
(علامتی تصویر: رائٹرز)
ہندوستان اور پاکستان کے سینئر سیاست دانوں، سفارت کاروں، سلامتی کے حکام اور کشمیری رہنماؤں نے نئی دہلی اور اسلام آباد پر زور دیا ہے کہ وہ مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے ماضی کی کوششوں کو دوبارہ آگے بڑھائیں، جامع مذاکرات بحال کریں اور جنگ کے بڑھتے ہوئے خطرات کے پیش نظر تصادم پر امن کو ترجیح دیں۔
سینٹر فار پیس اینڈ پروگریس کے روحِ رواں او پی شاہ کے زیرِ اہتمام ’جموں و کشمیر: آگے کا راستہ‘کے موضوع پر منعقدہ ایک ویبینار میں شرکاء نے موقف اختیار کیا کہ اگرچہ 2019ء کے بعد سے دونوں ملکوں کے تعلقات انتہائی مخدوش ہیں اور باضابطہ روابط منقطع ہو چکے ہیں، تاہم ممکنہ تصفیے کے وسیع خدوخال پہلے سے موجود ہیں۔
ہندوستان اور پاکستان نے سابق ہندوستانی وزیر اعظم منموہن سنگھ اور سابق پاکستانی صدر پرویز مشرف کے دورِ حکومت کے آخری برسوں میں بیک چینل مذاکرات کے ذریعے ایک اہم مفاہمت حاصل کر لی تھی۔
اجلاس کے شرکاء نے متفقہ طور پر کہا کہ فوجی تصادم کشمیر میں پائیدار امن کی ضمانت نہیں ہو سکتا اور مذاکرات کی عدم موجودگی میں دونوں ممالک دشمنی کے ایک لامتناہی چکر میں پھنس چکے ہیں۔
مقررین نے سیاسی قیادت پر زور دیا کہ وہ رابطے کے ذرائع بحال کریں، عوامی سطح پر روابط (پیپل ٹو پیپل کانٹیکٹس) کا دوبارہ آغاز کریں، منقسم کشمیریوں کے درمیان باہمی میل جول کو فروغ دیں اور گزشتہ دہائی میں کھوئے ہوئے اعتماد کو بحال کریں۔
سابق پاکستانی وزیر خارجہ خورشید محمود قصوری نے اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ جنگ کے بدلتے ہوئے انداز دونوں ممالک کو اپنی حکمتِ عملی پر نظرثانی کرنے پر مجبور کرتے ہیں۔ دنیا بھر میں حالیہ تنازعات اور گزشتہ برسوں کی پاک-ہند کشیدگی کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے خبردار کیا کہ مستقبل کی جنگیں نہ تو شہروں کو بخشیں گی اور نہ ہی معاشی ڈھانچے کو۔
خورشید محمود قصوری نے ’کشمیر فریم ورک‘کی طرف واپسی کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ ان کا پیش کردہ چار نکاتی فارمولا دونوں ممالک کے لیے ایک ’ون-ون فارمولا‘ (کامیابی کا راستہ) ہے اور کشمیری عوام کے انسانی حقوق کے تحفظ کا واحد معقول طریقہ بھی۔
انہوں نے متنبہ کیا کہ جدید جنگی ٹکنالوجی اس حد تک ترقی کر چکی ہے کہ روایتی تصادم کی صورت میں ممبئی، کراچی، دہلی یا لاہور کا کوئی بھی شہر محفوظ نہیں رہے گا، اس لیے اب امن ایک وجودی ضرورت بن چکا ہے۔
انہوں نے کہا،’ ہمیں صرف مثبت سوچنا ہے اور یہ دیکھنا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان آئندہ کسی بھی جنگ کو کیسے روکا جا سکتا ہے۔‘
