
فوٹو: ایمرلڈ پریس/السٹریشن: پری پلب چکرورتی/دی وائر
تقریبا تین ہفتہ پہلے ہندوستان کی ڈیجیٹل دنیا میں ایک انقلاب آیا۔ چیف جسٹس آف انڈیا کے ایک بیان نے ملک کے نوجوانوں اور بے روزگاروں کو شدید طور پر ذہنی چوٹ پہنچائی۔
وہ بپھرے ہوئے تھے،لیکن ان کو متحد کرنے والا اور ان کو اپنے جذبات کے اظہار کا موقع دینے والا کوئی میڈیم نہیں تھا۔ بوسٹن امریکہ میں بیٹھے ایک نوجوان ابھیجیت دیپکے نے ، جو کبھی عام آدمی پارٹی کے سوشل میڈیا سیل سے وابستہ تھے، اپنی بھڑاس نکالنے کے لیے طنزا ًایک ڈیجیٹل پارٹی بنا لی جس کا نام کاکروچ جنتا پارٹی رکھ دیا۔
کاکروچ جنتا پارٹی اور اس کا پانچ نکاتی منشور جنگل کی آگ کی طرح نوجوانوں میں پھیل گیا۔دیکھتے دیکھتے پورے ملک کےلاکھوں نوجوانوں نے ‘میں کاکروچ ہوں ‘کو ا یک مزاحمتی نعرے میں بدل دیا۔
تین دن میں اس کے ایکس اور انسٹاگرام جیسے بے پناہ مقبول سوشل میڈیا پلیٹ فارموں پر فالوور کی تعداد دنیا کی سب سے بڑی پارٹی ہونے کی دعویدار بھارتیہ جنتا پارٹی کے برابر اور پانچ دن میں کم وبیش دوگنی یعنی تقریبا دو کروڑ ہو گئی۔
سوشل میڈیا پر بلا مبالغہ سینکڑوں میم بن گئے اور درجنوں ریپ سانگ لکھ دیے گئے۔ ایک ایک فیس بک / یوٹیوب / انسٹا اور ایکس پوسٹ کو ہزاروں لائک، سینکڑوں تائیدی کمنٹ ملے اور بے شمار لوگوںُ نے شئیر کیے۔
مزے کی بات یہ ہے کہ نوجوانوں کو کاکروچ کہنے والی بات چیف جسٹس صاحب نے کہی تھی، لیکن کاکروچ جنتا پارٹی کی تنقید کا نشانہ سیدھے طور پر نریندرمودی اور بھاجپا ہیں۔
صاف ظاہر ہے کہ ملک کے نوجوانوں میں نہ صرف وزیراعظم کی اب تک کی کارکردگیوں کے خلاف غم و غصہ ہے بلکہ وہ عدلیہ کے ذریعہ حکومت کی کھلی طرفداری سے بھی مایوس اور رنجور ہیں۔ ورنہ جسٹس صاحب کا بیان حکومت مخالف ردعمل میں نہیں بدلتا۔
اس دوران جیسا کہ پچھلے دس بارہ سالوں میں بار بار دیکھا گیا ہے، حکومت کی طرف سے مخالف آوازوں کا گلا گھونٹنےکی پوری کوشش کی جاتی ہے۔ چنانچہ کاکروچ جنتا پارٹی کے ایکس ہینڈل،انسٹا گرام پیج اور پھر اس کی ویب سائٹ سب پر حکومت کی بجلی گر چکی ہے۔
ابھی جبکہ یہ سوال زیر بحث تھا کہ کیا یہ ڈیجیٹل تحریک ایک سیاسی تحریک بن جائے گی، کہ پہلے نیٹ کے پیپر لیک ہونے کی خبر نے تہلکہ مچا دیا اور پھر سی بی ایس سی اور نیشنل ٹیسٹنگ ایجنسی (این ٹی اے)کے مبینہ کرپشن کے معاملات سامنے آگئے۔
ایک؛ ایک طالبعلم کو اس کا نہیں کسی اور کا جواب نامہ بھیجا گیا اور دو؛ ایک نوجوان اسٹوڈنٹ نےسی بی ایس ای کے آن لائن مارکنگ سسٹم میں مبینہ کرپشن کو اجاگر کر دیا۔
