اگر ماں اور باپ دونوں ہی آئی اے ایس ہیں، تو پھر ریزرویشن کیوں؟ سپریم کورٹ کا تلخ سوال

AhmadJunaidJ&K News urduMay 22, 2026358 Views


سپریم کورٹ نے کہا کہ اگر طلبا کے والدین اچھی ملازمتوں میں ہیں اور اچھی آمدنی حاصل کر رہے ہیں، تو ان کے بچوں کو ریزرویشن کے دائرے سے باہر آ جانا چاہیے۔

<div class="paragraphs"><p>سپریم کورٹ / آئی اے این ایس</p></div><div class="paragraphs"><p>سپریم کورٹ / آئی اے این ایس</p></div>

i

user

google_preferred_badge

سپریم کورٹ نے پسماندہ طبقات (او بی سی) میں کریمی لیئر ریزرویشن کے معاملے پر جمعہ کو ایک اہم تبصرہ کیا ہے۔ عدالت نے کہا کہ اگر والدین آئی اے ایس افسر ہیں تو انہیں ریزرویشن کا فائدہ کیوں ملنا چاہیے؟ اگر طلبا کے والدین اچھی ملازمتوں میں ہیں اور اچھی آمدنی حاصل کر رہے ہیں، تو ان کے بچوں کو ریزرویشن کے دائرے سے باہر آ جانا چاہیے۔ عدالت نے پسماندہ طبقات کے کریمی لیئر سے متعلق ریزرویشن کی عرضی پر سماعت کے دوران یہ تبصرہ کیا۔

سماعت کے دوران جسٹس ناگ رتنا نے واضح انداز میں یہ سوال کیا کہ اگر دونوں والدین آئی اے ایس افسر ہیں تو انہیں ریزرویشن کا فائدہ کیوں ملنا چاہیے؟ انہوں نے کہا کہ ’’تعلیمی اور معاشی بااختیاری سے سماجی ترقی اور تبدیلی آتی ہے۔ اس لیے بچوں کے لیے مسلسل ریزرویشن کا مطالبہ کرنا کبھی بھی اس دائرے سے باہر نہیں نکل پائے گا۔ یہ ایک ایسا مسئلہ ہے جس پر ہمیں بھی توجہ دینی ہوگی۔‘‘ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ’’طلبا کے والدین اچھی ملازمتوں میں ہیں اور بہت اچھی آمدنی حاصل کر رہے ہیں، اس کے باوجود بچے ریزرویشن کا مطالبا کر رہے ہیں۔ دیکھیے، انہیں ریزرویشن کے دائرے سے باہر آ جانا چاہیے۔ اس مسئلے پر گہرے غور و فکر کی ضرورت ہے۔ ای ڈبلیو ایس اور کریمی لیئر کے درمیان بھی کچھ فرق ہونا چاہیے۔‘‘

ای ڈبلیو ایس کا ذکر کرتے ہوئے جسٹس ناگ رتنا نے کہا کہ ای ڈبلیو ایس کے معاملے میں سماجی پسماندگی نہیں بلکہ صرف معاشی پسماندگی ہوتی ہے۔ اس لیے کریمی لیئر کے معاملے میں معیار ای ڈبلیو ایس کے مقابلے میں زیادہ نرم ہونا چاہیے۔ اگر دونوں کو برابر مان لیا جائے تو پھر کوئی فرق باقی نہیں رہے گا۔

جسٹس ناگ رتنا نے کہا کہ اگر کوئی سماجی اور تعلیمی طور پر پسماندہ ہو، لیکن والدین ریزرویشن کا فائدہ اٹھا کر ایک حد تک تعلیم حاصل کر چکے ہوں، دونوں آئی اے ایس افسر ہوں یا دونوں سرکاری ملازمت میں ہوں، تو وہ ایک بہتر سماجی حیثیت میں ہوتے ہیں۔ سماجی ترقی موجود ہوتی ہے۔ اب حکومت کے ایسے احکامات ہیں جو ان تمام لوگوں کو اس زمرے سے باہر کر رہے ہیں اور وہ اس اخراج پر سوال اٹھا رہے ہیں۔ اس پہلو کو بھی مدنظر رکھنا ہوگا۔ تاہم، بنچ نے عرضی پر نوٹس جاری کر دیا۔

Follow us: WhatsAppFacebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔




0 Votes: 0 Upvotes, 0 Downvotes (0 Points)

Leave a reply

Loading Next Post...
Search Trending
Popular Now
Loading

Signing-in 3 seconds...

Signing-up 3 seconds...