
کئی دہائیوں تک کیرالہ کو ملک کی سب سے زیادہ سماجی طور پر ترقی یافتہ ریاستوں میں شمار کیا جاتا رہا۔ بلند شرح خواندگی، صحتِ عامہ کے بہتر نتائج اور نسبتاً متحرک شہری ثقافت نے یہ تاثر پیدا کیا تھا کہ ریاست منشیات کے استعمال سے جڑی سماجی برائیوں کے مقابلے میں دیگر علاقوں کی نسبت زیادہ مضبوط ثابت ہوگی۔
تاہم وقت کے ساتھ سامنے آنے والے شواہد نے اس تصور کو کمزور کر دیا ہے۔ مصنوعی منشیات، خصوصاً ایم ڈی ایم اے، میتھ ایمفیٹامین اور دیگر ڈیزائنر ڈرگز کے پھیلاؤ نے اس چیلنج کی نوعیت ہی بدل دی ہے۔ روایتی منشیات کے برعکس یہ مادّے انتہائی منظم سپلائی چینز کے ذریعے گردش کرتے ہیں، ڈیجیٹل پلیٹ فارمز سے فائدہ اٹھاتے ہیں، بھاری منافع پیدا کرتے ہیں اور اکثر نوجوان نسل کو اپنا ہدف بناتے ہیں۔
اس کے نتیجے میں یہ مسئلہ صرف ضبطیوں اور گرفتاریوں کے اعداد و شمار تک محدود نہیں رہا، بلکہ اسکولوں، کالجوں، محلوں اور خاندانوں تک اس کی بڑھتی ہوئی رسائی تشویش کا باعث بن چکی ہے۔






