’بدعنوانی کے باعث خزانہ ہوا خالی‘، بہار میں مالی بحران کو لے کر تیجسوی یادو نے این ڈی اے کو بنایا ہدف تنقید

AhmadJunaidJ&K News urduApril 22, 2026358 Views


تیجسوی کے مطابق کئی ماہ سے بزرگوں کو دی جانے والی سماجی پنشن، اسٹوڈنٹ کے کریڈٹ کارڈ کی ادائیگی، طلبہ کو وظیفہ اور ملازمین کو تنخواہ و پنشن دینے کے لیے بھی این ڈی اے حکومت کے پاس رقم نہیں بچی ہے۔

<div class="paragraphs"><p>آر جے ڈی لیڈر تیجسوی یادو</p></div><div class="paragraphs"><p>آر جے ڈی لیڈر تیجسوی یادو</p></div>

i

user

بہار اسمبلی میں حزب اختلاف کے قائد اور آر جے ڈی رہنما تیجسوی یادو نے این ڈی اے حکومت پر سنگین الزامات عائد کیے ہیں۔ تیجسوی یادو نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر لکھا کہ ریاستی حکومت سنگین مالی بحران سے نبرد آزما ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ این ڈی اے حکومت کے پاس پیسہ نہیں بچا ہے کیونکہ بدعنوانی کی وجہ سے خزانہ خالی ہے۔

آر جے ڈی لیڈر تیجسوی یادو نے کہا کہ ریاست میں جاری مالی بحران سے نبردآزما غیر اخلاقی حکومت نے حالیہ دنوں میں دوسری بار فنڈ نکالنے اور اخراجات پر قابو پانے سے متعلق ایک خط جاری کیا ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ اپنی کرسی بچانے کے لیے بدعنوان ریٹائرڈ اور کمپرومائزڈ اعلیٰ افسران اور ایجنسیوں سے خوفزدہ ’بھونجا گینگ‘ نے بے ہوش اور غیر فعال وزیر اعلیٰ سے مل کر ’کھٹارا حکومت‘ سے انتخاب کے آخری 30 دنوں میں 41000 کروڑ روپے تقسیم کرا دیے۔

تیجسوی یادو کے مطابق اب کئی ماہ سے بزرگوں کو دی جانے والی سماجی پنشن، اسٹوڈنٹ کے کریڈٹ کارڈ کی ادائیگی، طلبہ کو وظیفہ اور ملازمین کو تنخواہ و پنشن دینے کے لیے بھی این ڈی اے حکومت کے پاس رقم نہیں بچی ہے۔ کیونکہ بدعنوانی کی وجہ سے خزانہ خالی ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ جوڑ توڑ اور سازشوں کے بل بوتے پر بنی یہ کام چلاؤ حکومت اب سود پر لیے گئے قرض کے سہارے چل رہی ہے۔ یہ بدعنوان حکومت 100 کروڑ سے زائد روپے یومیہ صرف سود کی ادائیگی میں خرچ کر رہی ہے۔ صورتحال یہ ہے کہ این ڈی اے حکومت نے بہار پر تقریباً 4 لاکھ کروڑ روپے سے زیادہ کے قرض کا بوجھ ڈال دیا ہے۔

سابق نائب وزیر اعلیٰ بہار تیجسوی یادو کا کہنا ہے کہ بہار کا خزانہ اتنا خالی ہو چکا ہے کہ پورری ریاست ٹھپ پڑی ہوئی ہے، کوئی بھی ترقیاتی منصوبہ نہیں چل رہا ہے۔ جانتے ہے کیوں؟ کیونکہ ایک ایسی نکمی حکومت بہار کو چلا رہی ہے، جس کے پاس نہ تو وِژن ہے اور نہ ہی روڈ میپ۔ ان کے مطابق بدعنوانی میں ڈوبی ہوئی این ڈی اے حکومت بہار کے خزانے سے پیسے تو نکال لیتی ہے لیکن اسے معلوم ہی نہیں ہوتا ہے کہ 92 ہزار 132 کروڑ روپے کہاں خرچ کیے؟

آر جے ڈی رہنما نے مزید کہا کہ ’کیگ‘ کی رپورٹ بتاتی ہے کہ ڈبل انجن کی حکومت 90 ہزار کروڑ روپے کے اخراجات کا یوٹیلٹی سرٹیفکیٹ جمع نہیں کر پائی۔ مطلب خرچ تو ہوئے، لیکن این ڈی اے کے لیڈران اور افسران کی جیب بھرنے میں یا این ڈی اے سنڈیکیٹ میں بندر بانٹ کرنے میں یا کس مَد میں یہ خطیر رقم خرچ کی گئی حکومت کو معلوم ہی نہیں ہے۔ این ڈی اے حکومت میں بدعنوانی اتنا ’وراٹ‘ (بڑا) ہو گیا ہے کہ بدعنوان ہی ’سمراٹ‘ (حاکم) ہو گیا۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔




0 Votes: 0 Upvotes, 0 Downvotes (0 Points)

Leave a reply

Loading Next Post...
Search Trending
Popular Now
Loading

Signing-in 3 seconds...

Signing-up 3 seconds...