صدر جمعیت علمائے ہند مولانا ارشد مدنی کے دعوے نے بھارت میں سیاسی ہلچل مچا دی – World

AhmadJunaidJ&K News urduNovember 23, 2025363 Views



جمعیت علمائے ہند کے صدر اور دارالعلوم دیوبند کے اساتذہ کے سربراہ مولانا ارشد مدنی نے کہا ہے کہ آج ایک مسلمان نیویارک یا لندن کا میئر بن سکتا ہے، لیکن بھارت میں ایک مسلمان ایک یونیورسٹی کا وائس چانسلر بھی نہیں بن سکتا۔

بھارتی میڈیا کے مطابق مولانا ارشد مدنی کے اس بڑے دعوے کے بعد بھارت میں سیاسی ہلچل مچ گئی ہے۔

گزشتہ روز دہلی میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مولانا ارشد مدنی نے کہا کہ حکومت ہر ممکن کوشش کر رہی ہے کہ مسلمان کبھی سر نہ اُٹھا سکیں، اگر کوئی مسلمان کسی طرح وائس چانسلر بن بھی جائے، تو اسے فوری طور پر جیل بھیج دیا جاتا ہے، جیسا کہ اعظم خان کے ساتھ کیا گیا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ دیکھیں آج الفلاح میں کیا ہو رہا ہے، الفلاح یونیورسٹی کے مالک جیل میں سڑ رہے ہیں، اور کسی کو معلوم نہیں کہ وہ وہاں کب تک رہیں گے، یہ کس قسم کا عدالتی نظام ہے جو کسی شخص کو مسلسل قید میں رکھتا ہے، یہاں تک کہ اس کے خلاف کیس ابھی مکمل طور پر ثابت بھی نہیں ہوا ہے؟

مولانا ارشد مدنی نے مزید کہا کہ آزادی کے 75 سال گزرنے کے باوجود مسلمانوں کو تعلیم، قیادت اور انتظامی ڈھانچوں میں ترقی سے منظم طریقے سے روکا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت مسلمانوں کے قدموں کے نیچے سے زمین کھینچنا چاہتی ہے، اور بڑی حد تک اس میں کامیاب بھی ہو چکی ہے، آج مسلمانوں کا حوصلہ توڑ دیا گیا ہے۔

بھارتی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق مولانا ارشد مدنی کے اس بیان کے بعد حکومتی ایوانوں میں ہلچل مچ گئی ہے۔

0 Votes: 0 Upvotes, 0 Downvotes (0 Points)

Leave a reply

Loading Next Post...
Search Trending
Popular Now
Loading

Signing-in 3 seconds...

Signing-up 3 seconds...