بہار اسمبلی کا یک روزہ اجلاس 24 اپریل کو طلب کیا گیا ہے۔ اس دوران سمراٹ چودھری کی نئی حکومت اسمبلی میں اعتماد کا ووٹ حاصل کرے گی۔ 18ویں بہار اسمبلی کا یہ دوسرا اجلاس ہے، جس کی جانکاری 18 اپریل کو دی گئی ہے۔ اسمبلی سکریٹریٹ نے اجلاس بلائے جانے کی اطلاع وزیر اعلیٰ اور حکومت کے وزراء سمیت سبھی اراکین اسمبلی کو دے دی ہے۔
قابل ذکر ہے کہ بہار میں تبدیلیٔ اقتدار کے بعد سمراٹ چودھری نے وزیر اعلیٰ کا عہدہ سنبھال لیا ہے۔ نتیش کمار کے راجیہ سبھا جانے کے بعد بہار میں اس نئی حکومت کی تشکیل ہوئی ہے۔ سمراٹ نے 15 اپریل کو وزیر اعلیٰ عہدہ کا حلف لیا تھا۔ آئین کی روایت کے مطابق نئے وزیر اعلیٰ کو اب یہ ثابت کرنا ہوگا کہ ان کے پاس ایوان میں اکثریت موجود ہے۔ آئین کے تحت کوئی بھی حکومت تبھی جائز تصور کی جاتی ہے، جب اسے اسمبلی میں اکثریت حاصل ہو۔ نومبر 2025 میں ہوئے بہار اسمبلی انتخاب میں این ڈی اے کے 202 اراکین اسمبلی منتخب ہوئے تھے، اس لیے اعتماد کا ووٹ حاصل کرنے میں کسی دقت کا اندیشہ نہیں ہے۔
وزیر اعلیٰ سمراٹ چودھری کی قیادت میں بہار میں نئی حکومت تشکیل پانے کے فوراً بعد ہی وزراء کے درمیان قلمدانوں کی تقسیم بھی کی جا چکی ہے۔ سمراٹ نے اپنے پاس کئی اہم محکمے رکھے ہیں، جس سے ایڈمنسٹریٹو مضبوطی کے اشارے ملتے ہیں۔ انھوں نے اپنے پاس جنرل ایڈمنسٹریشن، وزارت داخلہ، کابینہ سکریٹریٹ اور نگرانی سمیت مجموعی طور پر 29 محکمے رکھے ہیں۔ نائب وزیر اعلیٰ وجئے کمار چودھری کو آبی وسائل، پارلیمانی امور سمیت 10 محکموں کی ذمہ داری گئی ہے، جبکہ دوسرے نائب وزیر اعلیٰ وجیندر پرساد یادو کو توانائی، منصوبہ و ترقی سمیت 8 محکموں کی ذمہ داری دی گئی ہے۔ کابینہ کی توسیع ابھی باقی ہے۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔





































