
حالانکہ اس جنگ میں ایران کو زیادہ جانی و مالی نقصان ہوا ہے۔ اس کے کئی سو شہری ہلاک ہوئے ہیں۔ بنیادی ڈھانچے کو بہت نقصان پہنچا ہے۔ صحت کے مراکز پر حملے ہو رہے ہیں۔ انسانی سہولتوں کے مراکز کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ لیکن اس کے باوجود حیرت انگیز طور پر امریکہ اور اسرائیل یہ جنگ جیتنے میں تادم تحریر ناکام ہیں۔ ادھر ایک درجن سے زائد امریکی بھی ہلاک ہو چکے ہیں۔ مشرق وسطیٰ میں اس کے فوجی ٹھکانوں کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ ان ٹھکانوں پر قیام پذیر امریکی فوجی وہاں سے نکل کر ہوٹلوں میں پناہ لیے ہوئے ہیں اور ایران ان کو تلاش کرکرکے نشانہ بنا رہا ہے۔ اس کی جانب سے چھوڑی جانے والی مہنگی میزائلوں کو تباہ کر رہا ہے۔ کئی اسرائیلی شہروں میں کو بھی زبردست نقصان ہوا جن میں حیفہ اور تل ابیب قابل ذکر ہیں۔ وہاں بھی شہری سہولتیں تباہ ہوئی ہیں۔ عوام بنکروں میں پناہ لینے پر مجبور ہیں۔ اس درمیان ایک اہم بات یہ ہوئی ہے کہ بنجامن نیتن یاہو کی جانب سے بیانات کا سلسلہ یا تو بند ہے یا ان کے بیانات کم آرہے ہیں۔ اس بات سے اس شبہے کو تقویت ملتی ہے کہ وہ مار دیے گئے ہیں۔ اگر مارے نہیں بھی گئے ہیں تو چھپے ہوئے ہیں اور خاموش رہ کر خود کو بچانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
بہرحال یہ جنگ اپنی نوعیت کی الگ جنگ ہے۔ امریکہ اور اسرائیل جیسی طاقتوں کو ایران جیسے ملک نے، جس کی معیشت اقتصادی پابندیوں کی وجہ سے بری طرح تباہ ہوچکی ہے اور جہاں شہریوں کی یومیہ آمدنی بہت نیچے جا چکی ہے، ناکوں چنے چبانے پر مجبور کر دیا ہے۔ بعض تجزیہ کاروں کا دعویٰ ہے کہ ایران جنگ بھی ویتنام اور افغان جنگ جیسی ثابت ہوگی جہاں سے امریکہ کو زبردست خفت اٹھانے کے بعد پسپا ہونا پڑا تھا۔





