
عرضی گزار کے وکیل نے بتایا کہ مہاراشٹر، آندھرا پردیش، پنجاب اور گجرات جیسے صوبوں میں ججوں کو پہلے سے ہی پی ایس او کی سہولت فراہم کی جا رہی ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ ججوں کو صرف گھر کے اندر ہی نہیں باہر بھی سیکورٹی ملنی چاہئے۔ اس معاملہ میں دہلی ہائی کورٹ نے مشورہ دیا کہ حکومت کو اس کے لیے بجٹ مختص کرنا چاہئے کیونکہ دہلی میں 700 سے زیادہ جوڈیشیل آفیسرز ہیں۔ سماعت کے دوران عدالت نے افسران سے پوچھا کہ جب دوسری ریاستیں ایسے انتظامات کر سکتی ہیں تو دہلی جیسے بڑے شہر میں ایسا کرنے میں کیا پریشانی ہے، جہاں جرائم کی سطح کافی زیادہ ہے؟ دہلی ہائی کورٹ نے واضح کیا کہ اگر ججوں کی سیکورٹی کو نظر انداز کیا گیا تو اس سے عدلیہ کی آزادی پر اثر پڑے گا جو کسی بھی صورت میں مناسب نہیں ہے۔






