
ظفر علی نے یہ بھی بتایا کہ مسجد سے متصل ایک دیوار کو بندروں نے پہلے ہی نقصان پہنچایا تھا، جس کے بعد وہ گر گئی۔ اس واقعے کے بعد مسجد کے احاطے کی حفاظت کو لے کر مزید تشویش پیدا ہو گئی ہے۔ کمیٹی نے مطالبہ کیا ہے کہ گری ہوئی دیوار اور مرکزی دروازے دونوں کی جلد مرمت کرائی جائے تاکہ کسی ممکنہ حادثے سے بچا جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ شاہی جامع مسجد محکمہ آثارِ قدیمہ کے زیر نگرانی محفوظ عمارتوں میں شامل ہے، اس لیے اس کی دیکھ بھال اور مرمت کی مکمل ذمہ داری بھی متعلقہ محکمہ کی ہے۔
کمیٹی سربراہ نے کہا کہ مسجد انتظامیہ نے بروقت خطرے سے آگاہ کر دیا ہے، لیکن اگر اس کے باوجود کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش آتا ہے تو اس کی ذمہ داری محکمہ آثارِ قدیمہ پر عائد ہوگی۔ مسجد کمیٹی نے ایک بار پھر مطالبہ کیا ہے کہ معاملے کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے فوری کارروائی کی جائے۔






