کانگریس وفد کی الیکشن کمیشن سے ملاقات، میناکشی نٹراجن کے حق میں فوری مداخلت کا مطالبہ

AhmadJunaidJ&K News urduJune 10, 2026358 Views


کانگریس نے الیکشن کمیشن سے مطالبہ کیا کہ چونکہ نامزدگی واپس لینے کا مرحلہ جاری ہے اور فیصلہ کے لیے کافی وقت موجود ہے، اس لیے کمیشن فوری مداخلت کرتے ہوئے ریٹرننگ افسر کے حکم کو کالعدم قرار دے۔

<div class="paragraphs"><p>الیکشن کمیشن سے ملاقات کے بعد کانگریس وفد میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے، ویڈیو گریب</p></div><div class="paragraphs"><p>الیکشن کمیشن سے ملاقات کے بعد کانگریس وفد میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے، ویڈیو گریب</p></div>

i

user

google_preferred_badge

کانگریس کے ایک وفد نے راجیہ سبھا انتخاب کے لیے میناکشی نٹراجن کا پرچۂ نامزدگی مسترد کیے جانے سے متعلق معاملہ میں آج الیکشن کمیشن سے ملاقات کی۔ کانگریس لیڈران نے اس معاملہ میں الیکشن کمیشن سے فوری مداخلت کا مطالبہ کیا ہے۔ پارٹی کے ایک اعلیٰ سطحی وفد نے چیف الیکشن کمشنر اور دیگر الیکشن کمشنرز سے ملاقات کر ریٹرننگ افسر (آر او) کے فیصلے کو غیر قانونی، جانبدارانہ اور جمہوری اصولوں کے منافی قرار دیا۔

کانگریس جنرل سکریٹری (تنظیم) کے سی وینوگوپال نے اس ملاقات کے بعد پریس بریفنگ کے دوران بتایا کہ پارٹی کے وفد میں ڈاکٹر ابھشیک منو سنگھوی، وویک تنکھا، رندیپ سنگھ سرجے والا، جے رام رمیش، دیپا داس منشی، بھوپیش بگھیل، میناکشی نٹراجن اور وہ خود شامل تھے۔ انہوں نے یہ بھی جانکاری دی کہ وفد نے الیکشن کمیشن کے سامنے اس معاملے سے متعلق تمام حقائق اور اعداد و شمار تفصیل سے پیش کیے اور نامزدگی مسترد کیے جانے کے فیصلے پر اپنی شدید تشویش کا اظہار کیا۔

اس موقع پر کانگریس کے سینئر لیڈر اور ممتاز قانون داں ڈاکٹر ابھشیک منو سنگھوی نے کہا کہ پارٹی نے الیکشن کمیشن کے سامنے ایک مفصل نمائندگی پیش کی ہے اور یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ ریٹرننگ افسر کا حکم قانونی بنیادوں سے محروم اور سراسر غلط ہے۔ انہوں نے کہا کہ عوامی نمائندگی قانون کی دفعہ 33 اے واضح طور پر کہتی ہے کہ کسی امیدوار کے لیے صرف انہی فوجداری مقدمات کی تفصیلات ظاہر کرنا ضروری ہے جن میں 2 سال سے زیادہ سزا کی گنجائش ہو اور جن میں عدالت کی جانب سے باقاعدہ طور پر فرد جرم عائد کی جا چکی ہو۔ ان کے مطابق فرد جرم عائد کرنا ایک عدالتی عمل ہے اور یہ صرف جج ہی انجام دیتا ہے۔