پھراین ٹی اےمیں بد نظمی کی بات کھلی۔ اسی دوران سی یو ای ٹی امتحان میں بد نظمی کا واویلا اٹھ کھڑا ہوا۔ ایس ایس سی کے امتحانات میں ہونے والی گڑبڑیوں سے نوجوان پہلے ہی نالاں ہیں۔
ایک طرح سے پورےملک میں نوجوانوں کا پارہ چڑھا ہوا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ ان کے پریواروں کا۔
ایسے وقت میں کاکروچ جنتا پارٹی کی تحریک کو حکومت کے سامنے ایک ٹھوس مطالبہ رکھنے کی ضرورت تھی۔ چنانچہ پارٹی نے اپنی پوری طاقت وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفیٰ کی مانگ پر مرکوز کر لی ہے۔
Important announcement:
CJP Founder @abhijeet_dipke will return to India on June 6 for a peaceful protest at Jantar Mantar, Delhi, demanding the resignation of the Education Minister. pic.twitter.com/x9M1v38Pwu
— Cockroach is Back (@Cockroachisback) June 1, 2026
اور جہاں تک پارٹی کوزمین پر اتارنے کے لیے کسی قائد کی ضرورت ہے تو پارٹی کے بانی ابھیجیت دیپکے نے چار دن پہلے یہ اعلان کر کے تحریک میں زندگی پیدا کر دی ہےکہ وہ 6 جون کو دہلی آئیں گے اور جنتر منتر پر پر امن احتجاج کریں گے۔
آپ کو یاد ہوگا کہ دو ہفتہ پہلے وہ اپنے ایک بیان میں یہ کہہ چکے تھےکہ اگر ابھی وہ ہندوستان آتے ہیں تو انہیں گرفتار کر کے تہاڑ جیل میں بند کر دیا جائے گا۔ یعنی جیل کا ڈر اب ان کے دل سے نکل گیا ہے۔
نئی دہلی میں بدھ، 3 جون 2026 کو کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) کے چیف ترجمان سورَو داس (درمیان)، وجیتا دہیا (بائیں) اور آشوتوش رانکا (دائیں) پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے۔ تصویر: پی ٹی آئی۔
فوری طور پرپارٹی کی ترجمانی کے لیے تین نوجوانوں کی ایک ٹیم بن گئی ہے جس نے پرسوں کانسٹی ٹیوشن کلب میں پریس کانفرنس کی۔ اسی دوران لداخ کے مشہور ماحولیاتی کارکن سونم وانگچک نے ، جنہیں کچھ دنوں پہلے مرکزی حکومت نے کئی ماہ جیل میں قید رکھا تھا، تحریک کی حمایت کے لیے خود دہلی ہوائی اڈہ پہنچنے کا وعدہ کیا ہے۔
گویا معرکہ کے لیے میدان پوری طرح تیار ہے۔حکومت نے منفی( پابندی والا طریقہ) اور مثبت ( 21 مئی کو مودی نے اپنی کابینہ کو نوجوانوں کے لیے بہتر کام کرنے کی ہدایت دے دی ہے) دونوں اقدامات شروع کر دیے ہیں۔ سوشل میڈیا کی سرگرمیوں پر بھروسہ کریں تو ملک بھر کے نوجوان سڑکوں پر نکل رہے ہیں۔
کاکروچ تحریک کیا اپنے مقصد میں کامیاب ہوگی۔ کیا 2011 کی اناہزارے تحریک اس کی مثال بن پائے گی؟شاید انا ہزارے کی تحریک کی مثال آج کے حالات پر پوری طرح صادق نہیں آتی۔ وہ ایک جھوٹی تحریک تھی جس کے پس پردہ بھاجپا اور آر ایس ایس کام کر رہا تھا، کیونکہ اس کا براہ راست فائدہ بھارتیہ جنتا پارٹی کو ہونے والا تھا اور ہوا بھی۔
کاکروچ جنتا پارٹی کی پس پردہ حمایت بھی کوئی سیاسی پارٹی یا جماعت کرے، اس کا امکان نظر نہیں آتا۔ کیونکہ موجودہ حالات میں سیاسی پارٹیوں بشمول کانگریس، کسی کو براہ راست فائدہ پہنچنے کی کوئی امید نہیں ہے۔
کاکروچ جنتا پارٹی اگر زمینی سطح پر قائم بھی ہوتی ہے تو وہ خود ایک سیاسی پارٹی ہو گی۔ جو انا موومنٹ سے نکلی عام آدمی پارٹی ہی کی طرح بجائے خود محدود پہنچ والی ایک پارٹی ہوگی۔انتخابی سیاست میں اسے بھاجپا ہی کی طرح کانگریس اور دیگر پارٹیوں سے مقابلہ کرنا ہوگا ۔
دوسری اور سامنے کی مثالیں ہمارے پڑوسی ممالک سری لنکا، بنگلہ دیش اور نیپال کی ہیں۔ تازہ ترین مثال نیپال کی ہے لہذا اسی کو سامنے رکھتے ہیں۔
نیپال میں نوجوانوں نے اقتدار کو چیلنج کیا اور کامیاب ہوئے۔ اب وہاں نوجوانوں کی حکومت ہے جس سے عوام کو بڑی امیدیں ہیں۔ یہاں یہ ذہن میں رہے کہ نیپال ( بنگلہ دیش اور سری لنکا کی طرح ہی) ایک چھوٹا سا ملک ہے، جہاں ایک اوسط قائدانہ صلاحیت والے ریپ سنگر بالیندر سنگھ کی قیادت سب کو قابل قبول ہوئی۔ دوسری اہم بات یہ کہ نیپال میں عوامی بے چینی کرپشن اور اقربا پروری کی وجہ سے تھی۔
لیکن وہاں ابھی ملک کے بڑے صنعتکار اور سرمایہ دار کسی ایک پارٹی یا شخص کا ایک متحرک بازو نہیں بنے تھے اور حکومتی مشینری اور عدلیہ اور خفیہ اداروں اور الیکشن کمیشن پر اس طرح کسی سیاسی لیڈر کا کنٹرول نہیں ہوا تھا جیسا مودی کے زیر حکومت ہندوستان میں ہم دیکھ رہے ہیں۔
اور سب سے بڑھ کر یہ کہ قومی سطح کا میڈیا حکومت کا اس طرح زرخرید غلام نہیں تھا، جیسا وہ ہندوستان میں ہے۔
افسوس کا مقام یہ ہے کہ آج جس نوجوان طبقہ کی بے چینی ملک بھر میں جوالا بنی ہوئی ہے، اسی نوجوان طبقے نے مودی کو لوہے کے دستانے بھینٹ کیے ہیں۔
اب درج بالا سارے عناصر نے مل کر مودی کو اتنا طاقتور بنا دیا ہے کہ کھلے میدان کے سیاسی مقابلے میں مودی سے پنجہ لڑانے کی قوت کسی اور میں نہیں ہے۔ ایسے میں کاکروچ جنتا پاٹی جیسی وقتی ابال والی تحریک صرف تبھی حکومت کے لیے ایک چیلنج بن سکتی ہے جب وہ اپنی تحریک کو زیادہ عرصے تک جاری رکھ سکے۔
ابھیجیت دیپکے کے ہندوستان میں قدم رکھتے ہی تحریک کو زندگی مل جائے گی، خواہ انہیں جیل ہی کیوں نہ ہو جائے۔ ملک بھر میں جو اشتعال نوجوانوں میں ہے اور جتنی بے چینی عوام میں ہے، حکومت کی سختی خود اس کے لیے نقصان دہ ہوگی۔
