
جسٹس دیپانکر دتہ اور جسٹس ایس سی شرما پر مشتمل بنچ نے جسٹس ورما کی جانب سے پیش ہونے والے سینئر وکلا مکل روہتگی اور سدھارتھ لوتھرا جبکہ پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں کی نمائندگی کرنے والے سالیسیٹر جنرل تشار مہتا کے دلائل سنے۔ سماعت کے دوران درخواست گزار کے وکلا نے موقف اختیار کیا کہ ججوں کے خلاف مواخذے سے متعلق کارروائی ججوں کے (انکوائری) ایکٹ 1968 کے تحت سخت طریقۂ کار کی پابند ہے اور اس ایکٹ کے مطابق صرف لوک سبھا کے اسپیکر اور راجیہ سبھا کے چیئرمین ہی کسی جج کو ہٹانے کی تحریک قبول کرنے کے مجاز ہیں۔
جسٹس ورما کے وکلا کا کہنا تھا کہ پارلیمانی انکوائری پینل کی تشکیل میں اختیار اور طریقۂ کار کی خلاف ورزی ہوئی ہے، اس لیے یہ پوری کارروائی غیر آئینی ہے۔ انہوں نے لوک سبھا کے اسپیکر کی جانب سے تحریک قبول کرنے اور اس کے بعد انکوائری کمیٹی قائم کرنے کے اقدام کو کالعدم قرار دینے کی استدعا کی۔






