کانگریس کے درج فہرست ذات محکمہ اور اقلیتی محکمہ کے ذریعہ آج کانگریس صدر دفتر ’اندرا بھون‘ میں ایک انتہائی اہم اجلاس کا انعقاد ہوا۔ اس اجلاس میں ان دونوں ہی محکموں نے یکجہتی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کمزور طبقات پر ہو رہے مظالم کے خلاف آواز اٹھانے کا عزم ظاہر کیا۔ ’دلت-مائناریٹی یونٹی میٹنگ‘ عنوان سے منعقد اس اجلاس سے کانگریس ایس سی ڈپارٹمنٹ کے چیئرمین ایڈووکیٹ راجندر پال گوتم اور کانگریس اقلیتی ڈپارٹمنٹ کے چیئرمین عمران پرتاپ گڑھی نے پارٹی عہدیداران و کارکنان سے خطاب کیا۔
اس میٹنگ کے بعد عمران پرتاپ گڑھی اور راجندر پال گوتم نے ایک پریس کانفرنس سے خطاب کیا، جس میں منعقدہ اجلاس اور آئندہ کے لائحہ عمل سے متعلق جانکاریاں دی گئیں۔ پریس کانفرنس میں عمران پرتاپ گڑھی نے کہا کہ ’’آج کی تقریب میں اقلیتی محکمہ اور درج فہرست ذات محکمہ نے کچھ اہم فیصلے لیے ہیں، اور اس میں بہت سے مشورے بھی آئے ہیں۔‘‘ انھوں نے آگے کہا کہ ’’جس طرح ملک میں دلتوں، قبائلیوں اور اقلیتوں کے خلاف مظالم ہو رہے ہیں، اس کے خالف دونوں محکمے مل کر تحریک چلائیں گے۔ ہماری یہ تحریک 20 جولائی 2026 کو جنتر منتر پر ہوگی، جس میں ہم الگ الگ طبقات کے ساتھ ہو رہی ناانصافیوں کے خلاف آواز اٹھائیں گے۔‘‘ ساتھ ہی انھوں نے یہ بھی کہا کہ ’’جون ماہ کے تیسرے ہفتہ میں اقلیتی محکمہ اور درج فہرست ذات محکمہ کی قومی و ریاستی ایڈوائزری کونسل اتر پردیش واقع لکھنؤ میں ایک مشترکہ تقریب منعقد کرے گی۔‘‘
میڈیا سے مخاطب ہوتے ہوئے عمران پرتاپ گڑھی نے آئندہ کے منصوبوں کی جانکاری بھی دی۔ انھوں نے کہا کہ ’’کانگریس پارٹی کے اقلیتی محکمہ اور ایس سی محکمہ کی طرف سے اس مہم کو ملک کی سبھی ریاستوں تک لے جایا جائے گا۔ جہاں بھی اس طرح کے استحصال اور ناانصافی کے معاملے سامنے آئیں گے، وہاں ہم مشترکہ طور سے متاثرین کے ساتھ کھڑے رہیں گے اور ہر ممکن مدد کریں گے۔‘‘ انھوں نے مزید بتایا کہ ’’ہمارا مقصد یہ ہے کہ سماج کے محروم اور کمزور طبقات کے من میں یہ بھروسہ بنا رہے کہ بابا صاحب ڈاکٹر بھیم راؤ امبیڈکر کے آئین میں سبھی کو انصاف اور یکساں حقوق ملتے ہیں۔ اسی مقصد کے ساتھ ہم 20 جولائی کو دہلی کے جنتر منتر پر ایک عظیم الشان مظاہرہ کریں گے۔‘‘
عمران پرتاپ گڑھی سے قبل کانگریس ایس سی ڈپارٹمنٹ کے چیئرمین راجندر پال گوتم نے میڈیا اہلکاروں سے خطاب کیا۔ انھوں نے کہا کہ ’’آج پورے ملک کے اندر دلتوں، قبائلیوں، اقلیتوں اور پسماندہ طبقات کے ساتھ لگاتار ظلم ہو رہا ہے۔ ظلم اس حد تک ہے کہ تھانہ اور عدالت میں بھی ذات اور مذہب کی بنیاد پر امتیاز ہوتا ہے، جبکہ آئین میں کسی بھی شخص کے ساتھ ذات و مذہب کی بنیاد پر تفریق نہ کرنے کی بات کہی گئی ہے۔‘‘ وہ مزید کہتے ہیں کہ ’’آج یہ فیصلہ لیا گیا ہے کہ کانگریس کے ایس سی ڈپارٹمنٹ اور مائناریٹی ڈپارٹمنٹ مشترکہ طور سے محروم و کمزور طبقات کی جنگ لڑیں گے۔ اس مہم کے تحت اجلاس صرف قومی سطح پر ہی نہیں بلکہ ریاستی، ضلعی اور بلاک سطح پر بھی منعقد کیے جائیں گے۔‘‘
اپنی بات کو آگے بڑھاتے ہوئے ایڈووکیٹ راجندر پال گوتم نے کہا کہ ’’آئندہ اجلاس میں ہم اقلیتی محکمہ اور درج فہرست ذات محکمہ کے ساتھ قبائلی محکمہ کو بھی جوڑیں گے۔ پھر پسماندہ طبقات اور ملک کے عام طبقات کے غریبوں کو بھی ایک ساتھ جوڑیں گے تاکہ ہم ان کی آواز اٹھا پائیں۔‘‘ انھوں نے یہ بھی جانکاری دی کہ ’’ہمارا ہدف سماج کے ہر طبقہ کی آواز بننا ہے اور ان کے حقوق کو یقینی بنانا ہے۔ کانگریس پارٹی لوگوں کے حق کے لیے حکومت پر دباؤ بنائے گی اور ان کے مسائل کو مضبوطی سے اٹھائے گی۔‘‘
راجندر پال گوتم نے پریس کانفرنس کے دوران امتیازی سلوک کی کچھ مثالیں بھی پیش کیں۔ انھوں نے بتایا کہ ’’ملک میں ایس ٹی/ایس سی، او بی سی اور اقلیتی طبقات کے لیے کئی اسکالرشپ میں آمدنی کی حد 2.5 لاکھ روپے مقرر ہے، جبکہ ای ڈبلیو ایس زمرہ کے لیے یہ حد 8 لاکھ روپے ہے۔ یہ تفریق ہے، اسی لیے ہم سماجی طبقات کو ساتھ لے کر ایک مضبوط پلیٹ فارم تیار کریں گے، تاکہ ان کی آواز کوئی نظر انداز نہ کر سکے۔‘‘ وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ ’’ضرورت پڑنے پر ہم اس لڑائی کو عدالت میں بھی لے جائیں گے، اور ہر سطح پر ان کے حقوق کی حفاظت کریں گے۔‘‘
Follow us: WhatsApp, Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔


































