منگل کے روز جنوبی لبنان میں اسرائیلی حملوں میں 31 افراد ہلاک اور 40 دیگر زخمی ہو گئے جب کہ اسرائیلی فورسز نے اپنے حملوں میں شدت پیدا کر دی اور لبنان کے جنوب اور مشرق میں واقع شہروں اور دیہاتوں کے لیے جبری نقل مکانی کے احکامات جاری کر دیے۔
جنوبی لبنان میں خوف و ہراس کی اطلاع ہے اور لوگ لبنان کی سرزمین سے اسرائیلی زمینی افواج کے شدید حملے سے فرار ہو رہے ہیں۔ امریکہ کی ثالثی میں “جنگ بندی” کے باوجود اسرائیل جنوبی لبنان میں اپنی فوجی مہم تیز کر رہا ہے۔ متعدد قصبوں اور دیہاتوں میں جبری نقل مکانی کے احکامات کو وسعت دینے کے علاوہ، حالیہ اسرائیلی بمباری نے ملک کے مشرق میں وادی بیکا کے جنوب میں نباتیاہ اور مشغرا جیسے مقامات کو نشانہ بنایا ہے۔
سیکیورٹی امور کے معروف تجزیہ کا رعلی رزق نے الجزیرہ کو بتایا کہ حزب اللہ جنگ نہیں ہار رہی ہے۔ ان کا استدلال ہے کہ حزب اللہ کی جنگی محاز پر کارکر دگی اور اسرائیلی وزیر اعظم بنجامن نیتن یاہو پر بڑھتے ہوئے گھریلو دباؤ کانتیجہ ہے۔
دریں اثناء کولمبیا یونیورسٹی کے فلسطینی گریجویٹ نے کہا ہے کہ ایک اپیل کورٹ نے “اسٹے کی درخواست” منظور کر لی ہے، جس کا مطلب ہے کہ جب وہ سپریم کورٹ سے اپنے کیس کا جائزہ لینے کے خواہاں ہیں تو اسے حراست میں نہیں لیا جا سکتا اور نہ ہی امریکہ سے ملک بدر کیا جا سکتا ہے۔
ایکس پر ایک مختصر پوسٹ میں، خلیل نے عدالت کے فیصلے کو “اچھی خبر” قرار دیا لیکن نوٹ کیا کہ “لڑائی ابھی ختم نہیں ہوئی”۔ خلیل کو 2024 میں غزہ کیمپ کے احتجاج کے دوران کولمبیا یونیورسٹی کے منتظمین اور طلباء کے درمیان ثالث کے کردار کے بعد ٹرمپ انتظامیہ کی طرف سے ملک بدری کا نشانہ بنایا گیا ہے۔
Follow us: WhatsApp, Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔




