ان کا موقف تھا کہ کشمیر کا تنازعہ ہی دونوں ملکوں کے درمیان بار بار ہونے والی کشیدگی کی بنیادی وجہ ہے۔ انہوں نے دونوں فریقوں پر زور دیا کہ وہ’پہیہ دوبارہ ایجاد‘کرنے (نئے سرے سے وقت ضائع کرنے) کے بجائے ہندوستانی سفارت کار ستیندر لامبا اور پاکستانی سفیر طارق عزیز کے درمیان طے پانے والے کشمیر فریم ورک پر دوبارہ غور کریں۔
انہوں نے مزید کہا کہ یہ فریم ورک ہندوستان اور پاکستان کے بنیادی خدشات کو مدنظر رکھتے ہوئے کشمیری عوام کے حقوق اور امنگوں کا بھی تحفظ کرتا ہے۔ انہوں نے سارک کی بحالی کی ضرورت پر بھی زور دیا کیونکہ اس علاقائی تعاون نے ماضی میں پورے جنوبی ایشیا میں ایک مثبت ماحول پیدا کیا تھا۔
کشمیری عوام کی شمولیت اور جذباتی فاصلے
سابق ہندوستانی وزیر اعظم کے مشیر اور ممتاز سیاستداں منی شنکر ایئر نے قصوری کے موقف کی بھرپور تائید کرتے ہوئے کہا،’دونوں ممالک 2007ء تک ایک قابلِ ذکر مفاہمت کے قریب پہنچ گئے تھے اور زیادہ تر مسائل کا حل اس وقت تلاش کر لیا گیا تھا، لیکن پاکستان کی داخلی سیاسی صورتحال نے اس عمل کو روک دیا۔0‘
انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ مستقبل کے کسی بھی حل میں کشمیری عوام کو شامل کرنا ناگزیر ہے، اور خبردار کیا کہ اگست 2019ء کی آئینی تبدیلیوں (آرٹیکل 370 کے خاتمے) کے بعد کشمیر اور نئی دہلی کے درمیان جذباتی فاصلے میں تشویشناک اضافہ ہوا ہے۔
سابق پاکستانی وزیر اطلاعات جاوید جبار نے تجویز پیش کی کہ دونوں حکومتوں کے درمیان کسی بڑی پیش رفت کا انتظار کرنے کے بجائے امن عمل کا آغاز نچلی سطح سے کیا جائے۔
انہوں نے قانون سازوں، سول سوسائٹی کے گروہوں، صحافیوں اور لائن آف کنٹرول کے دونوں جانب کے منتخب نمائندوں کے درمیان مسلسل رابطے قائم کرنے پر زور دیا۔ جاوید جبار نے ہندوستان اور پاکستان کے میڈیا اداروں کے درمیان مکالمے کے فقدان پر بھی تنقید کی اور کہا کہ میڈیا کا بیانیہ باہمی افہام و تفہیم کو فروغ دینے کے بجائے اکثر دشمنی کو ہوا دینے کا کام کر رہا ہے۔
تنازعات کی ماہر رادھا کمار نے اس بات پر زور دیا کہ ہر چند سال بعد نئے سرے سے آغاز کرنے کے بجائے سابقہ کامیابیوں کو بنیاد بنا کر آگے بڑھنے کی ضرورت ہے۔ قصوری کے موقف کی تائید کرتے ہوئے کہ وقت اور توانائی کو’پہیہ دوبارہ ایجاد کرنے‘پر ضائع نہ کیا جائے، انہوں نےہندوستان-پاکستان-کشمیر سہ فریقی مکالمے کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے شرکاء پر زور دیا کہ سرکاری تعلقات کشیدہ ہونے کے باوجود سول سوسائٹی کی شمولیت کے لیے نئے مواقع تلاش کیے جانے چاہیے۔
تجارت کی بحالی اور سندھ طاس معاہدہ
تاہم، کئی مقررین کا موقف تھا کہ کشمیر پر کسی بھی بامعنی گفتگو سے پہلے ہندوستان اور پاکستان کے مجموعی تعلقات میں بہتری لانا ضروری ہے۔
پاکستانی کاروباری شخصیت اور سابق رکن پارلیامنٹ اسفندیار بھنڈارا نے کہا کہ پاک-ہند تعلقات اس وقت تاریخ کی سب سے نچلی سطح پر ہیں، اس لیے ویزوں، تجارت، ثقافت اور کھیلوں کے روابط کی بحالی فوری ترجیح ہونی چاہیے۔ انہوں نے کہا،’ہمیں پہلےہندوستان-پاکستان تعلقات پر کام کرنے کی ضرورت ہے، کاروبار، ویزوں اور تجارت کو اولین ترجیح دی جانی چاہیے۔‘
