ٹورنٹو میں ہلاک ہندوستانی طالب علم کارتک واسودیو کو ملا انصاف، قاتل کو تاحیات قید کی سنائی گئی سزا

AhmadJunaidJ&K News urduApril 21, 2026361 Views


عدالت نے مانا کہ ملزم ذہنی بیماری سے نبرد آزما تھا، لیکن یہ دلیل قبول نہیں کی کہ وہ اپنے عمل کی ہیئت سمجھنے سے قاصر تھا۔

عدالت، علامتی تصویرعدالت، علامتی تصویر

i

user

ٹورنٹو کی ایک عدالت نے ہندوستانی طالب علم کارتک واسودیو کے قتل معاملہ میں قصوروار قرار دیے گئے شخص کو عمر قید کی سزا سنائی ہے۔ عدالت نے ملزم کی ذہنی بیماری کی بنیاد پر اسے فوجداری ذمہ داری سے بری قرار دینے کی درخواست مسترد کر دی۔

ٹورنٹو کی اعلیٰ عدالت کی جج جسٹس جین کیلی نے ملزم رچرڈ ایڈون کو 2 الگ الگ قتل کے معاملات میں فرسٹ ڈگری قتل کا قصوروار ٹھہرایا۔ یہ قتل 7 اپریل اور 9 اپریل 2022 کو ہوئے تھے۔ مقامی میڈیا رپورٹس کے مطابق عدالت نے اسے بغیر پیرول کے امکان تاحیات قید کی سزا دی۔ قابل ذکر ہے کہ ملزم نے 21 سالہ ہندوستانی طالب علم کارتک واسودیو کو گولی مارنے کا اعتراف کیا تھا۔ تاہم فریق صفائی نے دلیل دی تھی کہ واقعہ کے وقت وہ ذہنی بیماری ’شیزوفرینیا‘ میں مبتلا تھا اور صحیح و غلط میں فرق کرنے کی حالت میں نہیں تھا، اس لیے اسے فوجداری طور پر ذمہ دار نہ ٹھہرایا جائے۔

عدالت نے مانا کہ ملزم ذہنی بیماری سے نبرد آزما تھا، لیکن یہ دلیل قبول نہیں کی کہ وہ اپنے عمل کی ہیئت کو سمجھنے سے قاصر تھا۔ اسی بنیاد پر عدالت نے این سی آر (فوجداری طور پر ذمہ دار نہ ہونے) کی درخواست کو مسترد کر دیا۔ اپنے فیصلے میں عدالت نے واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ کارتک واسودیو شیربورن اسٹیشن کے قریب بلور اسٹریٹ ایسٹ کی سیڑھیوں کی طرف جا رہے تھا، تبھی ملزم تیزی سے اس کے پاس سے گزرا، پھر واپس مڑا اور اس کی پیٹھ پر کئی گولیاں داغ دیں۔

کارتک واسودیو غازی آباد کا رہنے والا تھا اور سینیکا کالج میں مینجمنٹ کی تعلیم حاصل کر رہا تھا۔ وہ جنوری 2022 میں اعلیٰ تعلیم کے لیے کناڈا گیا تھا، لیکن چند ہی مہینوں بعد اس کا قتل کر دیا گیا۔ پہلے بتایا گیا تھا کہ اسے لوٹ مار کے دوران گولی ماری گئی۔

کارتک کے والد جیتیش واسودیو نے بتایا کہ 4 سال کی قانونی لڑائی کے بعد خاندان کو آخرکار انصاف مل ہی گیا۔ انہوں نے کہا کہ وہ اور ان کی اہلیہ آخری سماعت میں شرکت کے لیے کناڈا میں موجود تھے۔ قتل کے بعد کارتک کی لاش ہندوستان لائی گئی تھی اور غازی آباد میں ہنڈن ندی کے کنارے آخری رسومات ادا کی گئی تھیں، جہاں اس کے چھوٹے بھائی نے ’مکھاگنی‘ دی تھی۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔




0 Votes: 0 Upvotes, 0 Downvotes (0 Points)

Leave a reply

Loading Next Post...
Search Trending
Popular Now
Loading

Signing-in 3 seconds...

Signing-up 3 seconds...