پٹنہ کے 30 ہوٹلوں اور 30 اسپتالوں پر تالا لگانے کی تیاری، فائر سیفٹی اصولوں کی خلاف ورزی پر کارروائی

AhmadJunaidJ&K News urduJune 5, 2026359 Views


ضلعی فائر کمانڈنٹ رتیش کمار پانڈے کی سخت ہدایات پر 4 جون کو پٹنہ کے مختلف علاقوں میں واقع متعدد ہوٹلوں اور اسپتالوں کا اچانک معائنہ کیا گیا۔

علامتی تصویرعلامتی تصویر

i

user

google_preferred_badge

دہلی کے مالویہ نگر میں واقع ایک ریسٹ ہاؤس اور مظفرپور کے ایک اسپتال میں پیش آنے والے ہولناک آتشزدگی کے واقعات کے بعد بہار کا محکمۂ فائر بریگیڈ پوری طرح الرٹ موڈ میں آ گیا ہے۔ حفاظتی معیارات کو نظر انداز کرنے والے اداروں کے خلاف محکمہ نے اب تک کی سب سے بڑی کارروائی شروع کر دی ہے۔ پٹنہ ضلع کے 30 مشہور ہوٹلوں اور 30 اسپتالوں کو سیل کرنے، یعنی ان پر تالا لگانے کی تجویز ریاستی فائر آفیسر کو بھیج دی گئی ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق ضلعی فائر کمانڈنٹ رتیش کمار پانڈے کی سخت ہدایات پر جمعرات کے روز پٹنہ کے مختلف علاقوں میں واقع متعدد ہوٹلوں اور اسپتالوں کا اچانک معائنہ کیا گیا۔ اس جانچ مہم کے دوران حکام نے پایا کہ مجموعی طور پر 60 ایسے ادارے ہیں جنہیں پہلے ہی آگ سے تحفظ کے مؤثر انتظامات کرنے کے لیے محکمہ کی جانب سے باضابطہ نوٹس جاری کیا جا چکا تھا۔ اس کے باوجود ان اداروں نے ضوابط پر عمل نہیں کیا۔ حفاظتی معیارات کی مسلسل خلاف ورزی کو دیکھتے ہوئے ضلعی فائر کمانڈنٹ نے ان تمام 30 ہوٹلوں اور 30 اسپتالوں کی عمارتوں کو مکمل طور پر سیل کرنے کی سفارش اعلیٰ حکام سے کر دی ہے۔

محکمہ کے ہیڈکوارٹر کی جانب سے ریاست کے تمام ضلعی فائر افسران کو ہدایات جاری کی گئی ہیں کہ اگر نشان زد ادارے مناسب حفاظتی انتظامات نہیں کرتے تو ان کے خلاف براہِ راست سیلنگ کی کارروائی شروع کر دی جائے۔ اس معاملہ میں ضلعی فائر کمانڈنٹ رتیش کمار پانڈے نے بتایا کہ محکمہ اب کسی بھی سطح پر نرمی برتنے کے موڈ میں نہیں ہے۔ جانچ کے دوران سامنے آنے والے یہ 30 ہوٹل اور 30 اسپتال مسلسل نوٹس دیے جانے کے باوجود قواعد و ضوابط کی کھلی خلاف ورزی کر رہے تھے۔

محکمۂ فائر بریگیڈ سے موصول اعداد و شمار کے مطابق ضلع میں 462 اسپتالوں کا آڈٹ کیا گیا۔ ان میں سے صرف 384 اسپتال ہی حفاظتی معیارات پر پورے اترتے پائے گئے۔ دوسری جانب 78 اسپتالوں میں آگ سے بچاؤ اور اس پر قابو پانے کے لیے مناسب وسائل موجود نہیں تھے۔ موصولہ معلومات کے مطابق ان مراکز میں نہ تو مناسب وینٹیلیشن کا انتظام ہے، نہ ہنگامی اخراج (ایمرجنسی ایگزٹ) کی سہولت اور نہ ہی آگ بجھانے کے مطلوبہ آلات دستیاب ہیں۔ اگر کسی کلینک یا اسپتال میں شارٹ سرکٹ یا گیس کے اخراج کے باعث آگ لگ جائے تو وہاں سے لوگوں کو بحفاظت باہر نکالنا بھی تقریباً ناممکن ہو جائے گا۔

Follow us: WhatsAppFacebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔




0 Votes: 0 Upvotes, 0 Downvotes (0 Points)

Leave a reply

Loading Next Post...
Search Trending
Popular Now
Loading

Signing-in 3 seconds...

Signing-up 3 seconds...