سابق پاکستانی سفارت کار اشرف جہانگیر قاضی نے خبردار کیا کہ مسلسل بات چیت سے انکار کے سنگین نتائج برآمد ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ ہندوستان دہشت گردی کو بنیادی مسئلہ سمجھتا ہے جبکہ پاکستان کشمیر کو مرکزی تنازعہ قرار دیتا ہے، لیکن ان دونوں چیلنجز کو مستقل مذاکرات کے بغیر حل نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اگر رابطے کے ذرائع بند رہے تو دونوں ملکوں کے درمیان ’سندھ طاس معاہدہ‘بھی مستقبل میں ایک سنگین فلیش پوائنٹ (تصادم کی وجہ) بن سکتا ہے۔
خفیہ ایجنسی راکے سابق سربراہ اے ایس دُلت نے اپنے حالیہ دورہ کشمیر کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ وادی بظاہر پرسکون دکھائی دیتی ہے، لیکن اندرونی سطح پر شدید سیاسی بے چینی موجود ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ ہندوستان اور پاکستان کے درمیان بات چیت کے بغیر کوئی راستہ آگے نہیں نکل سکتا۔ دُلت نے جموں و کشمیر میں ریاستی حیثیت کی بحالی اور منتخب حکومت کے اختیارات کو مضبوط بنانے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ اگرچہ سیاحت معمول کے مطابق دکھائی دیتی ہے، لیکن ایک ’غیر مرئی کشمیر‘بھی وجود رکھتا ہے جہاں نوجوان گہری مایوسی اور بیگانگی کا شکار ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ دہشت گردی اس وقت تک ختم نہیں ہو سکتی جب تک ہندوستان پاکستان کے ساتھ مکالمہ شروع نہ کرے، اور یہ دونوں عمل ساتھ ساتھ چلنا چاہیے۔
کشمیری رہنما اور سابق وزیر اعلیٰ غلام محمد شاہ کے صاحبزادے مظفر شاہ نے کہا کہ کشمیر کو نہ تو ہندوستان-پاکستان تعلقات سے الگ کیا جا سکتا ہے اور نہ ہی اس کے حل کو غیر معینہ مدت تک مؤخر کیا جا سکتا ہے۔
انہوں نے لائن آف کنٹرول کے دونوں جانب کشمیریوں کے درمیان مکالمے کی تجدید کی ضرورت پر زور دیا اور کہا کہ دہائیوں سے کشمیری عوام نے اس تنازعہ کی بھاری قیمت چکائی ہے، اس لیے وہ اپنے مستقبل کے تعین میں ایک مؤثر آواز کا حق رکھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مذاکرات کے سوا کوئی دوسرا راستہ نہیں ہے اور دونوں حکومتوں کو بامعنی روابط دوبارہ شروع کرنا چاہیے۔
ویبینار کے تمام شرکاء نے اس نتیجے پر اتفاق کیا کہ امن کی تلاش وہیں سے دوبارہ شروع ہونی چاہیے جہاں یہ تقریباً دو دہائیاں قبل رکی تھی۔ اگرچہ شرکاء کے درمیان ترجیحات اور حکمتِ عملی پر اختلافات موجود تھے، لیکن اکثریت اس بات پر متفق تھی کہ تصادم کے بجائے صرف اور صرف مکالمہ ہی کشمیر اور مجموعی طور پر جنوبی ایشیا کے محفوظ مستقبل کا واحد حقیقت پسندانہ راستہ ہے۔
(روہنی سنگھ دہلی میں مقیم آزاد صحافی ہیں۔)