کاکروچ جنتا پارٹی اور مسلمان
کیا اس تحریک میں مسلمانوں کو شامل ہونا چاہیے۔ سامنے کا جواب تو یہ ہے کہ ملک کے شہری ہونے کے ناطے انہیں ایسی کسی بھی عوامی تحریک میں ضرور شامل ہونا چاہیے جو ملکی مفاد میں سرگرم ہو۔
اگرچہ خاصی تعداد میں سوشل میڈیا پر موجود عام مسلمان کاکروچ پارٹی کی حمایت کر رہے ہیں مگر اصل حمایت وہ ہے جو نظر بھی آئے، جو دیگر کارکنوں کی طرح نمایاں بھی ہو اور نمایاں پہلی صف کے لوگ ہی ہوتے ہیں۔
اس بات سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ موجودہ ہندوستان میں مسلمانوں کے حالات ابتر اور معاملات بہت پیچیدہ ہو گئے ہیں۔ تاہم سوشل میڈیا پر کئی مبصرین نے اول تو تحریک کے مقصد اور پس پردہ عوامل کو شک کی نگاہ سے دیکھا ہے۔
پھراس اس بات کو اجاگر کرتے ہوئے کہ مسلمان حکومت وقت کے لیے نرم چارہ ہیں، انہیں تحریک سے دور رہنے کے حق میں دلیل دی ہے۔
سچی بات یہی ہے کہ انا ہزارے کی تحریک کے بعد کسی بھی ایسی تحریک کی جانچ پڑتال کر کے ہی اس کی طرف بڑھنا چاہیے۔ مسلمان حکومت کے عتاب کے شکار جلدی ہو جاتے ہیں۔
عمر خالداور شرجیل امام اور صدیق کپن اور گلفشاں فاطمہ اور خان محمود آباد جیسے مسلم نوجوانوں کی قید وبند مزاحمت کے لیے اٹھنے والے مسلم نوجوانوں کے لیے حوصلہ شکن ہیں۔
فوٹو : پی ٹی آئی
لیکن اگر آپ پورے ملک میں سیاسی سرگرمیوں کی سزا میں قید و بند جھیلنے والوں کی تعداد دیکھیں تو شاید آپ جان پائیں کہ حکومت کے عتاب کے شکار صرف مسلمان نہیں ہیں۔ بھیما کورے گاؤں کیس میں نسلی تشدد اور مبینہ نکسل حامی ہونے کے الزام میں اعلیٰ تعلیم یافتہ سولہ لوگ گرفتا کیے گئے تھے ان میں سے کچھ کو کئی کئی سال بعد ضمانت ملی، کچھ نظربند ہیں اور دس گیارہ اب بھی قید میں ہیں ۔
ان میں سے ایک اسٹین سوامی قید وبند کی صعوبتیں کے آگے جان بھی ہار چکے ہیں۔ لیکن اب تک ان حریت پسندوں کے حوصلے کمزور نہیں پڑے ہیں۔ مقدمہ ابھی سپریم کورٹ میں ہے۔
اسی سال اپریل میں نوئیڈا مزدور تحریک کی حمایت کرنے پر ستیم ورما اور آکرتی چکرورتی کو نیشنل سیکورٹی ایکٹ کے تحت جیل میں ڈال دیا گیا ہے۔ ایسی ہی جانے کتنی تحریکوں میں جانے کتنے لوگ گرفتار ہیں۔ کتنے ہی وہسل بلوور اور آر ٹی آئی ایکٹوسٹ اپنی جانیں گنوا چکے ہیں۔ بقول شاعر شہید کی جو موت ہے وہ قوم کی حیات ہے۔
ہندوستانی مسلمان ملک کی سول سوسائٹی کا حصہ بننے سے اب تک کتراتے رہے ہیں۔ اور یہ صرف آج کی مسلم کش حکومت کے زمانے کی بات نہیں ہے۔ 2014 سے پہلے کے حالات بھی کچھ کم مسلم دشمن نہیں تھے ، گر چہ اس طرح کھلم کھلا مسلم کش نہیں تھے۔ مگر تب بھی مسلمانان ہند جمہوری جدوجہد میں کم کم ہی شریک ہوئے۔
