
علامتی تصویر: بہ شکریہ فیس بک
نئی دہلی:دہلی ہائی کورٹ نے نیوزکلک کے خلاف دہلی پولیس اور انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) کے معاملوں کو رد کرتے ہوئے کہا ہے کہ پولیس کی جانب سے غیر ملکی سرمایہ کاری سے متعلق معاملے میں نیوز ادارے کے خلاف کارروائی جاری رکھنا ’قانونی عمل کا سنگین غلط استعمال‘ ہوگا۔ عدالت نے یہ بھی کہا کہ ای ڈی کی کارروائی میں ایسے دعوے کیے گئے ہیں جن کی کوئی بنیاد ہی نہیں اور جو ’دور دور تک‘ کسی جرم کی نشاندہی نہیں کرتے۔
دریں اثنا، نیوزکلک نے ایک بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ دہلی ہائی کورٹ کے فیصلے نے اس کے موقف کو درست ثابت کیا ہے۔
ہائی کورٹ کی جسٹس نینا بنسل کرشنا کا یہ فیصلہ مودی حکومت کی ایجنسیوں کی جانب سے قائم کیے گئے معاملوں کو ختم کرتا ہے۔ اس فیصلے کے بعد آزاد نیوز ادارے کے خلاف تقریباً چھ برس سے جاری کارروائی ختم ہوگئی، جسے میڈیا تنظیموں اور صحافیوں نے پریس کی آزادی پر حملہ قرار دیا تھا۔ عدالت نے 29 مئی کو فیصلہ سنایا تھا، لیکن اسے بدھ (10 جون) کو پبلک کیا گیا۔
اگست 2020 میں دہلی پولیس اکنامک آفنسز ونگ (ای او ڈبلیو) کی جانب سے درج اس معاملے پر غور کرتے ہوئے، جس میں الزام لگایا گیا تھا کہ نیوزکلک نے براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری (ایف ڈی آئی) کے ضوابط کی خلاف ورزی کی کوشش کی اورجس میں دھوکہ دہی اور مجرمانہ اعتماد شکنی سے متعلق دفعات عائد کی گئی تھیں، عدالت نے کہا کہ ’ایسی ایف آئی آر کو جاری رکھنا قانونی عمل کا سنگین غلط استعمال ہے۔ ‘
حالاں کہ،دہلی پولیس کا الزام تھا کہ نیوزکلک کے ناشر نے 2018 میں شیئرفروخت کرنے کے دوران ایف ڈی آئی کی حد کی خلاف ورزی کی کوشش کی تھی، لیکن عدالت نے پایا کہ اس وقت یہ حد ڈیجیٹل نیوز پبلشرز پر لاگو ہی نہیں ہوتی تھی۔ عدالت نے یہ بھی نوٹ کیا کہ غیر ملکی سرمایہ کاری حاصل کرنے سے قبل نیوزکلک نے اس بات کی تصدیق حکومت سے کر لی تھی۔
اس کے بعد پولیس نے الزام عائد کیا کہ گھاٹےمیں چل رہی نیوزکلک نے غیر ملکی سرمایہ کاری کو ’ہڑپ‘ کر لیا اور اس کا استعمال بہت زیادہ تنخواہ، فیس اور کرایہ کی ادائیگی کے لیے کیا۔
ای او ڈبلیو کے مطابق، اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ رقم ’خفیہ طور پر غلط ارادوں سے ادائیگی‘کی غرض سے آئی تھی، لیکن عدالت نے کہا کہ اگر کوئی کمپنی حد سے زیادہ خرچ کرتی ہے تو بھی اس سے ’کسی فوجداری جرم کا انکشاف نہیں ہوتا۔ ‘
پولیس کے اس دعوے کے بارے میں کہ 15 لاکھ ڈالر کی غیر ملکی سرمایہ کاری ڈیلاویئر میں قائم ایک ایسی کمپنی سے آئی تھی جو لین دین سے ایک سال قبل ہی بند ہو چکی تھی۔ عدالت نے پایا کہ نیوزکلک میں سرمایہ کاری کرنے والی کمپنی نے مقامی قوانین کےتحت اجازت کے مطابق ایک بند ہو چکی کمپنی کا نام دوبارہ استعمال کیا تھا۔
جسٹس کرشنا نے کہا کہ دھوکہ دہی کا مطلب کسی شخص کو فریب دے کر اس کی جائیداد یا اثاثہ حاصل کرنا ہے، لیکن اس معاملے میں کسی بھی فریق —جس میں نیوزکلک کے شیئر خریدنے والی امریکی کمپنی بھی شامل ہے — نے کوئی شکایت نہیں کی اور نہ ہی یہ پایا گیا کہ آؤٹ لیٹ نے ان کے ساتھ دھوکہ دہی کی ہے۔ شکایت کرنےوالے سوبھن سنگھ صرف ایک مخبر تھے، متاثرہ فریق نہیں۔
