نیپال حکومت نے سفارت کار بننے کی خواہش رکھنے والے شہریوں سے درخواستیں طلب کی ہیں۔ نیپال کی وزارت خارجہ نے اس سلسلے میں ایک نوٹس جاری کیا ہے، جس کے ساتھ 7 صفحات پر مشتمل ایک دستاویز بھی ہے۔ اس دستاویز میں سفارت کار کے عہدہ کے لیے ضروری اہلیت اور قواعد بیان کیے گئے ہیں۔
جاری نوٹیفکیشن کے مطابق درخواست دہندہ کا کم از کم گریجویٹ ہونا لازمی ہے۔ اس کے خلاف کوئی مجرمانہ مقدمہ یا سزا نہیں ہونی چاہیے۔ ساتھ ہی اسے کسی بیرون ملکی زبان کا علم بھی ہونا چاہیے۔ امیدوار کو درخواست فارم میں یہ بھی بتانا ہوگا کہ وہ اس عہدے کے لیے موزوں کیوں ہے اور اگر اسے موقع ملتا ہے تو وہ کیا کام کرے گا۔ امیدواروں کو یہ بھی بتانا ہوگا کہ وہ تجارت، سفارت کاری اور ثقافتی تعلقات کو کس طرح مضبوط کریں گے۔
دی گئی جانکاری سے پتہ چلتا ہے کہ پوسٹ گریجویٹ امیدواروں کو ترجیح دی جائے گی۔ بین الاقوامی تعلقات، سیاسیات، قانون، معاشیات اور عوامی نظم و نسق جیسے مضامین میں تعلیم حاصل کرنے والوں کو زیادہ اہمیت دی جائے گی۔ نیپال کی خارجہ پالیسی سے متعلق تحقیق، کتابیں، مضامین یا دیگر علمی خدمات بھی انتخاب میں مددگار ثابت ہوں گی۔ حکومت کا کہنا ہے کہ اس کا مقصد سفیروں کی تقرری کے عمل کو شفاف اور اہلیت پر مبنی بنانا ہے۔ اس سے ایسے افراد کو بھی موقع ملے گا جو خارجہ سروس کا حصہ نہیں ہیں۔
قواعد کے مطابق سفیر کی مدت کار 4 سال ہوگی۔ اس عہدے کو گزیٹیڈ خصوصی درجہ کے مساوی سمجھا جائے گا۔ اس وقت نیپال کے مختلف ممالک میں 17 سفارتی عہدے خالی ہیں۔ اگست تک مزید 7 عہدے خالی ہونے والے ہیں۔ اس طرح ستمبر تک مجموعی طور پر 24 عہدے خالی ہو جائیں گے۔ ہندوستان، چین، امریکہ، برطانیہ، آسٹریلیا، اسرائیل، جنوبی کوریا، آسٹریا، بحرین، بنگلہ دیش، ملائیشیا، عمان اور سعودی عرب سمیت کئی ممالک میں تقرریاں کی جانی ہیں۔ بعض بین الاقوامی تنظیموں میں بھی عہدے دستیاب ہوں گے۔
بہرحال، نیپال میں اس فیصلے کی کافی تعریف کی جا رہی ہے۔ سفارت کار کے لیے جو ضابطے اور اہلیتیں رکھی گئی ہیں، اسے بھی بہت مناسب بتایا جا رہا ہے۔ دی گئی جانکاری کے مطابق اس عہدہ کے لیے درخواست گزار کی عمر کم از کم 35 سال ہونی چاہیے۔ وہ نیپالی شہری ہونا چاہیے اور کسی دوسرے ملک کی مستقل شہریت یا رہائشی حیثیت نہیں رکھتا ہو۔ بدعنوانی یا اخلاقی جرائم کے معاملات میں قصوروار قرار دیے گئے افراد درخواست نہیں دے سکتے۔ انگریزی زبان پر اچھی دسترس، گفتگو اور مفاہمت کی صلاحیت، تجارت اور سرمایہ کاری سے متعلق تجربہ، اقوامِ متحدہ، سارک اور بمسٹیک جیسی تنظیموں کی معلومات، نیز اچھا اخلاقی کردار رکھنے والے امیدواروں کو انتخاب میں اضافی فائدہ حاصل ہوگا۔



