جمہوریت میں یقین کا اظہار صرف جمہوری عمل میں شریک ہونے یعنی ووٹ ڈالنے سے نہیں ہوتا۔ جمہوریت میں یقین ہے تو جمہوری جدوجہد میں بھی حصہ لینا پڑے گا۔
آج جو کاکروچ کھل کر سامنے آ گئے ہیں تو وہ اس لیے کہ جمہوریت پر ان کا یقین صرف جمہوری عمل میں شریک ہونے تک محدود نہیں رہا۔ جمہوریت کو جب آپ کا پسینہ درکار ہو تو وہ دیجیے اور جب خون درکار ہو تو وہ بھی دیجیے۔
اس وقت ملک کی جمہوری جدوجہد کو مسلمانوں کی جتنی ضرورت ہے اس سے زیادہ مسلمانوں کو جمہوری جدوجہد کی ضرورت ہے۔ ان کی جان اور ا مان اور مذہبی و ملی تشخص سب کچھ کی ضمانت ہندوستان کے آئین میں درج جمہوری نظام میں مضمر ہے۔ اس وقت ملک کا جمہوری نظام تیزی سے ختم ہو رہا ہے۔
یہ بات نا قابل قبول ہے کہ بیس کروڑ آبادی رکھنے والی ایک قوم کے نوجوان اپنے عہد کی آواز میں آواز ملانے سے بچے رہیں کیونکہ ان کے سامنے اضافی خطرہ ہے۔
مسلمان قوم خدا کے علاوہ کسی اور سے ڈرنے والی نہیں ہے۔ وہ آج کے حاکم وقت سے کیوں ڈر جائے۔ یعنی یہ تو ایمان کا بھی تقاضہ ہے کہ وہ اپنے عہد کی جائز آواز میں شامل ہو۔
اس دوران صرف سپریم کورٹ کے وکیل محمود پراچہ صاحب کا بیان نظر سے گزرا کہ وہ 6 جون کے احتجاج میں شامل ہونے والوں کے ساتھ کھڑے ہوں گے۔مسلمانوں کے درمیان سے اس طرح کے اور بہت سے نامور لوگوں کو سامنے آنے کی ضرورت ہے۔
یہ ملک مسلمان کی بھی ویسی ہی ملکیت ہے جیسےکسی ہندو سکھ یا عیسائی کی اور اسی لیے اس کی ذمہ داری بھی اتنی ہی ہے جتنی دیگر ملتوں کی۔ پھر یہ نہ بھولیے کہ آزادی کی لڑائی میں مسلمانوں نے بھی انگریزوں کے خلاف ویسی ہی جدو جہد کی تھی، جیسی دیگر ملتوں نے۔
آج مسلمانوں کے لیے ملکی حالات بد سے بد تر ہوتے جارہے ہیں۔ دائیں بازو کی حکومتیں لگاتار انہیں دبا رہی ہیں۔ ایسے وقت میں انہیں سر جوڑ کر بیٹھنا چاہیے کہ مزاحمتی تحریکوں سے بے نیاز رہتے ہوئے انہیں اپنے خول میں بند رہنا ہے یا ہندوستانی سول سوسائٹی، جو اس وقت ملکی مفاد کے لیے بہت مشکل لڑائی لڑ رہی ہے ،اس کا ساتھ دینا ہے۔
بات صرف کاکروچ پارٹی کا ساتھ دینے یا نہ دینے کی نہیں ہے۔ بات ملک کے مستقبل کی ہے جس سے مسلمانوں کا مفاد بھی اتنا ہی جڑا ہوا ہے جتنا دیگر برادران وطن کا۔ فیصلہ مشکل ہے لیکن زندہ قومیں مشکل وقت میں مشکل فیصلے لینے سے بھی نہیں گھبراتیں۔
(خورشید اکرم معروف فکشن نویس اور ماہنامہ ’آج کل‘،نئی دہلی کے سابق ایڈیٹر ہیں۔)