جج نے مجرمانہ اعتماد شکنی کے الزام پر کہا، ’اسی منطق کی بنیاد پر، ایسا کوئی شخص موجود نہیں جس نے یہ دعویٰ کیا ہو کہ اس نے کوئی جائیداد یا اثاثہ حوالے کیا تھا یا درخواست گزار (نیوز کلک) نے اس کا غلط استعمال کیا ہے۔ ‘
ستمبر 2020 میں ای ڈی کی جانب سے درج کیے گئے منی لانڈرنگ کے مقدمے کا حوالہ دیتے ہوئے عدالت نے کہا کہ ایجنسی ای او ڈبلیو (اکنامک آفنسز ونگ) کی ایف آئی آر میں لگائے گئے مجرمانہ سازش کے الزام پر انحصار کر رہی تھی، لیکن ’یہ کہیں بھی واضح نہیں کیا گیا کہ مجرمانہ سازش کا الزام کس بنیاد پر لگایا گیا ہے، سوائے اس کے کہ (نیوز کلک کے بانی و مدیر) پربیر پرکایستھ اور جیسن فیچر کے درمیان ایک معاہدہ ہوا تھا۔ ‘
جسٹس کرشنا نے کہا،’صرف اس بنیاد پر کہ فریقین کے درمیان ایک معاہدہ ہوا تھا، مجرمانہ سازش کا جرم ثابت نہیں ہو جاتا۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ حقیقت یہ ہے کہ ’آج تک نہ تو کوئی قابل اعتراض اور نہ ہی کوئی جرم ثابت کرنے والا مواد ملا ہے اور نہ ہی ریکارڈ پر پیش کیا گیا ہے۔ ‘
عدالت نے کہا، ’مجرمانہ سازش کے محض بے بنیاد دعوے کے علاوہ ایک بھی ایسا الزام موجود نہیں جو دور دور تک اس بات کی نشاندہی کرے کہ انسداد منی لانڈرنگ ایکٹ (پی ایم ایل اے) کی دفعہ 4 کے تحت قابل سزا کوئی جرم کیا گیا ہے۔‘
ای او ڈبلیو اور ای ڈی کے معاملے نیوز کلک کے خلاف چلنے والی واحد ہائی پروفائل کارروائی نہیں تھی۔ اکتوبر 2023 میں دہلی پولیس نے غیر قانونی سرگرمیاں (انسداد) ایکٹ (یو اے پی اے) کے ایک مقدمے اور مشتبہ غیر ملکی فنڈنگ کے الزامات کے سلسلے میں پربیر پرکایستھ کو گرفتار کیا تھا۔ اس کے علاوہ نیوز ادارے کے ملازمین، انتظامی امور سے وابستہ افراد، حتیٰ کہ کنٹریبیوٹرز کے گھروں پر بھی چھاپے ماری کی گئی تھی۔
نیوز کلک کے ایچ آر ہیڈ امت چکروورتی کو بھی اسی وقت گرفتار کیا گیا تھا، لیکن بعد میں وہ اس مقدمے میں سرکاری گواہ بن گئے۔ سات ماہ بعد سپریم کورٹ نے پرکایستھ کی گرفتاری کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے ان کی رہائی کا حکم دیا تھا۔
دہلی ہائی کورٹ کے فیصلے سے ہمارا موقف درست ثابت ہوا ہے: نیوز کلک
نیوز کلک نے اپنے بیان میں کہا کہ وہ ہمیشہ یہ کہتا رہا ہے کہ اس کے خلاف درج کیے گئے کئی معاملے اورلگائے گئے الزامات آزادی صحافت پر حملہ ہیں۔ نیوز کلک کی واحد ’غلطی‘ یہ رہی ہے کہ اس نے ایسی صحافت کی ہے جو عوامی تحریکوں اور لوگوں کی جدوجہد کو کوریج فراہم کرتی ہے۔
بیان میں کہا گیا،’دہلی ہائی کورٹ کا فیصلہ ہمارے موقف کی توثیق کرتا ہے۔ یہ ہندوستان میں آزاد صحافت کی حمایت میں بھی ایک مضبوط موقف اختیار کرتا ہے۔‘
بیان میں مزید کہا گیا،’عدالت نے واضح الفاظ میں کہا؛ ’ای ڈی کی کارروائی نہ صرف بدنیتی پر مبنی تھی بلکہ درخواست گزاروں کی آزاد اور غیر جانبدار صحافت پر ایک من مانا حملہ اور اختیارات کا ناجائز استعمال بھی تھا… مجرمانہ سازش کے بے بنیاد دعووں کے علاوہ ایسا کوئی الزام تک نہیں ہے جسے قابل اعتراض یا جرم ثابت کرنے والا قرار دیا جا سکے۔ ‘
بیان میں کہا گیا،’یہ فیصلہ عدلیہ پر ہمارے اعتماد کو اور مضبوط کرتا ہے۔ ہم اپنے تمام سابق ملازمین، ساتھیوں اور معاون لکھاریوں، اپنے قارئین، وکلا، دوستوں اور حامیوں، نیز ان بڑی تعداد میں صحافیوں اور شہریوں کے شکر گزار ہیں جنہوں نےہمارے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا اور ہماری حمایت کی۔





