’طلبا کے اعتماد کی بحالی بہت ضروری‘، نیٹ-یو جی معاملہ پر دگ وجئے سنگھ نے پی ایم مودی کو لکھا خط

AhmadJunaidJ&K News urduJune 5, 2026360 Views


تعلیم، خواتین، بچوں، نوجوانوں اور کھیلوں سے متعلق پارلیمانی قائمہ کمیٹی کے چیئرمین دگ وجئے سنگھ نے کہا کہ ایسے وقت میں جب لاکھوں طلبا شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہیں، ان کا نظام پر اعتماد بحال کرنا لازم ہے

<div class="paragraphs"><p>دگ وجئے سنگھ، تصویر آئی اے این ایس</p></div><div class="paragraphs"><p>دگ وجئے سنگھ، تصویر آئی اے این ایس</p></div>

i

user

google_preferred_badge

کانگریس کے سینئر لیڈر دگ وجئے سنگھ نے نیٹ-یو جی امتحان کے پرچہ لیک معاملے پر وزیر اعظم نریندر مودی کو ایک خط لکھا ہے۔ اس خط میں انہوں نے مطالبہ کیا ہے کہ گزشتہ 8 برسوں کے دوران نیشنل ٹیسٹنگ ایجنسی (این ٹی اے) کی جانب سے منعقد کیے گئے امتحانات میں پرچہ لیک یا دیگر بے ضابطگیوں کے واقعات پر کی گئی کارروائیوں کی تفصیلات مرتب کی جائیں اور اس سلسلے میں ایک قرطاس ابیض (وائٹ پیپر) جاری کیا جائے۔

تعلیم، خواتین، بچوں، نوجوانوں اور کھیلوں سے متعلق پارلیمانی قائمہ کمیٹی کے چیئرمین دگ وجئے سنگھ نے کہا کہ ایسے وقت میں جب لاکھوں طلبا شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہیں، ان کا نظام پر اعتماد بحال کرنا ضروری ہے۔ انہوں نے پی ایم مودی کو تحریر کردہ اپنے خط میں لکھا ہے کہ ’’میں آپ کو ایک نہایت اہم تشویش سے آگاہ کرنے کے لیے لکھ رہا ہوں، جس کا اظہار گزشتہ چند ہفتوں کے دوران متعدد طلبا نے مجھ سے کیا ہے۔ ایسے وقت میں جب نیٹ-یو جی 2026 کا امتحان منسوخ کر دیا گیا ہے، اس کے لاکھوں طلبا کی ذہنی صحت پر گہرے اثرات مرتب ہوئے ہیں۔ ان کے دباؤ کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ ماضی میں پرچہ لیک کے معاملات کی تحقیقات کس طرح کی گئیں، اس بارے میں واضح معلومات کا فقدان ہے۔‘‘

راجیہ سبھا رکن دگ وجئے سنگھ کا کہنا ہے کہ فی الحال پرچہ لیک سے متعلق معاملات میں سی بی آئی، مرکزی حکومت اور ریاستی حکومتوں کی دیگر تحقیقاتی ایجنسیوں کی کارروائیوں کا کوئی جامع اور عوامی ریکارڈ موجود نہیں ہے۔ سرکاری معلومات کی عدم دستیابی کے باعث مختلف رپورٹس اور افواہوں نے جنم لیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ’’مثال کے طور پر مجھے بار بار یہ شکایت موصول ہوئی ہے کہ ہزاری باغ میں نیٹ-یو جی 2024 کے پرچہ لیک معاملے کا مرکزی ملزم سنجیو کمار عرف مکھیا مبینہ طور پر ضمانت پر رہا ہے۔ اسی طرح خبر ملی ہے کہ سی بی آئی نے ایک کلوزر رپورٹ داخل کی ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ 2024 کے یو جی سی-نیٹ امتحان میں کوئی بے ضابطگی نہیں ہوئی تھی، حالانکہ اس امتحان کو اس وقت نیشنل ٹیسٹنگ ایجنسی نے منسوخ کر دیا تھا۔‘‘

دگ وجئے سنگھ نے بتایا کہ جب دہلی کی ایک عدالت نے سی بی آئی سے اپنی کلوزر رپورٹ کے لیے تحریری وضاحت طلب کی تو سی بی آئی نے مزید وقت مانگ لیا۔ ان کے مطابق وضاحت میں تاخیر سے ہندوستانی طلبا میں منفی پیغام گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’’ہندوستان کے طلبا میں انصاف فراہم کرنے کے حوالے سے انتظامیہ کی صلاحیت اور سنجیدگی پر دوبارہ اعتماد بحال کرنے کے لیے میری تجویز ہے کہ حکومت ہند ایک وائٹ پیپر جاری کرے، جس میں گزشتہ 8 برسوں کے دوران این ٹی اے کے زیر اہتمام ہونے والے امتحانات میں پرچہ لیک اور دیگر بے ضابطگیوں کے تمام واقعات کا ریکارڈ پیش کیا جائے۔‘‘ انہوں نے کہا کہ وائٹ پیپر میں این ٹی اے اور تحقیقاتی ایجنسیوں کی جانب سے کی گئی کارروائیوں کی تفصیلات بھی شامل ہونی چاہئیں، جن میں ہر کیس میں گرفتار افراد کے نام درج ہوں، خواہ تحقیقات جاری ہوں یا مکمل ہو چکی ہوں، اور یہ بھی بتایا جائے کہ تحقیقاتی ایجنسی نے چارج شیٹ داخل کی ہے یا کلوزر رپورٹ۔

دگ وجئے سنگھ نے مزید کہا کہ اس دستاویز میں یہ وضاحت بھی ہونی چاہیے کہ کلوزر رپورٹ کیوں داخل کی گئی، نیز ہر ملزم کی موجودہ حیثیت بھی بیان کی جائے، مثلاً اس پر مقدمہ چل رہا ہے، وہ ضمانت پر ہے یا اسے سزا سنائی جا چکی ہے۔ انہوں نے اپنے خط کے اختتام میں کہا کہ ’’مجھے یقین ہے آپ ان مسائل پر اتنی ہی سنجیدگی اور فوری توجہ دیں گے جتنی کہ ان کی ضرورت ہے۔‘‘

Follow us: WhatsAppFacebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔




0 Votes: 0 Upvotes, 0 Downvotes (0 Points)

Leave a reply

Loading Next Post...
Search Trending
Popular Now
Loading

Signing-in 3 seconds...

Signing-up 3 seconds...