
انیتا بھارتی۔ فوٹو بہ شکریہ: اسکرین گریب / دی وائر
نئی دہلی: گزشتہ ہفتے دہلی کے میکس مولر بھون میں زبان بکس کے زیر اہتمام منعقد ایک پروگرام میں شرکت کرتے ہوئے شاعرہ، مصنفہ اور ایکٹوسٹ انیتا بھارتی نے فلمساز اور ’دی تھرڈ آئی‘کی ایڈیٹر شبانی حسن والیا کے ساتھ بات چیت میں دلت تاریخ پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ صرف محبت ہی وہ راستہ ہے، جس کے ذریعے معاشرے میں اونچ نیچ اور ذات پات کے امتیاز کو ختم کیا جا سکتا ہے۔
انہوں نے ذات پات کے نظام کو مٹانے اور ایک مساوی اور منصفانہ معاشرہ قائم کرنے کے لیے محبت کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے بتایا کہ محبت کس طرح انقلابی ہو سکتی ہے، مگر اکثر اسے معمولی بنا دیا جاتا ہے۔
انیتا بھارتی نے امبیڈکر وادی تحریک کے باعث معاشرے میں آنے والی تبدیلیوں اور ان تبدیلیوں پر بھی بات کی جن کے لیے ابھی جدوجہد کی ضرورت ہے۔ انہوں نے اینٹی کاسٹ اور خواتین کے حقوق کی تحریکوں میں اپنے کام کے بارے میں بھی بات کی۔ اس کے ساتھ ہی دلت ادب کی جانب بھی توجہ مبذول کرائی۔
اس بات چیت میں انہوں نے کہا کہ جب تک معاشرے میں محبت نہیں ہوگی، وہ مختلف خانوں میں بٹا رہے گا، اور ان خانوں کو توڑنے کا کام صرف محبت ہی کر سکتی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ بابا صاحب امبیڈکر نے بھی کہا تھا کہ انٹر کاسٹ میرج ایک طریقہ ہے، جس کے توسط سے ہم ذات پات کی دیوار کو توڑ سکتے ہیں۔ یہ شاید مکمل طور پر مؤثر نہ بھی ہو، لیکن ایک اہم وسیلہ ضرور ہے۔
انہوں نے سوال اٹھایا کہ آخر ذات کیا ہے؟ اور یہ ختم کیوں نہیں ہوتی؟ اس تناظر میں ہمارے سامنے بے شمار محبت کی کہانیاں اور ان کے انجام موجود ہیں۔ ذات پات دراصل خون کی پاکیزگی کی بات کرتی ہے کہ ایک ذات کا مرد یا عورت کو دوسری ذات کے مرد یا عورت سے تعلق نہیں رکھنا چاہیے۔ لیکن محبت ہمیشہ مشکل حالات میں پروان چڑھتی ہے۔ یہ کوئی سمجھوتہ نہیں بلکہ ایسا رشتہ ہے جس کے لیے انسان ذات، زبان اور خوف کی ہر دیوار توڑنے کو تیار ہو جاتا ہے۔
انیتا کہتی ہیں کہ جو لوگ محبت کرتے ہیں وہ یہ نہیں دیکھتے کہ جس سے وہ محبت کرتے ہیں وہ کس ذات یا مذہب سے تعلق رکھتا ہے یا اس کا رنگ و روپ کیا ہے۔ محبت انسان کو آزاد کرتی ہے، اس کے اندر تبدیلی لاتی ہے، اور وہ دوسرے شخص کو عزت دینا اور اس کے جذبات کی قدر کرنا سیکھتا ہے۔ محبت میں برابری کی جگہ دینے کا جذبہ پیداہوتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ بابا صاحب نے کہا تھا کہ ہندوستان جاتی ایسی ہے، جیسے ایک کثیر منزلہ مکان، جس میں لوگ تو رہتے ہیں مگر اس میں کوئی کھڑکی یا دروازہ نہیں ہے، لوگ ایک دوسرے کے گھروں میں آ-جا نہیں سکتے اور نہ ہی کسی سےہاتھ ملا سکتے ہیں۔ ایسے میں ذات پات کو ختم کرنے کا ایک ہی طریقہ ہے کہ ہم محبت کریں اور ایک دوسرے سے محبت کے ساتھ ملیں۔
انیتا کے مطابق، محبت اس لیے بھی انقلابی ہے کہ یہ دوسروں کے لیے بھی ویسا ہی سوچتی ہے جیسا اپنے لیے۔ اس میں نہ کوئی عدم مساوات کی جگہ ہے اور نہ ہی حقارت کی۔
جب ان سے یہ سوال کیا گیا کہ دلت ادب میں محبت نہ ہونے کے الزامات لگتے ہیں، تو انہوں نے کہا کہ محبت ایک بہت وسیع تصور ہے۔ جو لوگ اسے صرف دو افراد کے درمیان رومانوی تعلق تک محدود کر دیتے ہیں، وہی ایسا کہتے ہیں۔ ورنہ معاشرے میں پائی جانے والی ناانصافیاں، عدم مساوات اور ذات و جنس کی بنیاد پر امتیاز کے خلاف دلت مسلسل جدوجہد کرتے ہیں، اور محدود وسائل کے باوجود ایک دوسرے کے ساتھ مل جل کر رہتے ہیں-یہی تو محبت ہے۔
انہوں نے کہا کہ دلت خاندانوں میں مادہ جنین کا قتل، بچوں پر تشدد یا دشمنی میں قتل جیسی چیزیں نہیں ہوتیں۔ وہ اپنے محدود وسائل کے باوجود ایک دوسرے کے ساتھ محبت سے جیتے ہیں۔
انیتا کے مطابق، دلت ادب میں بھوک ہے، درد ہے مایوسی ہےسب کچھ ہے، مگر اس میں نفرت یا قتل نہیں ہے۔ اس میں زندگی کے حالات سے لڑنے کی جدوجہد اور ان کے بیچ تعلقات میں اطمینان پایا جاتا ہے۔ جبکہ اشرافیہ کے ادب میں رشتوں میں بے اطمینانی اور محبت کو حاصل کرنے کی خواہش غالب ہوتی ہے، جہاں آپ دوسروں پر کنٹرول کر لینا چاہتے ہیں۔ وہیں،دلت معاشرے میں ایسا نہیں ہے، اس لیے جو لوگ کنٹرول کو محبت سمجھتے ہیں وہ دلت محبت کو نہیں سمجھ سکتے۔
انہوں نے کہا کہ ہمارے معاشرے میں محبت کو بدنام کرنے کے لیے مختلف باتیں کہی جاتی ہیں اور ذات -کجات کے دلائل دیے جاتے ہیں، لیکن محبت اپنی اصل میں اس قدر انقلابی ہے کہ وہ کسی بندھن کو نہیں مانتی۔ یہ تمام تعصبات کو توڑ دیتی ہے، سب کو برابری کے ساتھ لے کر چلتی ہے، خواتین کو کمتر نہیں بلکہ برابری کا مقام دیتی ہے، اور لوگوں کو تمام برائیوں سے آزاد کر دیتی ہے۔
مکمل بات چیت کو اس لنک پر ملاحظہ کیا جا سکتا ہے؛






