا ہے کہ ڈونالڈ ٹرمپ نشانہ لگا رہے تھے کہ اگلا نمبر کس ملک کا ہوگا۔ وینزویلا کے بعد انہوں نے ایران کو نشانہ بنایا، پھر کولمبیا اور کیوبا پر نشانہ لگایا۔ اب روس کے پاس بھی اتنی طاقت آنے والی ہے تو روسی صدر  پوتن بھی نشانہ لگائیں گے کہ یوکرین کے بعد کس کا نمبر ہوگا۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔




0 Votes: 0 Upvotes, 0 Downvotes (0 Points)

Leave a reply

Loading Next Post...
Search Trending
Popular Now
Loading

Signing-in 3 seconds...

Signing-up 3 seconds...