سنگھوی نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ کسی بھی فوجداری معاملے میں سب سے پہلا مرحلہ نجی شکایت (پرائیویٹ کمپلینٹ) کا ہوتا ہے، جو بے بنیاد بھی ہو سکتی ہے۔ اس کے بعد مجسٹریٹ کی جانب سے شکایت کا نوٹس لینا ایک آزاد عدالتی عمل ہے۔ انہوں نے کہا کہ میناکشی نٹراجن کو صرف عدالت میں حاضر ہو کر یہ وضاحت دینے کا نوٹس ملا تھا کہ شکایت پر نوٹس کیوں نہ لیا جائے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ نوٹس ایسے مرحلے پر جاری ہوا تھا جب عدالت نے ابھی تک نوٹس نہیں لیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ قانون کی نظر میں نوٹس لیے بغیر کوئی فوجداری مقدمہ وجود میں نہیں آتا۔ محض کسی شخص پر الزام عائد کر دینا کافی نہیں ہوتا جب تک کہ عدالت اس پر باضابطہ طور پر نوٹس نہ لے۔

ڈاکٹر سنگھوی نے کہا کہ حیرت انگیز طور پر میناکشی نٹراجن کی نامزدگی ایسے وقت مسترد کر دی گئی جب ان کے خلاف نہ تو عدالت نے نوٹس لیا تھا اور نہ ہی کوئی فوجداری مقدمہ قانونی طور پر وجود میں آیا تھا۔ ان کے مطابق جب نوٹس ہی نہیں لیا گیا تو ایسی کوئی قانونی ذمہ داری بھی نہیں بنتی تھی کہ وہ کسی مقدمے کی تفصیلات اپنے کاغذات نامزدگی میں ظاہر کرتیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ دفعہ 33 اے کے تحت قانونی عمل میں پہلے نوٹس لیا جاتا ہے، پھر تفتیش ہوتی ہے اور اس کے بعد فرد جرم یا چارج شیٹ کا مرحلہ آتا ہے۔ لیکن میناکشی نٹراجن کے معاملے میں ان مراحل میں سے کوئی بھی مکمل نہیں ہوا تھا۔

کانگریس لیڈر نے اس بات کی جانب بھی توجہ دلائی کہ ریٹرننگ افسر کے حکم میں خود لفظ ’سنگیان‘ (نوٹس) استعمال کیا گیا ہے، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ عدالت نے ابھی تک نوٹس لیا ہی نہیں تھا۔ ان کے مطابق یہ بات اس فیصلے کی کمزور قانونی بنیاد کو ظاہر کرتی ہے۔ سنگھوی نے کہا کہ کانگریس نے الیکشن کمیشن کو یہ بھی یاد دلایا ہے کہ آئین ہند کے آرٹیکل 324 کے تحت کمیشن کو وسیع آئینی اختیارات حاصل ہیں۔ یہ اختیارات الیکشن کمیشن کو انصاف فراہم کرنے، غلطیوں کی اصلاح کرنے اور انتخابی عمل کی شفافیت برقرار رکھنے کا اختیار دیتے ہیں۔

ابھشیک منو سنگھوی کا کہنا ہے کہ اگر اس طرح کے فیصلوں کو برقرار رکھا جاتا ہے تو انتخابی میدان غیر مساوی ہو جائے گا، جو جمہوریت کی روح کے خلاف ہے۔ ان کے مطابق مساوی مواقع کا خاتمہ نہ صرف جمہوری اقدار کو نقصان پہنچاتا ہے بلکہ آئین کے بنیادی ڈھانچے پر بھی ضرب لگاتا ہے۔ کانگریس نے الیکشن کمیشن سے مطالبہ کیا ہے کہ چونکہ نامزدگی واپس لینے کا مرحلہ ابھی جاری ہے اور فیصلہ کرنے کے لیے کافی وقت موجود ہے، اس لیے کمیشن فوری مداخلت کرتے ہوئے ریٹرننگ افسر کے حکم کو کالعدم قرار دے۔ پارٹی کا مؤقف ہے کہ یہ فیصلہ واضح طور پر غیر قانونی، منمانی اور قانونی جواز سے خالی ہے، جسے فوری طور پر منسوخ کیا جانا چاہیے۔


0 Votes: 0 Upvotes, 0 Downvotes (0 Points)

Leave a reply

Loading Next Post...
Search Trending
Popular Now
Loading

Signing-in 3 seconds...

Signing-up 3 seconds...