پاکستان پہلے سے ہی معاشی بدحالی کا شکار ہے اور اب ایک نئی مشکل میں پھنس گیا ہے۔ ایک نئی رپورٹ کے مطابق بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے اس کے 7 ارب ڈالر کے جاری توسیعی فنڈ سہولت (ای ایف ایف) پروگرام میں 11 نئی شرائط شامل کر دی ہیں۔ ’بزنس ریکارڈر‘ کی رپورٹ کے مطابق ایک شرط یہ ہے کہ حکومت اسپیشل اکنامک زونز (ایس ای زیڈ) ایکٹ اور اسپیشل ٹیکنالوجی زونز اتھارٹی ایکٹ میں تبدیلیاں کرے۔ اس کا مقصد موجودہ ٹیکس چھوٹ جیسی سہولیات کو آہستہ آہستہ ختم کرنا اور منافع کی بنیاد پر ملنے والی رعایت کے بجائے لاگت کی بنیاد پر راحت فراہم کرنا ہے۔
رپورٹ میں ایک اور بات کے حوالے سے تشویش ظاہر کی گئی ہے کہ حکومت کراچی میں 6000 ایکڑ زمین ایس ای زیڈ ڈیولپرز کو بغیر کسی فیس کے لیز پر دینے کا منصوبہ بنا رہی ہے۔ حالانکہ اکتوبر 2024 میں آئی ایم ایف کی دستاویزات میں کہا گیا تھا کہ پاکستان کا ٹیکس نظام کئی مخصوص شعبوں جیسے ریئل اسٹیٹ، زراعت، مینوفیکچرنگ اور توانائی کو چھوٹ دینے کے لیے استعمال کیا گیا ہے، جو کہ شفاف نہیں ہے۔ اس کے علاوہ اسپیشل اکنامک زون (ایس ای زیڈ) کی تعداد میں بھی کافی اضافہ ہو گیا ہے۔ اس لیے یہ شرط رکھی گئی ہے کہ موجودہ ایس ای زیڈ کو اگلے 10 سالوں میں آہستہ آہستہ ختم کیا جائے گا اور نئے ایس ای زیڈ نہیں بنائے جائیں گے۔ ایک اور نئی شرط یہ ہے کہ کاروباری ماحول کو بہتر بنانے کے لیے ایک ریگولیٹری رجسٹری قائم کی جائے۔
رپورٹ کے مطابق اکتوبر 2024 کی شرائط میں یہ بھی شامل تھا کہ حکومت مرکزی اور صوبائی سطح پر ہونے والی تمام سرکاری خرید میں مکمل شفافیت کو یقینی بنائے گی۔ اس کے لیے ورلڈ بینک کے تعاون سے بنائے گئے الیکٹرانک پاکستان ایکوزیشن اینڈ ڈسپوزل سسٹم (ای-پیڈس) سسٹم کا استعمال کیا جائے گا۔
رپورٹ کے مطابق متحدہ عرب امارات (یو اے ای) نے پاکستان میں جمع کرائے گئے اپنے 3.5 ارب ڈالر واپس نکال لیے، جس سے ملک کے غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر پر فوری طور پر دباؤ بڑھ گیا۔ اگرچہ مہنگائی میں کسی حد تک کمی آئی ہے، لیکن آئی ایم ایف کے مشورے پر شرح سود اب بھی زیادہ ہے۔ اس سے سرمایہ کاری اور برآمدات دونوں متاثر ہو رہی ہیں، اور معیشت سست روی کا شکار ہے۔ مجموعی طور پر پاکستان کی بیرونی معاشی صورتحال اب بھی کافی کمزور بنی ہوئی ہے۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔































