بالی ووڈ کے مشہور و معروف اداکار بھرت کپور کا 27 اپریل کو 80 سال کی عمر میں انتقال ہو گیا۔ وہ گزشتہ کچھ وقت سے ضعیفی والی بیماریوں میں مبتلا تھے۔ ان کی طبیعت گزشتہ 3 دنوں سے انتہائی خراب تھی اور وہ گھر پر ہی علاج کرا رہے تھے۔ حالت نازک ہونے پر اسپتال میں داخل کرایا گیا، جہاں ان کا انتقال ہو گیا۔
بھرت کپور کے قریبی دوست اور اداکار اوتار گل نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے انتقال کی تصدیق کی اور ان کی خوبیوں کا ذکر کیا۔ انھوں نے بتایا کہ بھرت کپور کی آخری رسومات پیر کی شام 6 بجے ادا کر دی گئی۔ اس دوران کنبہ کے اراکین، قریبی دوست اور تھیٹر گروپ اپٹا کے کچھ لوگ ہی موجود تھے۔ ان کے لیے دعائیہ جلسہ کا انعقاد 30 اپریل کی شام 5 سے 7 بجے کے درمیان ان کی رہائش پر کیا جائے گا۔
واضح رہے کہ بھرت کپور نے اپنے فلمی کیریئر کا آغاز 1970 کی دہائی میں کیا تھا اور تقریباً 4 دہائیوں تک فلموں، ٹی وی و تھیٹر میں کام کیا۔ انھوں نے کئی طرح کے کردار نبھائے، لیکن خاص طور سے ان کے منفی کردار بہت مقبول ہوئے۔ انھوں نے ’نوری‘ (1979)، ’رام بلرام‘ (1980)، ’لو اسٹوری‘ (1981)، ’بازار‘ (1982)، ’غلامی‘ (1985)، ’آخری راستہ‘ (1986)، ’ستیہ میو جیتے‘ (1987)، ’سورگ‘ (1990)، ’خدا گواہ‘ (1992)، ’رنگ‘ (1993)، ’برسات‘ (1995)، ’ساجن چلے سسرال‘ (1996)، ’میناکشی: اے ٹیل آف تھری سٹیز‘ جیسی فلموں میں کام کیا تھا۔
فلم ساز اشوک پنڈت نے بھرت کپور کے انتقال پر گہرے غم کا اظہار کیا ہے۔ انھوں نے اے این آئی سے بات چیت میں کہا کہ ’’وہ ایک بہترین اداکار اور بہت اچھے انسان تھے۔ ایک فنکار کی شکل میں ان کی یادداشت کمال کی تھی۔ وہ اپنے ڈائیلاگ بہت اچھی طرح یاد رکھتے تھے۔ ان کی پرفارمنس ہمیشہ شاندار ہوتی تھی۔ میں نے ان کے ساتھ فلم، تھیٹر اور ٹیلی ویژن تینوں شعبوں میں کام کیا ہے۔‘‘
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔



































