
میڈیا رپورٹس کے مطابق عبوری ضمانت دیتے ہوئے عدالت نے واضح کیا کہ خالد کو دہلی میں اپنے مقرر پتہ (گھر) پر ہی رکنا ہوگا۔ وہ صرف اپنی ماں سے ملاقات کرنے اسپتال جا سکتے ہیں۔ انھیں کسی بھی عوامی مقام پر جانے کی اجازت نہیں ہوگی۔ عبوری ضمانت پر باہر آنے کے لیے عمر خالد کو ایک لاکھ روپے کا ضمانتی بانڈ بھی بھرنا ہوگا۔ پورے 3 دن عمر خالد صرف ایک ہی موبائل نمبر کا استعمال کر سکیں گے، جس کی جانکاری جانچ ایجنسی کو دینی ہوگی۔ اس سے قبل ذیلی عدالت نے عمر خالد کی عبوری ضمانت کی عرضی کو یہ کہتے ہوئے خارج کر دیا تھا کہ فیملی میں دیگر اراکین بھی ماں کی دیکھ بھال کے لیے موجود ہیں۔ اس کے بعد خالد نے ہائی کورٹ کا رخ کیا تھا۔ ان کے وکیل نے دلیل دی کہ ماں کی پیچیدہ سرجری کے وقت ایک بیٹے کا ان کے ساتھ ہونا بے حد ضروری ہے۔





