کانگریس امیدوار میناکشی نٹراجن کی نامزدگی مسترد ، الیکشن کمیشن پر اٹھے سوال

AhmadJunaidJ&K News urduJune 10, 2026359 Views


مدھیہ پردیش سے راجیہ سبھا انتخابات کے لیے کانگریس امیدوار میناکشی نٹراجن کی نامزدگی مسترد ہونے کے بعد سیاسی تنازعہ اور گہرا ہوگیا ہے۔ کانگریس نے الیکشن کمیشن اور مرکزی حکومت پر جمہوری اداروں کے غلط استعمال کا الزام لگایا ہے، وہیں بی جے پی نے نامزدگی کے پرچہ میں حقائق چھپانے کا الزام لگایا ہے۔

فائل فوٹو:کانگریس رہنما میناکشی نٹراجن حیدرآباد میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے۔ (تصویر: پی ٹی آئی)

نئی دہلی:مدھیہ پردیش سے راجیہ سبھا انتخابات کے لیے کانگریس کی واحد امیدوار میناکشی نٹراجن  کی نامزدگی منگل (8 جون 2026) کو مسترد کر دی گئی۔ اس کے بعد بھوپال سے نئی دہلی تک سیاسی پیش رفت میں تیزی سے تبدیلی آئی اور کانگریس نے الیکشن کمیشن اور مرکزی حکومت پر سنگین الزامات عائد کیے۔

نٹراجن کی نامزدگی مبینہ طور پر اس بنیاد پر مسترد کی گئی کہ انہوں نے اپنے حلف نامے میں اپنے خلاف زیر التوا ایک معاملے کی تفصیلات درج نہیں کی تھیں۔ نامزدگی مسترد ہونے کے بعد کانگریس ارکان پارلیامنٹ کا ایک وفد نئی دہلی میں واقع الیکشن کمیشن کے دفتر پہنچا، لیکن پارٹی کا الزام ہے کہ انہیں اندر جانے کی اجازت نہیں دی گئی۔ اس کے بعد وفد نے کمیشن کے دفتر کے باہر دھرنا دیا۔

کانگریس نے ایک بیان جاری کرتے ہوئے وزیر اعظم نریندر مودی اور الیکشن کمیشن پر ’ہر جمہوری آواز کو دبانے‘ کا الزام لگایا۔

پارٹی نے کہا، ’جب آئینی اداروں کو سیاسی سہولت کےاوزار میں بدل دیا جاتا ہے تو جمہوریت زندہ نہیں رہ سکتی۔ مدھیہ پردیش سے کانگریس کی راجیہ سبھا امیدوار میناکشی نٹراجن کی نامزدگی  کومسترد کیا جانا ہمارے جمہوری اداروں کی غیر جانبداری پر سنگین سوال کھڑے کرتا ہے۔‘

کانگریس نے مزید کہا، ’جب کانگریس کا ایک وفد اس فیصلے کو چیلنج کرنے کے لیے الیکشن کمیشن پہنچا تو حکام نے ان سے ملاقات تک سے انکار کر دیا، جس کے بعد انہیں کمیشن کے باہر دھرنا دینے پر مجبور ہونا پڑا۔ پورا ملک یہ منظر دیکھ رہا ہے۔‘

کانگریس کا ایک وفد بدھ کو بھی نئی دہلی میں الیکشن کمیشن سے ملاقات کرنے والا ہے۔

نامزدگی مسترد ہونے کے بعد کانگریس کے جنرل سکریٹری کے سی وینوگوپال، رکن پارلیامنٹ جئے رام رمیش، راجستھان کے سابق نائب وزیر اعلیٰ سچن پائلٹ اور چھتیس گڑھ کے سابق وزیر اعلیٰ بھوپیش بگھیل الیکشن کمیشن کے دفتر پہنچے تھے۔ تاہم انہیں اندر داخل ہونے کی اجازت نہیں دی گئی، جس کے بعد انہوں نے باہر دھرنا دیا۔

کانگریس نے کہا، ’اس طرح کی ہر کارروائی اداروں کی آزادی اور ہماری جمہوریت کی صحت پر سنگین سوال اٹھاتی ہے۔ جمہوریت عوام کی ہے، ان لوگوں کی نہیں جو اسے کمزور کرنا چاہتے ہیں۔ وزیر اعظم مودی اور الیکشن کمیشن ان تمام جمہوری آوازوں کو دبانا چاہتے ہیں جو حکومت کو چیلنج کرتی ہیں۔ لیکن آئین اور جمہوری اقدار کے تحفظ کے لیے ہماری جدوجہد جاری رہے گی۔‘

اس سے قبل منگل کو بی جے پی کے ریاستی جنرل سکریٹری راہل کوٹھاری نے میناکشی نٹراجن کی نامزدگی پر اعتراض اٹھایا تھا۔ انڈین ایکسپریس کی رپورٹ کے مطابق، انہوں نے حیدرآباد کی ایک عدالت میں زیر سماعت ایک نجی شکایت کا حوالہ دیا۔

دوسری جانب کانگریس کے راجیہ سبھا رکن وویک تنکھا نے کہا کہ نٹراجن کی نامزدگی کے حوالے سے غلط فہمیاں پھیلائی جا رہی ہیں اور ان کے خلاف کوئی فوجداری مقدمہ درج نہیں ہے۔

تنکھا نے کہا، ’کوئی فوجداری مقدمہ درج نہیں ہوا۔ صرف ایک نوٹس جاری کیا گیا ہے، جس میں پوچھا گیا ہے کہ ان اور چند دیگر افراد کے خلاف 10 کروڑ روپے معاوضے کی کارروائی کیوں نہ شروع کی جائے۔ میناکشی جی کے وکیل اس نوٹس کا جواب بھی دے چکے ہیں۔ کوئی ایف آئی آر درج نہیں ہوئی ہے۔‘

مدھیہ پردیش کے سابق وزیر اعلیٰ کمل ناتھ نے بھی بی جے پی پر حملہ کرتے ہوئے کہا کہ کانگریس امیدوار کو شکست دینے کے لیے اس نے ’سیاسی اخلاقیات اور جمہوری روایات کی تمام حدیں پار کر دی ہیں۔‘

کمل ناتھ نے یہ الزام بھی لگایا کہ کانگریس کے اراکین اسمبلی کو ریاست سے باہر لے جا رہی پرواز کو دانستہ طور پر تاخیر کا شکار بنایا گیا۔ انہوں نے نٹراجن کی نامزدگی پر اعتراض کو ان کی امیدواری کو سبوتاژ کرنے کی بدنیتی پر مبنی کوشش قرار دیا۔

کانگریس نے اپنے اراکین اسمبلی کو کرناٹک بھیجنے کا منصوبہ بنایا تھا۔

ایک پریس کانفرنس میں میناکشی نٹراجن نے کہا،’جو معاملہ پہلے ووٹ چوری تک محدود تھا، اب سیٹ چوری تک پہنچ گیا ہے۔‘

انہوں نے کہا،’جب انہیں لگا کہ ایوان متحد ہے ، تو انہوں نے ایک قانونی نوٹس کا سہارا لیا، جس پر ابھی تک کوئی باضابطہ کارروائی بھی شروع نہیں ہوئی تھی۔ انہوں نے انتخابی درخواست کو چیلنج کیا۔ ہمارے دونوں وکلاء نے اپنے دلائل پیش کیے، لیکن انہیں سنا نہیں گیا اور فیصلہ سنا دیا گیا۔‘

نٹراجن نے کہا، ’اب ان کی منشاصاف ہو چکی ہے۔ یہ صرف ایک امیدوار کا معاملہ نہیں بلکہ ملک میں ایک سنگین صورتحال پیدا ہو گئی ہے۔‘

بتادیں کہ230 رکنی مدھیہ پردیش اسمبلی میں بی جے پی کے پاس 164 ایم ایل اے ہیں اور اس کے پاس راجیہ سبھا کی دو نشستیں آسانی سے جیتنے کے لیے مطلوبہ تعداد موجود ہے۔ اس کے باوجود پارٹی نے انتخاب میں تین امیدوار میدان میں اتارے ہیں، قومی جنرل سکریٹری ترون چگھ، ریاستی یونٹ کے سکریٹری راجنیش اگروال اور ریاستی ماہی پروری و فلاحی بورڈ کے چیئرمین مہیش کیوٹ۔

مہیش کیوٹ کی امیدواری کے بعد کراس ووٹنگ اور پارٹی تبدیل کرنے کے امکانات سے متعلق قیاس آرائیاں تیز ہو گئی تھیں۔

ادھر مدھیہ پردیش حکومت میں وزیر اور بی جے پی کے سینئر رہنما کیلاش وجئے ورگیہ نے دعویٰ کیا کہ نٹراجن کے خلاف شکایت سے متعلق دستاویز انہیں کانگریس کے زیر اقتدار تلنگانہ سے موصول ہوئی ہیں، جہاں نٹراجن آل انڈیا کانگریس کمیٹی کی انچارج ہیں۔

وجئے ورگیہ نے کہا، ’یہ دستاویز ہمارے پاس کہاں سے آئے؟ کس نے دیے؟ اس سے آپ کانگریس کی حالت کا اندازہ لگا سکتے ہیں۔ ہمیں تلنگانہ سے کاغذ مل رہے ہیں، جہاں کانگریس کی حکومت ہے، اور وہیں سے ہمیں معلومات فراہم کی جا رہی ہیں۔ کانگریس اپنے اراکین اسمبلی کو بنگلورو لے جائے یا کہیں اور، لیکن ملک کے عوام کا بھروسہ مودی پر ہے۔‘



0 Votes: 0 Upvotes, 0 Downvotes (0 Points)

Leave a reply

Loading Next Post...
Search Trending
Popular Now
Loading

Signing-in 3 seconds...

Signing-up 3 seconds...